شعر و شاعری

غزل

Spread the love

شاعرہ: منصورہ من

درد کے ریگزار میں گزری

زیست یوں دشتِ خار میں گزری

بعد تیرے یہ زندگی اپنی

’’موت کے انتظار میں گزری‘‘

ہجر کی رات اک قیامت تھی

رنج و غم کے حصار میں گزری

زندگی مختصر نہیں لیکن

جانے کیوں اختصار میں گزری

اس نے مڑ کر نہ دیکھنا چاہا

عمر جس کے خمار میں گزری

اپنے حصے میں تھے فقط آنسو

بس! انہی کے شمار میں گزری

حرکتِ قلب بند ہونے تک

ایک زہنی فشار میں گزری

کانچ کے خواب رکھنے والوں کی

پتھروں کے دیار میں گزری

ہائے اس روح کی اذیت دیکھ

جسم و جاں کے مزار میں گزری

منؔ کا مندر تو ڈھے گیا کب کا

زیرِ ملبہ غبار میں گزری

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *