شعر و شاعری
اس شہر کا کوئي راستہ ياد ہے
فرحت ضياء راٹھور ہمبر گ
ٹم ٹماتا ہؤا اک ديا ياد ہے
دل سے اٹھتا ہوا شور سا ياد ہے
موت سے اور کيا ہم صلہ مانگتے
زندگي نے ہميں جو ديا ياد ہے
روشني کي کرن پھر کہيں بجھ گئي
آندھيوں کو ہي ايسي ادا ياد ہے
جس کے چہرے پہ اپنا پتا ڈھونڈتے
ہم کو ايسا نہ کوئي ملا ياد ہے
ايسے ديکھے کرم ہيں کہ دل ڈر گيا
دوستوں نے جو کي وہ وفا ياد ہے
ہار جاتے ہيں آ کے مقدر جہاں
ہم کو ايسا بھي اک مرحلہ ياد ہے
جس ميں تيري تمنا کي ہو نہ تڑپ
ہم کو ايسي نہ کوئي دعا ياد ہے
آئے ہيں دير بعد اس شہر ميں ضياء
اس شہر کا کوئي راستہ ياد ہے

