اسلامی تعلیماتشخصیاتمذہب

معراج النبیؐ سائنس اور ایمان کا سنگم

Spread the love

تحریر: آمنہ خواجہ

رات کے سنّاٹے میں جب کائنات اپنی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی، وقت کا ایک لمحہ ایسا آیا جس نے صدیوں کو جگمگا دیا۔ وہ لمحہ جس میں زمین و آسمان کے فاصلے مٹ گئے، وہ گھڑی جس میں ایک انسان نہیں بلکہ رحمتِ دو عالم ﷺ ربِ کائنات کے حضور پہنچے۔ معراج النبی ﷺ محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایسا نورانی معجزہ ہے جس پر عقل حیران اور دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
روشنی کی رفتار اور وقت کا راز
آج سائنسدان کہتے ہیں کہ روشنی سے تیز کوئی سفر ممکن نہیں۔ وقت ایک نسبتی حقیقت ہے، اور اگر کوئی روشنی کی رفتار کو چھو لے تو وقت رک بھی سکتا ہے اور پلٹ بھی سکتا ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت میں یہی کہا گیا ہے کہ وقت اور فاصلہ دونوں بدل سکتے ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو کچھ سائنس محض تھیوری کہتی ہے، وہی حقیقت چودہ صدیوں پہلے معراج کے معجزے میں جلوہ گر ہوئی۔ ایک رات کا سفر، سات آسمانوں کی سیر، جنت و دوزخ کا مشاہدہ اور ربِ کائنات سے ہمکلامی — یہ سب کچھ وقت کی گرفت سے آزاد ہو کر وقوع پذیر ہوا۔

کائنات کی وسعت اور معراج کی حقیقت

فلکیات بتاتی ہے کہ کائنات اربوں نوری سالوں پر پھیلی ہے۔ نوری سال کا مطلب ہے وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرے، اور یہی روشنی انسان کے لیے آج بھی ناقابلِ گرفت ہے۔ مگر معراج میں لمحوں نے صدیوں کا سفر طے کر لیا۔ آج سائنس “ورم ہولز” اور “کوانٹم ٹنلنگ” کی بات کرتی ہے، یعنی خلا میں ایسی راہیں موجود ہو سکتی ہیں جہاں وقت اور فاصلے کی حدیں ختم ہو جائیں۔ کیا یہ سب کچھ معراج کے اس راز کو نہیں چھوتا جو آج بھی عقل کو حیران کر دیتا ہے؟

خواب نہیں، حقیقت

مکہ کے کفار نے کہا یہ تو ناممکن ہے، مگر نبی اکرم ﷺ نے بیت المقدس کی وہ نشانیاں بیان کر دیں جو آپ کی آنکھوں نے دیکھیں تھیں۔ اگر یہ خواب ہوتا تو ایسی تفصیلات ممکن نہ ہوتیں۔ یہ سفر جسمانی بھی تھا اور روحانی بھی، عقل کے ترازو پر تولیں تو محال لگے، ایمان کے چراغ سے دیکھیں تو سراپا حقیقت۔

سائنس اور ایمان کا مکالمہ

سائنس کے پاس سوال ہیں، ایمان کے پاس جواب۔ سائنس کہتی ہے “ٹائم ڈائلیشن” ممکن ہے، ایمان کہتا ہے یہ ہو چکا۔ سائنس کہتی ہے “کوانٹم جمپ” میں ذرات ایک پل میں اپنی جگہ بدل لیتے ہیں، ایمان کہتا ہے نبی ﷺ ایک رات میں سات آسمانوں تک پہنچ گئے۔ سائنس ابھی بھی “ٹائم ٹریول” کو فلموں اور نظریات تک محدود رکھتی ہے، ایمان کہتا ہے کہ معراج میں یہ سب کچھ حقیقت کا روپ دھار چکا
معراج ایک ایسا معجزہ ہے جو سائنس کی محدود عقل سے ماورا مگر اس کی تلاشوں کے ہم قدم ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کا علم خواہ کتنا بھی بڑھ جائے، وحی کی روشنی اور اللہ کی قدرت اس سے بلند تر ہے۔ معراج ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کائنات کی گہرائیوں میں اترنے کے لیے صرف عقل نہیں، ایمان کی آنکھ بھی ضروری ہے۔
معراج النبی ﷺ دراصل انسانیت کے لیے یہ پیغام ہے کہ کائنات کی اصل حقیقت محض مادہ نہیں بلکہ وہ نور ہے جو اللہ کی قدرت سے پھوٹتا ہے۔ آج سائنس جسے “کل” کہتی ہے، ایمان اسے “گزشتہ رات” کہہ کر زندہ حقیقت بنا دیتا ہے

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *