گوشۂ ادب

جب میں نے خدا کو قریب سے دیکھا

Spread the love

تحریر امتہ الجمیل سیال جرمنی

یوں تو انسانی زندگی ہزاروں واقعات سے مرقع ہے اور ہر واقعہ اپنے حوالے سے اپنے نقوش پردۂ ذہن پر منقش کر دیتا ہےبعض اوقات جب کبھی انسان صحرائے ماضی کی خاک چھانتا ہے تو کچھ واقعات

روح کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں ۔ایسا ہی  ایک واقعہ جو باوجود چاہنے کے میں بھول نہیں پائی کہ خدا کے انصاف اور اس کے قرب کا نظارہ اس سے زیادہ اور کیا ہو گا ۔ میں اس واقعہ کو الفاظ کی خوبصورتی اور شاہکار الفاظ سے نہیں سجاؤں گی سادہ انداز تحریر ہی اپناؤں گی ۔

 سردیوں کی ایک یخ بستہ رات میں فیصل آباد سے پنڈی کی طرف عازم سفر تھی میری سیٹ بیک ڈور کے ساتھ بائیں جانب تھی اور ریزرویشن کی وجہ سے کسی دوسرے کو ساتھ بیٹھنے کی جرات نہ ہوئی۔(میں یہ بتاتی چلوں کہ ہم آرمی آفیسرز کو جہاز اور ٹرین سے ہاف کنسیشن پہ سفر کی سہولت دی جاتی ہے اور ٹرین میں اے سی سلیپر میں محفوظ سفر سمجھا جاتا ہے اس مرتبہ نہ جانے کیوں کوچ سے ہی سفر کیا شاید شوق بھی تھا مجھے ۔ان دنوں ربوہ سے فلائینگ کوچ  کی سہولت نہیں تھی  کزن کی شادی اٹینڈ کرنے کے بعد امی ابو اور سب نے شاہانہ انداز سےمجھے فیصل آباد تک سی آف کیا )میری دائیں طرف کی رو میں میرے سامنے والی سیٹ پر کوچ کنڈکٹر براجمان تھا۔ میں برقعہ میں ناک تک نقاب کیے بڑی بڑی گاگلز لگائے خاموشی سے سفر کر رہی تھی اور میرا بیگ سیٹ کے نیچے میرے پاؤں آوٹ میں پڑا تھا-

دن کا اجالا ختم ہورہا تھا اور رات کی کالی چادر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی  کوچ میں موجود مسافر بھی خواب خرگوش کے مزے لینے لگے کبھی کبھی اکاّ دکّا بچے کے رونے کی آواز یا کسی مسافر کے کھانسنے کی آواز کوچ کے ماحول میں اک ارتعاش سا پیدا کر دیتی کچھ مسافروں کے خراٹوں کی آواز کسی ٹیپ ریکارڈ میں پھنسی کیسٹ کے بے ہنگم  شور کی طرح ماحول کو بےچین کیے ہوئے تھی ۔ سڑک پر آنے جانے والی ٹریفک کے ہارن کی آواز اور  لائیٹ کبھی اندھیرا کبھی اجالا کا منظر پیش کر رہی تھی ۔رات کی دیوی نے اب پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔

 اچانک مجھے اپنے پاؤں پہ کوئی چیز چلتی محسوس ہوئی میں گھبرا کے کھڑی ہوگئی میں نے دیکھا کہ سامنےبیٹھے کنڈکٹرنے جلدی سے اپنے پاؤں سمیٹےتو مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔وہ میرے بیگ کو اپنے پاؤں سے پرے کھسکا کر میرے پاؤں کو ٹچ کر رہا تھا۔میں نے غصہ سے اسے گھورا ، سوچا شائد کچھ غیرت ہوگی تو  آجائےگا۔ لیکن وہ مسلسل مجھے اسی طرح تنگ کرتا رہا اور میں معاشرتی خوف کی ماری آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی رہی۔ کوئی شور کوئی ہنگا مہ نہ کیا کیوں کہ میں اس جنت نظیر معاشرے میں حوا کی ایک بیٹی تھی ۔خدا خدا کر کے صبح کی سپیدی نمودار ہوئی اور کوچ  پنڈی سے چند میل پہلے روات شہر میں رکی اور وہ کنڈکٹر نیچے اترا۔کچھ مسافر اپنی منزل پر اترے اور کچھ نئے مسافر کوچ میں سوار ہوئے کوچ چلنے لگی تو اچانک باہر سے چیخوں کی آوازیں آنی شروع ہوگئیں ڈرائیور نے کوچ روکی جلدی سے نیچے اترا۔

اور چند منٹ کے بعد خون میں لت پت ایک نوجوان  اسی سامنے والی سیٹ پرلا  کر لٹا دیا گیا میں نے مڑ کر جو دیکھا تو یہ وہی کنڈکٹر تھا کہیں کوچ کو چلنے کا اشارہ دیتے  ہوئےسلپ ہوکر کوچ کے پہیئے کے نیچے آگیا تھا۔

 ڈرائیور نے بس پہلے چلا دی وہ ابھی باہر تھا۔ تیزی سے چڑھنے کے چکر میں اس کی ٹانگیں پہیّےکے نیچے آگئیں تھیںاور میرے سامنے اپنی اسی کٹی ٹانگ کے ساتھ جس سے وہ ساری رات مجھے تنگ کرتا رہا تھا بے بسی کی تصویر بنا پڑا تھا اور معافی کے انداز میں اس کے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر میں نے اسے دلاسادیا اور کہا کہ اللہ معاف کرنے والا ہےاور پھر اپنے پیشے کے تقدس کو سامنے رکھتے  ہوئے  میں نے اس کی بھر پور مدد کی اور اس کے جڑےہوئے ہاتھ دیکھ کر اسے یقین دلایا کہ میں نے تمھیں کوئی بد دعا نہیں دی بلکہ میں دعا کرتی ہوں کہ خدا تمھیں کامل شفا دے اسے پھر قریبی فوجی فاونڈیشن ہسپتال میں لے جایا گیا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مکمل شفا کے ساتھ وہاں سے اپنے گھر گیا ہوگا ۔روات سے پنڈی تک کاسفر استغفار کرتے ہوئےگزرا ۔

اپنے خدا کو اپنے اتنا نزدیک دیکھ کر اس واقعہ کے بعد میں رب کے اور بھی قریب ہوگئی اپنے رحیم خدا کو اپنے اتنا قریب پایا۔ وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس کے قرب میں وہ لذت ہے جو دنیا کی لذتوں کو مات کرتی ہے جب جب جب  اس واقعہ کو یاد کرتی ہوں حمد و شکر کے ساتھ حیرت  میں ڈوب جاتی ہوں ۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *