گوشۂ ادب

بھیگتی لڑکی

Spread the love

تحریردعا علی حیدرآبادDUA ALI

آج موسم صبح ہی سے بے حد خوبصورت تھا۔ بادل گِھر گِھر کر آ رہے تھے۔ رم جھم پھوار دھرتی کے ساتھ ساتھ مائرہ کے من کو بھی بھگو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر دھنک کے رنگ دکھائی دے رہے تھے وہ رنگ جو محبّت کی عطا ہوتے ہیں۔ محبّت دلوں پر اترنے والے صحیفے کی مانند ہوتی ہے جو انسان کو سراپا بدل کے رکھ دیتی ہے۔ یہ تو ویسے بھی محبّت کی پہلی بارش تھی۔ شاویز بھی خوبصورت موسم کا شیدائی تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ پا کر خود کو دنیا کے خوش نصیب ترین افراد سمجھ رہے تھے۔ بنا پنکھ لگائے ہوا میں اُڑ رہے تھے۔

مائرہ کبھی خود کو پرسکون نیلگوں سمندر کے درمیان محسوس کرتی کبھی گھنے خوبصورت جنگلوں کے بیچ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیر کرتا ہوا پاتی۔ غرض یہ کہ وہ دونوں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئے تھے جہاں ہر طرف خوبصورتی، محبّت اور سکون تھا۔

 شاویز دیکھو! موسم کتنا خوبصورت ہے بالکل ہماری محبّت کی طرح۔ آسمان کی طرف دیکھو! ایسا لگتا ہے ان گہرے سرمئی بادلوں میں میرا اور تمہارا نام لکّھا ہو۔ شاویز محبّت سے مسکراتے ہوئے مائرہ کی طرف دیکھا۔ تمھیں ہر جگہ میرا اور اپنا نام لکّھا ہوا نظر آتا ہے؟ تو اور کیا غور سے آسمان کی طرف دیکھو۔ آسمان کی طرف کیا دیکھوں۔ تمہارے چہرے سے نظر ہٹے تو کہیں اور دیکھوں ناں۔ مائرہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اسی وقت بارش شروع ہو گئی۔ مائرہ کی کھلکھلاہٹ اور بارش کی رم جھم شاویز کو لگا جیسے جلترنگ بج اُٹھے ہوں۔ موسم مزید حسین ہو گیا۔

یہ موسم کی پہلی بارش تھی جو شاویز کے ساتھ کی وجہ سے مزید اچّھی لگ رہی تھی۔

مائرہ گنگنائی،

 یہ بھیگے بھیگے موسم کی خبر دیتی ہوائیں ہیں

دلوں کو گدگداتی سی فضائیں ہیں

جو بادل گِھر کر آئے ہیں

یہ بارش کا سندیسہ لائے ہیں

پہلی پہلی بارش ہے

وہ آموں کے درختوں میں چھپی کوئل

اپنی کُوک میں اپنے ساتھی کو بلاتی ہے

اسے بھی پیا ملن کی خواہش ہے۔

مائرہ بانہیں پھیلائے، لان کے بیچ و بیچ کھڑی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہوا میں اُڑ رہی ہو یا بادلوں میں تیر رہی ہو۔ مائرہ کے لیے یہ کیفیت ناقابلِ بیان تھی۔ وہ اس کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان نہیں کر پا رہی تھی۔ شاویز تم نے کبھی سنا بارش کچھ کہتی ہے۔ شاویز نے ہنستے ہوئے کہا، مائرہ بارش کچھ نہیں کہتی بس اپنی بوندوں سے دل کی بنجر زمین کو سیراب کرتی ہے۔ شاویز ! تم غور سے سنو بارش کچھ کہتی ہے۔ اچھا بتاؤ بھلا کیا کہتی ہے؟ میں بھی تو سنوں۔

مائرہ نے کہا،

دھوم مچاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

گیت سناتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

سندر خواب دکھاتی ہے جب بھی چھت پر جاتی ہوں

مانگ سجاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

کیا میں کوئی بچّی ہوں کہتی ہے میں اچّھی ہوں

ناز اُٹھاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

میرے جسم سے مس ہو کر جذبوں سے بے بس ہو کر

ساز بجاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے بوندوں کی من مانی سے

آگ لگاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے

میرے لبوں پر ہے یہ دعا ساتھ مرے ہو مرا پیا

جوت جگاتی رہتی ہے بارش کچھ کچھ کہتی ہے۔

 یہ بارش کچھ کچھ نہیں بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ شاویز نے ہنستے ہوئے کہا۔ یہی تو میں کہہ رہی ہوں کبھی بوندوں کی جلترنگ کو سنو اور ایسے ہی کرو جیسے میں کر رہی ہوں دونوں بانہیں پھیلا کر، آنکھیں بند کر کے۔ چہرے پر گرنے والی بوندوں کو محسوس کرو۔ پھر تمھیں معلوم ہو گا کہ یہ کیا کہتی ہے۔ شاویز زور سے ہنسا۔ مائرہ نے شاویز کو محبّت سے دیکھتے ہوئے کہا، ہمارے پیار کی اس پہلی بارش میں ایک ساتھ بھیگنا کتنا اچّھا لگ رہا ہے ناں ! ہاں بہت اچّھا لگ رہا ہے۔ کہتے ہیں پہلی بارش میں جو دعا مانگو قبول ہوتی ہے۔ مائرہ نے کہا۔ اچّھا تو تم نے کیا دعا مانگی؟ کیوں بتاؤں!

 بتانا تو پڑے گا۔ شاویز نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ مائرہ نے جذب سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا، میں نے رب سے آپ کا ساتھ مانگا ہے عمر بھر کے لیے اور یہ دعا مانگی کہ آنے والے ہر موسم کی بارش میں ہم دونوں ساتھ ہوں۔ شاویز نے اسے محبّت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، سب کچھ تو تم نے مانگ لیا اب میں اور کیا مانگوں؟ شاویز نے ڈالی سے سرخ گلاب توڑ کر مائرہ کو دیا۔ مائرہ نے گلاب کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے کہا، شاویز تمھیں پتا ہے ان پھولوں کی خوشبو کیا کہتی ہے؟ بتاؤ کیا کہتی ہے؟ مائرہ نے کہا، سرخ گلابوں کی خوشبو فضا میں بکھر کر ایک گہرا پیغام دے رہی ہے کہ تم صرف میرے ہو۔ یہ رنگ برنگی تتلیاں مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں۔ شاویز نے ہنستے ہوئے مائرہ کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ مائرہ کے چہرے پر قوس و قزح کے جھلملاتے رنگ بکھر گئے۔ وہ شرماتے ہوئے شاویز کی بانہوں میں سما گئی۔ شاویز آپ کو معلوم ہے ناں مجھے املی بہت پسند ہے۔

آپ مجھے املی توڑ کر دیجیے۔ شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا، ہاں مجھے معلوم ہے۔ ایک منٹ رکو! ابھی آیا۔ شاویز نے املی کے پیڑ سے ڈھیر ساری کھٹّی کھٹّی املیاں توڑ کر اس کی جھولی میں ڈال دیں۔ مائرہ تم اتنی کھٹّی املی کیسے کھا لیتی ہو؟ تم بھی کھاؤ شاویز بڑی زبردست ہے۔ مجھے املی نہیں جامن پسند ہے۔ اگر تم میرے ہاتھ سے کھاؤ تو مزہ دوبالا ہو جائے گا۔ مائرہ نے کہا، یہ بات ہے تو کھلاؤ زرا مجھے یہ املی اور جامن۔ اتنے میں بارش مزید تیز ہو گئی۔ مائرہ کے چہرے کو بھگوتی بارش کی بوندیں بہت اچّھی لگ رہی تھیں۔ اس کا چہرہ سفید ململ کی طرح لگ رہا تھا۔ شاویز نے مسحور سا ہو کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ زرا اپنی آنکھیں تو بند کرو۔ شاویز کو اپنے اتنے قریب پا کر مائرہ کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ اس نے اپنے دل کی دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہا، شاویز میں تمہاری شرارت کو خوب سمجھتی ہوں۔ مائرہ بھاگ کر املی کے پیڑ تلے جا بیٹھی۔ بارش کی بوندیں املی کے پیڑ سے گر کر مائرہ کے خوبصورت، متناسب جسم کو گیلا کر رہی تھیں۔ شاویز مزید دیوانہ ہو گیا۔ مائرہ نے شرارت سے مسکراتے ہوئے شاویز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

 تمہاری دید کی خاطر مری آنکھیں ترستی ہیں

کہ جب بارش برستی ہے

تمہاری بات کانوں میں رس گھول دیتی ہے

کہ بارش کے حسین قطرے مرے رخسار پر آئے

تمھیں وہ پھول لگتے تھے

کہا تم نے

انھیں میں چوم لیتا ہوں

مری شرم و حیا اس دم بڑی بے باک ہوتی تھی

کمر میں ہاتھ ڈالے ہم

بہت ہی دیر تک بھیگے

کہا میں نے:تمہاری شربتی آنکھیں

مجھے مدہوش کرتی ہیں

 تمہارے لمس کا بادل

مجھے پر جوش کرتا ہے

 تمہارے پیار کی بارش

بڑی جل تھل سی کرتی ہے

مجھے پاگل سا کرتی ہے۔

مائرہ بارش میں جھومتی، گنگناتی بے حد معصوم اور بھولی بھالی لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر طمانیت کے گہرے رنگ تھے جیسے آسمان سے کوئی حُور یا اپسرا آنگن میں اُتر آئی ہو۔ شاویز! مجھے بارش سے کچھ کہنا ہے۔ شاویز اس کی بات سن کر ہنس پڑا۔ اگر بارش تمہاری بات سن لے تو مجھے بھی ضرور بتانا میں بھی اس سے کچھ کہوں گا۔ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ بارش سنتی بھی ہے۔ مائرہ بولی، بارش سنتی بھی ہے اور کہتی بھی ہے۔ بلکہ ہم سے گفتگو کرتی ہے۔ کبھی ان بوندوں کا جلترنگ سنو۔

مئرہ نے ایک بار پھر اپنی بانہیں پھیلا دیں اور دوپٹّے کو لہراتے ہوئے بولی،

 بدن میرا بھگوتی ہے مرا آنچل اُڑاتی ہے

ہوا ایسے چلّاتی ہے مجھے بارش سے کہنے دو

برستے ابر کے نیچے کبھی میں بیٹھ جاؤں تو

گھٹا آ کر اٹھلاتی ہے مجھے بارش سے کہنے دو

تری یہ عادتیں ہر گز مجھے اچّھی نہیں لگتیں

تو سوتوں کو جگاتی ہے مجھے بارش سے کہنے دو۔

مائرہ کو یوں گنگناتے دیکھ کر شاویز کے لبوں پر تبسّم پھیل گیا۔ تیز بارش کے ساتھ ٹھنڈی، خوش کُن ہوا چل رہی تھی۔ مائرہ کو شاویز کا ساتھ پا کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ساری کائنات محوِ رقص ہو۔ اسے اپنے جسم سے چھوتی ہوا ایسا احساس دلا رہی تھی جیسے اس کے پورے وجود میں شاویز کے پیار کی خوشبو میں بس گیا ہو۔ خوشی مائرہ کے ہر مسام سے پھوٹ رہی تھی۔ رم جھم برستی بارش پیار کے سریلے گیت سنا رہی تھی۔ بارش میں بھیگتی مائرہ شاویز کے دل میں اتری جا رہی تھی۔ شاویز بولا، لگتا ہے آج بارش رکنے والی نہیں ہے۔ کیا آپ چاہ رہے ہیں کہ بارش رُک جائے؟ شاویز نے جواب دیا، میں نے ایسا کب کہا۔ مجھے تو تم اس بارش میں بھیگتی ہوئی بہت اچّھی لگ رہی ہو۔ شاویز نے مائرہ کی آنکھوں میں جھانکا جہاں پیار کا جہاں آباد تھا۔ وہ مسکرا دیا۔

رات تک بارش رُک گئی اور بادل چھٹ گئے۔ آسمان پر چمکتا ہوا چاند بے حد روشن اور چمکدار تھا بالکل مائرہ کے چہرے کی طرح۔ اس پر فسوں ماحول میں مائرہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی چاندنی میں دُھلی ہوئی، نکھری، نکھری اُجلی، اُجلی۔ ان دونوں کے چہرے محبّت اور ایک دوسرے کی سنگت کی خوشی سے چمک رہے تھے۔ ان کے چہروں کی روشنی چاندنی کو مات دے رہی تھی۔ ان دونوں کا ملن بے حد خوبصورت اور خواب ناک تھا۔ ایسا لگتا تھا ساری کائنات اس ملن پر سرشاری سے جھوم رہی ہو۔

کچھ دن بعد شاویز آفس کے کام کے سلسلے میں دبئی چلا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا مائرہ کو کسی پل چین نہیں ہے۔ ہر دم چہکنے والی مائرہ بسلکل گم سم ہو گئی تھی۔ مائرہ نے اداس نظروں سے آسمان کی جانب دیکھا۔ لگتا ہے آج بھی بارش ہو گی اور مجھے بہت رُلائے گی۔ آج اس کے دل کا کچھ اور ہی موسم تھا۔ آج کی بارش اُداسی اور تنہائی لے کر آئی تھی۔ مائرہ بارش کے قطروں کو اپنی ہتھیلی میذن جذب کرتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئی،

 اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

بُلا لے تو پاس ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے

تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہو گی

بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے

کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مغموم آنکھیں اب

بھگوتی ہیں ترا دامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

سمندروں کے کناروں پہ چلا تھا ہم قدم لیکن

بنا وہ شخص کیوں دشمن یہ بارش نے کہا مجھ سے

ہواؤں نے ترا آنچل اُڑا ڈالا ترے سر سے

بڑی مستی میں ہے یہ ساون یہ بارش نے کہا مجھ سے

ترے ہونٹوں میں سجتی تھی ترے ساجن کے ہاتھوں سے

کبھی املی کبھی جامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

کہیں پردیس میں ہو گا بلا لے یار کو اپنے

نہ یوں بے کار کر جیون یہ بارش نے کہا مجھ سے۔

اسکی آنکھوں کے سامنے بار بار بھیگتی ہوئی مائرہ آکھڑی ہوتی آخر اس سے رہا نہیں گیا روم سے نکل کر باہر بارش میں بھیگنے لگا اوراداس ہوتے ہوئے گنگنانے لگا

سہانا روپ تھا کتنا

جو تم بارش کی رم جھم میں حسیں آنچل کو لہرا کر

اچانک کھل کھلا کر ہنس دیا کرتیں حسیں کچھ اور ہو جاتیں

کہ جیسے کچی مٹی بھی مہک جاتی ہے

 یہ پہلی پہلی بارش سے

دھنک کے رنگ جیسے ہر طرف بکھرے ہوں دھرتی پر

 تیرے آنے سے میرے دل کی گلیوں میں

بہارِ بے خزاں آتی

حسیں کتنا وہ منظر تھا کہ جب بارش میں شوخی سے نہاتی تھیں

حسیں دھیمے سروں میں گیت کوئی گنگناتی تھیں

میری سانسیں کہ جیسے تھمتی جاتی تھیں

مگر اب خواب جیسے وہ ہوئے منظر

وہ بارش وہ تمہارا بھیگنا اور گنگنانا بھی

یہ سب ماضی کی باتیں ہیں فقط یہ حال ہے میرا

کہ میں رم جھم سی بارش میں

اکیلا بھیگتا ہوں گنگناتا ہوں

تیرے غم میں اشکوں میں بہاتا ہوں

کچھ دیر تک بارش میں بھیگنے کے بعد مائرہ کو کال کی اور اداس بھرے لہجے میں کہا

 آج یہاں موسم بہت زبردست ہے بڑے زور کی بارش ہورہی ہے کاش آپ یہاں میرے پاس ہوتیں مائرہ آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہنے لگی شاویز آج یہاں بھی بارش ہو رہی ہے آپ کب آئیں گے جلدی آجائیے ناں وہ کہنے لگا ہاں جلدی آجاوں گا مائرہ کی روتی ہوئی آواز اسے بہت بے چین کر رہی تھی اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھامائرہ نے کال کاٹ دی اس کے اس طرح کال کاٹ دینے سے وہ بہت اداس ہوگیا تھا وہ فون بند کر کے واپس صحن میں آ ٓکر بیٹھ گئی اور آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہنے لگے:یہ بھیگی رت ہے ساون کی

مری ان بھیگی آنکھوں میں

ہے یاد یں میرے ساجن کی

چھپا ہے بادلوں کی اوٹ میں چندا

کبھی چہرہ دکھا تا ہے

کبھی چہرہ چھپاتا ہے

بہت سی یادیں ساجن کی مرے دل میں سجاتا ہے

جھڑی پھر لگ گئی ہے آج ساون کی

گھٹا کھل کر برستی ہے

جھڑی یادوں کی آنکھوں سے

یہ بارش سی برستی ہے

یہ آنکھیں بھیگی بھیگی ہیں

یہ بھیگی رت ہے ساون کی

اسے شاویز کے بنا بلکل چین نہیں آرہا تھا رات گہری ہوتی جا رہی تھی اور بارش اور تیز وہ آکر کرسی پر دیر تک بیٹھی اس کی یادوں میں اور بارش کی بوندوں میں بھیگتی رہی اس کے چہرا بہت اداس تھا اداس ہوتے ہوئے سوچنے لگی

میں اپنے صحن میں کرسی پہ بیٹھی ہوں

بھیگتی ہوں آج رم جھم سی بوندوں میں

گذشتہ سال بھی جاناں

یہی رم جھم سی بارش تھی مگر تم ساتھ تھے میرے

نہ جانے کتنے لمحے قرب میں ہم نے گذارے تھے

نہ جانے کتنی بھیگی ساعتیں دل میں سمیٹی تھیں

میری زلفیں کہ جن سے قطرے بارش کے ٹپکتے تھے

ترے شانوں پہ بکھری تھیں

میں اپنی موند کر آنکھیں حسیں سپنوں میں کھوئی تھی

مگر یہ سب گذری باتیں ہیں

میں اپنے صحن میں کتنی اکیلی ہوں یہ بارش تیری یادوں کو جگاتی ہے

مجھے بے کل سا کرتی ہے مجھے پاگل سا کرتی ہے

مجھے بارش سے کہنے دو کہ اتنا آج یہ برسے مجھے جھل تھل سا یہ کر دے

تمہاری یاد میں پاگل مجھے کر دے

کچھ دیر بعد بارش رک گئی وہ اٹھی اور روم میں آکر لیٹ گئی اس کی آنکھ کب لگی پتا نہیں چلا فون کی مسلسل بجتی ہوئی رنگ ٹون سے اس کی آنکھ کھل گئی وہ جلدی سے اٹھی اور کال اٹینڈکی تو شاویز کی آواز سنتے ہی اس کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی شاویز نے اسے اپنے آنے کی اطلاع د ی کہ وہ گیارہ بجے کی فلائیٹ سے واپس آرہا ہے وہ اس کے آنے کی خبر سن کر خوشی سے کھل اٹھی فون بند کر کے باہر لان میں آکر ننگے پاوں پودوں کے پاس بیٹھ گئی بارش کے بعد پودوں میں کچھ اور ہی نکھار آگیا تھا لان آج بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا جیسے انھیں بھی شاویز کے آمد کی اطلاع مل چکی ہو آج کی صبح کچھ زیادہ ہی تابناک لگ رہی تھی اس نے مسکراتے ہوئے کہا اتنی روشن صبح اس کے جسم میں سرشاری کی کیفیت تھی شاویز کی آمد کی اطلاع نے اس کے اداس چہرے پر رنگ بکھیر دیئے تھے اس نے سرخ گلابوں کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا سرخ گلاب جذبات واحساس کے عکاس ہوتے ہیں

 اور اس نے بہت سارے مہکتے ہوئے سرخ گلاب توڑ لیے اس کی رنگت بھی سرخ گلابوں کی طرح سرخ ہو رہی تھی وہ پھول گلدان میں سجاتے ہوئے گنگنانے لگی

 تمہارے آنے کی آہٹ سی سنی میں نے

ہزاروں رنگ میری روح میں اترے

میری شوخی شرارت لوٹ آئی ہو سبھی جیسے

فضائیں گنگناتی ہیں ہوائیں گیت گاتی ہیں

یہ بادل گھِر کے آئیں ہیں

سندیسہ تمہارا لائیں ہیں

برستی ہیں یہ جو بوندیں ہیں

یہ ہنس کر مجھ سے کہتی ہیں

دعا کچھ یاد ہے تم کو

جو تم چھتری میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی

شرارت جب وہ کرتا تھا

اسے آنکھیں دکھاتی تھیں

اسی کے چوڑے سینے میں پھر اپنا منہ چھپاتی تھیں

مگر تم ہنستی رہتی تھیں،سنو پھر آرہا ہے وہ

سنی تم نے وہ آہٹ سی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *