گوشۂ ادب

گونگی بہری تصویر

Spread the love

تحریر بامی

ہنستی مسکراتی سب کے ساتھ اشاروں اشاروں میں باتیں کرنے والی شنوں سے کون واقف نہیں تھا مگر ہرگھر کے فرد کی پاتال تک خبر رکھنے والی شنوں کے من کی کوئی خبر نہ رکھتا تھا۔ کبھی کبھی اس کے چہرے پر ایک سایہ سا۔۔اسکے دل کے دکھ کی درد کی غمازی کرتا ضرور نظر آتا جو وہ اپنے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا لیتی۔وہ خاموش رہتی تھی۔کسی سے اپنےدل کی بات نہیں کہ سکتی تھی۔گونگی بہری سوچیں اسے گھیر لیتیں۔ کاش۔ میرا بھی کوئی اپنا گھر ہوتا وہ بھی کبھی گلاب موتیا پہن کر۔ڈولی میں لال جوڑا پہن کر پیا کے دیس سدھارتی۔ مگر۔ وہ یہ سوچ کر رہ جاتی کون۔ اس سے شادی کرے گا۔ اس کی بچپن کی کمی۔ قوت گویائی و شنوائی کی محرومی اس کے خوبصورت چہرے کے خدوخال پر حاوی ہو جاتی۔ وہ دل مسوس کے رہ جاتی۔۔
اکلوتی بھابھی کے ناز اٹھاتی پھر بھتیجے اور بھانجوں کو گود اٹھاتے اٹھاتے اس کے اپنے بالوں میں چاندی اتر آئی۔ پھرماہ وسال گزارتے گزارتے انہی بھتیجے بھانجوں کی اولاد کو پالتی، بہلاتی، کھلاتی بظا ہر دل کے ارمان پورے کرتی نظر آتی شنوں کے دل کی اندر کی تنہائی کا دکھ کوئی نہ سمجھ پایا۔
ماں باپ تو۔اس بے زبان کوبھائی بھابھی کے حوالے کرکے اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔پھر ایک دن بھابھی بھی دل کا دورہ پڑنے کے بعد اس کو اکیلے چھوڑ گئی۔
یہ گونگی بہری شنوں۔ دل کے سارے شکوےبس ایک ہی ذات کے ساتھ کرتی رہی۔ اور وہی اس بے زبان کی زبان سن سکتا تھا۔جان سکتا تھا۔ پھر اس ذات نے اس بے زبان کی سن لی۔۔
ایک دن۔۔ سچ مچ لال جوڑا پہن کرپیبسٹھ سالہ دلہن کے روپ میں۔ گلاب موتیاکی خوشبو میں بسی شنوں۔پیا کے سنگ اپنا گھر بسا نے چل دی۔ جو گھر ستر سالہ دولھے کی بیوی کی وفات کے بعد اجڑا پڑا تھا۔آج گونگی بہری تصویر کے گونگے جذبوں کو زبان اور احساسات کو شنوائی مل گئی تھی۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *