گوشۂ ادب

آنکھیں

Spread the love

تحریر سعدیہ تسنیم سحر

ماما نے بچپن میں سمجھایا تھا کہ سوئی دھاگہ کو بےدھیانی سے نہیں برتتے اگر کہیں لگ جائے تو ٹیس اٹھتی ہے اور اگر کسی زخم میں لگ جائے تو زہر بن جاتی ہے تو پھر میں نے اپنی آنکھوں کو بے دھیان کیوں کیا۔ ان پر نظر کیوں نہ رکھی۔۔آنکھیں بھی تو سوئی دھاگے کی طرح ہوتی ہیں نئے نئے سپنے بنتی ہیں۔۔دھیان سے استعمال کرو تو زخموں کو سئ دیتی ہیں مرہم رکھ دیتی ہیں اور بے دھیانی ہو تو زہر بن جاتی ہیں۔

میں نے اس کے چہرے پر ایک بے اختیاری نظر کے بعد دوسری نظر کیوں ڈالی اپنے اپ کو پابند کیوں نہ کیا۔ تاش کے پتوں کی طرح سارے منظر ایک کے بعد ایک کر کے نظروں میں آرہےتھے۔ بان اوف (bhan hof)پر اس کا ملنا۔۔ایک غریب الوطن پاکستانی۔۔اور پھر اونی میں سامنا ہونے پر ایک شناسا مسکراہٹ۔۔مجھے اپنی سب حدود قیود پتہ ہیں یہ میرا خیال تھا۔۔پھر اکثر سامنا ہونے لگا اور ایک دفعہ ایک ہفتہ کے لیے وہ اونی (uni)نہیں آیا تو آنکھوں نے ہر روز اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔۔جیسے ایک منظر دیکھ کر آنکھیں اسکی عادی ہو جاتی ہیں۔ اسکی بیماری اور پھر غریب الوطنی کا سوچ کر اٹھنے والے جذبات نے کب رنگ بدلا پتہ ہی نہ چل سکا۔

 ماما وہ پاکستانی ہے پڑھا لکھا ہے میں اس سے شادی کیوں نہیں کرسکتی ؟میں ماں کے آگےڈٹ گئی باپ کو کیا کہے گی کیسے سب سہے گی یہ اس کی اپنی سزا ہے۔ماں، باپ بھائی سب نے سمجھایا تعلق توڑ لینے کی دھمکی دی لیکن کچھ اثر نہ ہوا میرے بس میں ہوتا تو اپنے جسم کی بانسری بنوا لیتی جو ہر وقت اسے الاپتی رہتی۔۔

ماں باپ کو ہار نہ ماننے کی صورت میں پولیس کی دھمکی میرے پاس تھی۔قانون میرے ساتھ ہے مجھے کس بات کا خطرہ۔ ہر نماز کے بعد خود کو تسلی بھی دیتی کہ میں حق پر ہوں مذہب مجھے اجازت دیتا ہے اپنی مرضی کی شادی کی۔لیکن مذہب مجھے ایسا رابطہ رکھنے سے منع کرتا ہے یہ سوچ کبھی ابھرتی ہی نہیں تھی۔۔

میری جرمن سہیلی جو میرے مذہب سے متاثر تھی مجھے یاد کرواتی کہ تم تو کہتی تھی کہ قران غیر محرموں پر نظر ڈالنے سے منع کرتا ہے نہ اچھی نہ بری بائبل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بری نظر سے نہ دیکھو۔ میں نے اس سے ملنا ہی ختم کر دیا وہ کون ہوتی ہے مجھے میرا مذہب پڑھانے والی۔۔

آج اس اسٹیشن پر بیٹھ کر پچھلے تین گھنٹوں سے میں سوچ رہی ہوں کہ غلطی کہاں ہوئی۔ میں آج ماما کو اپنا آخری فیصلہ سنا کر آئی تھی اور میں نے اسے بھی کہا کہ آج میں اونی نہیں آ پاؤں گی اپنی پیکنگ کرلوں کہ کل مجھے گھر چھوڑنا ہے۔

نجانے کیوں دل بھر آیا خیال بدلانے کو میں اونی آگئی اور 7:25 والی ٹرین پکڑ لی اسے اپنے سے پہلے ٹرین میں دیکھ کر دل کا بوجھ کم ہوا اس کا منہ دوسری طرف تھا میں اس کے قریب اس کو پشت کر کے بیٹھ گئی ارادہ تھا سرپرائز دوں گی لیکن یہ تو مجھے ہی سرپرائز مل گیا اور وہ بھی ایسا کہ روح بلبلا اٹھی۔

وہ اپنے دوست کو کہہ رہا تھا کہ یار سچی یہ شروع کے چند دن بھی اس مرزائی کے ساتھ گذارنے محال ہوں گے۔بے دین۔۔بے حیاعورت۔۔لیکن بہتر مستقبل کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑے گا جس وقت نیشنیلٹی ملی اسی وقت چھوڑ دوں گا تجھے تو پتہ ہے کہ میں اس وقت کتنی مشکل میں ہوں کسی بھی وقت یہاں سے نکال سکتے ہیں۔۔اسکی داستان جاری تھی۔۔جو مجھے ساری دنیا سے پاکیزہ سمجھتا تھا اپ کو حجاب میں دیکھ کر ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ آپ بہت مقدس ہیں۔۔ہرگھڑی مجھے پاکیزہ کہنے والا جو کبھی مجھے ہاتھ نہ لگاتا ہمیشہ وقار کے ساتھ رہتا کبھی کوئی اوچھی حرکت نہ کی وہ کتنا بڑا نقاب لگا کر بیٹھا تھا۔اور میں سمجھتی۔۔کہ میں واقعی اتنی مقدس ہوں۔۔میں حضور سے اجازت بھی لے لوں گی۔اکثر حضور اجازت دے دیتے ہیں اسے بھی کیوں گی کہ احمدی ہو جائے۔ابھی نہیں تو میرا نمونہ دیکھ کر خود ہی احمدیت قبول کر لے گا۔ اتنے اچھے مذہب سے کون دور رہ سکتا ہے۔۔اور میری ساری سوچیں خیالات توقعات اب رہ رہ کر منہ چپیڑیں مار رہے تھے۔۔

اگلے سٹاپ پر میں خاموشی سے اتر گئی۔۔اور اب پچھلے تین گھنٹوں سے سوچ رہی ہوں کہ غلطی کہاں ہوئی یہ آنکھیں واقعی باندھ لیتی ہیں اسی لیے تو ان کی حفاظت کا حکم ہے۔

اسی لیے تو غض بصر کا حکم ہے۔عفت اور پاکدامنی حاصل کرنے کے کیا گر بتائے تھے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں خدا تعالی نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر ڈال لیں اور تمام انداز ناچنا وغیرہ کا مشاہدہ کرلیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں۔ اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم ان نامحرم عورتوں کی زینت کی جگہ کو نہ دیکھیں نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے اور ان کی خوش الحانی اور انکے حسن کے قصے نہ سنیں نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے بلکہ ہمیں چاہیے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھوکر نہ کھاویں کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکر یں پیش آویں یہی پیاری تعلیم تو خدا نے اس پر اتاری تھی اور مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس کو کھول کر بیان کیا تھا پھر میں کیسے بھول گئی میں نے نظروں کو قید کیوں نہ کیا کیوں آوارہ چھوڑ دیا۔۔ابھی بھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی میرے ماں باپ کی دعائیہ گریہ وزاری نے مجھے ٹھوکر سے بچا لیا۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *