نظم ۔ ۔ ۔ فوزیہ مغل
شاعرہ: فوزیہ مغل
خلوص کے ایسے دیے جلائیں
بجھا سکے نہ جن کو مخالف ہوائیں
سدا گونجے مندر کی گھنٹیاں
برابر اذانیں بھی آئیں
ساری نفرتیں بہہ جائیں
گنگا گھاٹ پر اگر من بھی نہلائیں
نفرت کدورت سے دل صاف ہو تو
ہاتھوں کے ساتھ دل بھی ملائیں
گواہ بنا کے گنگا کی لہروں کو
سچی چاہت کا وعدہ کریں
اور پھر وہ وعدے نبھائیں
جستجو ہے اب محبت کی الفت کی سب کو
دل کی باتیں سب کو بتائیں


