غزل ۔ ۔ ۔ فوزی بٹ
شاعرہ: فوزی بٹ
خاموش اس لئے تھی مجھے ڈر خدا کا تھا
چھوڑا نہ ہاتھ میں نے بھی صبر ورضا کا تھا
میں نے ہمیشہ سب کے لئے کی ہے بس دعا
بستی میں سب کے پاس ہنر بد دعا کا تھا
لرزا بھی پھڑپھڑایا بھی لیکن ڈٹا رہا
ننھے دیئے میں حوصلہ تھا اور بلا کا تھا
ترکِ تعلقات کا ہے تجزیہ یہی
دونوں طرف معاملہ جھوٹی انا کا تھا
دامن میں میرےپھول ستارے ہیں مانگ میں
اس میں اثر ضرور کسی کی دُعا کا تھا
خوشبو کا پیرہن لئے یادیں رُلا گئیں
اس میں قصور دوستو کالی گھٹا کا تھا
تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ فوزی تھی روکتی
پر جان جس نے لی وہ کسی آشنا کا تھا


