کہانی چند سو کی خاطر
تحریر: قرأةالعین فاروق۔ حیدرآباد
راشدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی اس کا شوہر امتیاز رکشہ چلاتا ، ان کے بچے پیدا ہونے کے بعد دو تین سال زندہ رہتے اور پھر انتقال کر جاتے ان کا ایک ہی بیٹا راجا زندہ بچا تھا راجا بیس بائیس سال کا جوان لڑکا تھا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے بہت لاڈلا تھا سارا دن گھر میں پڑا رہتا کوئی کام وغیرہ نہ کرتا اسے کچھ کرنے کی فکر بھی نہ تھی اور نا ہی اس بات کی پرواہ تھی کہ اس کے والدین کی عمر ڈھل رہی ھے اب اسے بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے ساری عمر محنت مشقت کرتے کرتے اب اس کے والدین تھکنے لگے تھے ۔
راشدہ دن بھر تین گھروں میں کام کرتی ایک دن وہ حنا باجی کے گھر کام کرنے گئی تو حنا نے اس سے کہا کہ
“میں کل اوپر کی منزل کی صفائی کرواؤں گی مہمان رکنے آرہے ہیں اور چھٹی بلکل مت کرنا “
“جی باجی میں باقی گھروں سے کام نمٹا کر آپ کی طرف جلدی آنے کی کروں گی “
شام کو راشدہ جب گھر پہنچی تو راجا کو ہلکا سا بخار تھا اس نے اپنے والدین کو اپنے بخار کا نہیں بتایا بس چادر اوڑھ کر لیٹا رہا ، صبح ہوئی تو اس کا بخار تیز ہوگیا ، راشدہ کو راجا کی طبیعت ناساز لگی۔
“مجھے تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی “
“اماں مجھے کل سے بخار ہے “
“تونے مجھے کل کیوں نہ بتایا میں تجھے دوائی دلوانے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی “
“اماں تیرے پاس پیسے کب ہیں بلکہ میں نے تجھے ابا سے پیسے مانگتے سنا تھا اور ابا کے پاس بھی پیسے نہ تھے تو میں چپ کر کے چادر اوڑھ کر لیٹا رہا “
“میں پڑوسن سے پیسے ادھار مانگ لیتی”
“اماں ہمارے پڑوسی کونسے امیر ہیں اکثر ہی وہ تجھے پیسے دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اس وقت مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا “
“میں کچھ نہ کچھ کر ہی لیتی کسی نہ کسی سے پیسے مانگ لاتی تجھے دوا دلوا لاتی ، میں آج چھٹی کرلیتی مگر میری مجبوری ہے میں نے دو مہینوں پہلے ایک گھر میں کام شروع کیا ہے وہ مجھے چھٹی نہیں دیں گے اور ایک باجی کے یہاں مہمان آ رہے ہیں مجھے کام پہ جلدی پہنچنا ہے اب تو بتا میں کیا کروں جن باجی کے یہاں مہمان آرہے ہیں ویسے وہ باجی کمروں کی صفائی کے الگ سے پیسے بھی دیں گی مگر تو شام تک ایسے ہی لیٹا رہے گا مجھے تیری فکر ہو رہی ہے”
“کوئی نہیں اماں میں ٹھیک ہوں تو پریشان مت ہو میں خود کسی ڈاکٹر کے پاس چلا جاؤں گا ”
“اور پیسے وہ تو تیرے پاس ہیں نہیں تو تو ڈاکٹر کی فیس کیسے دے گا اور دوائی کہاں سے لے گا”
راشدہ کی بات سن کر راجا چپ چاپ لیٹا رہا اس نے امتیاز کو آواز دی جو گھر کے باہر کھڑا رکشہ صاف کر رہا تھا۔
“آج کام پہ تھوڑا دیر سے جانا راجا کو بخار ہے اسے دوا دلوا کر آجا میں دلوا آتی دوا مگر میری مجبوری ہے میں کام سے چھٹی نہیں کرسکتی اور اگر دیر سے کام پہ گئی تو وہ میری ہمیشہ کے لیے چھٹی ہی نہ کردیں میری باجی غصے کی تیز ہیں ، مجھے معلوم ہے کہ تیرے پاس بھی پیسے نہیں ہیں مگر کہیں نہ کہیں سے بندوبست کر لے ”
“میری بھی مجبوری ہے میں جن بچوں کو اسکول سے لانے لےجانے کی ڈیوٹی دیتا ہوں وہ کچھ دن پہلے ایک جگہ ٹیوشن پر لگے ہیں اور انہیں اسکول اور ٹیوشن سے لانے لے جانے کی ڈیوٹی میری ہے اور ان دونوں جگہ وقت پر پہنچنا ہوتا ہے اور یہ صاحب بھی غصے کے تیز ہیں زرہ سی دیر برداشت نہیں کرتے اور لوگوں پراعتبار بھی کم ہی کرتے ہیں اب تو بتا میں کیسے دیر سے جاسکتا ہوں ، چل ایسا کرتا ہوں کہ بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر آنے کی کرتا ہوں صاحب کا گھر یہاں سے تو نزدیک ہے مگراسکول وہ دور پڑتا ہے واپس گھر آتے ہوئے پیڑول بہت لگ جاتاہے خیر اللّٰہ کرے واپس گھر آتے کوئی سواری یہاں تک کی مل جائے تو کرایہ نکل آئے گا “
” غصہ ۔۔۔۔۔۔ غصہ ۔۔۔۔۔اف غصہ آخر یہ بڑے لوگ ہم غریبوں پر ہی غصہ کیوں نکالتے ہیں ہم غریب ہی مل گئے ہیں انہیں اپنا غصہ نکالنے کے لئے آخر ہم بھی انسان ہیں ہماری بھی سو مجبوریاں ہوتیں ہیں ۔۔۔۔ خیر کیا کرسکتے ہیں اب “
“ابا اماں آپ میری فکر نہ کریں اور آرام سے کام پر جائیں میں خود ہی کچھ نہ کچھ دوا کا بندوست کر لوں گا ، میں اپنے دوستوں سے بات کرتا ہوں وہ یقینن میری مدد کریں گے”
“بیٹا رات کو ہی اپنے دوستوں سے کہہ دیتا تو ابھی صبح تک ٹھیک ہوتا ہمیں یوں اتنی پریشانی تو نہ ہوتی ”
“اماں رات میں اتنا بخار نہ تھا ابھی زیادہ بڑھا ہے اور اب جسم میں درد بھی ہے خیر آپ بے فکر ہوجائیں میری طرف سے”
راجا نے اپنے والدین کو مطمئین کر دیا تو انہیں بھی تھوڑی تسلی ہوئی اور راشدہ نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر راجا پر دم کیا ۔
صبح سویرے ہی ان باتوں کی وجہ سے امتیاز کو بچوں کو اسکول پہنچانے میں دیر ہونے لگی اور وہ جلدی سے گھر سے نکل گیا اور بے دھیانی میں اپنا موبائل فون گھر پر ہی بھول گیا راشدہ بھی اس کے ساتھ کام پر نکل پڑی ۔
راشدہ کا دل آج کام میں نہیں لگ رہا تھا اس کا فون سائلنٹ پر تھا اور وہ بار بار اپنا موبائل فون جاکر چیک کر رہی تھی کہ آیا راجا نے فون کیا ہو اپنی خیریت بتانے کے لئے مگر اس کا کوئی فون نہیں آیا تھا اس نے دو تین بار چاہا کہ خود فون کرکے راجا کی خیریت معلوم کرلے مگر اس کے فون میں بیلنس نہیں تھا اور اسے معلوم نہ تھا کہ راجا کے فون میں بیلنس ہے یا نہیں وہ واپس کام کرنے چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ فون کے پاس آئی اور فون چیک کیا ، راشدہ کی مالکن سلمیٰ اسے بار بار موبائل فون کے پاس جاتا دیکھ رہی تھی اسے راشدہ کی یہ حرکت مشکوک لگی تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی ۔
“میں کب سے دیکھ رہی ہوں تم بار بار اپنا فون چیک کرنے آتی ہو اور تم آج کام بھی ٹھیک سے نہیں کررہی خیریت ہے اگر چوری کی نیت سے اپنے باقی ساتھیوں کو بلوانا چاہ رہی ہو تو میں یہ بتا دوں کہ میرا ایک بھائی پولیس میں ہے چوری کے الزام میں جیل میں بند کروادوں گی “
“نہیں نہیں باجی میں چور نہیں ہوں وہ میرا بیٹا بیمار ہے ”
“بہانے باز ۔۔۔۔ میں جھوٹ برداشت نہیں کرتی ” یہ کہہ کر سلمیٰ نے راشدہ کے ہاتھ سے موبائل فون تقریباً چھینتے ہوئے لیا اور ایک طرف میز پر رکھ دیا اور اس سے کہا
“اب جب تم کام ختم کرو گی تو تمہیں فون واپس دوں گی بلکہ میرے گھر فون لے کر نہ آیا کرو بلکہ ایسے کام تو نہیں چلے گا کہ میں سارا وقت تمہارے پیچھے پیچھے پھرتی رہوں اور تمہاری چوکیداراری کرتی رہوں تم ایسا کرو کہ کہیں اور کام ڈھونڈ لو ایک ہفتے بعد پہلی تاریخ آرہی ہے تم کل آکے اپنا اس مہینے کا حساب کتاب کرلینا “
“باجی مجھے کام سے نہ نکالیں ، میں آئیندہ موبائل گھر پر رکھ کر آؤں گی ”
“جلدی جلدی کام کرو اور ڈرامے بند کرو ” سلمیٰ نے غصے سے کہا
دوسری طرف راجا نے اپنے جگری یار کو فون کیا تاکہ اپنے علاج کے لئے اس سے تھوڑے پیسے مانگ سکے مگر وہ تو ٹرک میں سامان لے کر دوسرے شہر گیا ہوا تھا اور اس نے وہاں سے دو دن بعد لوٹنا تھا پھر راجا نے اپنے دوسرے دوست کو فون کیا تو اس نے پیسے دینے سے معزرت کر لی کہ مہینے کا آخر چل رہا ہے اور مہنگائی بھی اتنی ہوگئی ہے کہ گھر کا خرچہ چلانا ہی مشکل ہے اور کسی دن مزدوری ملتی ہے کسی دن نہیں راجا یہ سن کر ناامید ہوگیا ۔
امتیاز کو رکشہ چلاتے وقت راجا کی فکر ہو رہی تھی اس سے دو بار ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا۔
“چاچا دیکھ کر تو رکشہ چلاؤ خود بھی مروگے مجھے بھی مارو گے” رکشے میں بیٹھی سواری نے کہا
“بس گھر میں کچھ پریشانیاں ہیں “
“چاچا سب کے گھروں میں پریشانیاں ہوتیں ہیں اگر ہم سب ہی اپنی پریشانیوں کو ذہن میں رکھ کر گاڑیاں چلانے لگیں تو پھر تو سڑک پر کوئی بھی سلامت نہ رہے بھئ مجھے بس یہیں اتار دیں میں کسی اور رکشہ میں باقی سفر طے کر لوں گا “
“اب میں دھیان سے چلاؤں گا ”
“میں کیسے یقین کرلوں ۔۔۔۔۔ بس مجھے یہیں اتار دیں ” اس نے رکشہ ایک طرف روکا اور اگلی سواری کا انتظار کرنے لگا اس نے راجا کی خیریت دریافت کرنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کا فون جیب میں موجود نہیں تھا وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا میرا فون کہاں گیا پہلے تو وہ سمجھا کہ شاید کسی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر نکال لیا ہوگا پھر اس نے رکشے کے اندر جھانک کر دیکھا کہ شاید اس میں کہیں نہ گرا ہو مگر وہاں بھی فون نہ نظر آیا پھر اسے ایک دم یاد آیا کہ فون تو وہ گھر پر ہی بھول آیا ہے وہ بس اتنا ہی اپنے آپ سے کہہ پایا” آہ آج ہی بھول کر آنا تھا” اور اسے اپنے آپ پر غصہ بھی آیا ۔ ابھی وہ رکشہ ایک طرف لیئے کھڑا تھا کہ ایک نوجوان لڑکا موبائل فون پر بات کرتا ہوا آیا اور رکشے میں بیٹھتے ہی امتیاز کے گھر کے تھوڑا دور علاقے میں چلنےکا کہا
اس نے فون پر جس کلینک پر پہنچنے کا کہا امتیاز اس کلینک پر کئی دفعہ دوائی لینے جا چکا تھا لڑکا فون پہ بات کرنے میں مگن تھا اور زیادہ راستہ بھی نہ سمجھا پایا مگر اس کی حیرت کو اس وقت دھچکا لگا جب رکشے والا اسے سیدھا وہیں لے آیا جہاں اسے پہنچنا تھا یعنی کلینک کے بلکل سامنے پہنچ کر اس نے رکشہ روک لیا ۔
“آپ کو کیسے پتہ چلا کہ مجھے یہیں آنا تھا”
لڑکے نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا
“جب آپ فون پر بات کر رہے تھے تو تب میں نے کلینک کا نام سن لیا تھا اور ویسے بھی میں آپ کو پہچان گیا میں نے آپ کو اس کلینک میں دو چار بار دیکھا ہے”
“اوہ اچھا آپ دوائی لینے آئے ہوں گے “
“جی “
“یہ میرے والد کی کلینک ہے میں بھی اب یہاں مریض دیکھتا ہوں اور ایک ہسپتال میں بھی ڈاکٹر ہوں”
“اچھا آپ ڈاکٹر صاحب کے بیٹے ہیں “
“جی ، میرا نام ڈاکٹر طاہرعلی ہے کل ہم اس کلینک میں فری میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں اگر کسی بیمار شخص کو آپ جانتے ہوں ویسے تو آجکل ہر دوسرا شخص ہی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے ۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔ تواسے ہمارے فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں بتا دیجیۓ گا اور پیسے کتنے ہوئے”
“تین سو روپے “
ڈاکٹر نے جلدی سے جیب سے پیسے نکال کر دیئے امتیاز کے ذہن میں ایک دم راجا کا خیال آیا وہ اسی سوچ میں گم ڈاکٹر کو دیکھنے لگا ڈاکٹر کا پھر موبائل فون بجا اور وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کلینک کے اندر چلا گیا ، امتیاز ڈاکٹر کو کلینک کے اندر جاتے شفقت اور پیار سے دیکھنے لگا اور چند منٹ ایسے ہی کھڑا اس کی کلینک کو دیکھتا رہا اور گھر راجا کی طبیعت پوچھنے کا ارادہ ترک کر کے اگلی سواری کو لے کر چل پڑا
اب جب راشدہ سلمیٰ باجی کے گھر سے دوسرے گھر کام کرنے گئی تواس کا موڈ آف تھا اس کے ذہن میں نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار سلمیٰ باجی کے جملے آرہے تھے وہ چاہتی تو سلمیٰ باجی کے گھر سے نکل کر راستے میں راجا کو فون کرکے اس کی خیریت دریافت کر لیتی مگر اسے ایک تو
نوکری سے نکالے جانے کا غم تھا دوسرا اسے موبائل فون سے نفرت سی ہورہی تھی کہ اس فون کی وجہ سے اس کے ساتھ یہ سارا واقع ہوا ورنہ آج تک اس کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی گئی اور آج اتنا بڑا الزام اس پر لگ گیا ، وہ دوسرے گھر جیسے تیسے کام کرنے کے بعد حنا باجی کے گھر پہنچی اور ان سے پوچھا
“حنا باجی آپ کے مہمان رکنے آرہے ہیں اور آج آپ نے اوپر کے کمروں کی صفائی کروانی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دراصل میرا بیٹا بیمار ہے ” راشدہ نے رک رک کے ڈرتے ڈرتے کہا ابھی اس کا جملہ ادھورا ہی تھا کہ حنا بول پڑی
“میں نے تمہیں کل ہی بتا دیا تھا کہ اوپر کے کمروں کی صفائی کرواؤں گی اور ہاں مہمان آرہے ہیں میں کوئی مفت میں تو کام نہیں کرواتی اور یوں اپنے بیٹے کے بارے میں جھوٹ نہ بولو کہیں اس کی اصلی میں طبیعت نہ خراب ہو جائے”
“جی جی باجی اصلی میں طبیعت خراب ہے ”
“اچھا اب باتیں بنانا بند کرو اور جلدی جلدی نیچے کا کام کرکے اوپر جاکر کام شروع کرو میں بھی اوپر آتی ہوں”
راشدہ جب سارا کام کر چکی تو تو حنا باجی نے اسے چار سو روپے کمروں کی صفائی کے دیئے
اسے یہاں کام کرتے کرتے تقریباً شام ہی ہوگئی وہ گھر پہنچی تو رات ہوچکی تھی گھر پہنچتے کے ساتھ ہی وہ راجا کے کمرے میں گئی وہ چارپائی پر نیم بے ہوش سا پڑا تھا اس نے راجا کو آواز لگائی اس نے تھوڑی آنکھیں کھول کر اپنی ماں کی طرف دیکھا راشدہ نے راجا کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کیا وہ بخار میں تپ رہا تھا وہ اور پریشان ہوئی اور راجا سے دوا اور ڈاکٹر کے پاس جانے کا پوچھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نہ جا سکا” راجا نے جواب دیا
“اچھا یہ دیکھ میں کما کے لائی ہوں پورے چار سو روپے ہیں چل تجھے دوا دلوا کر لے آؤں ، آٹھ شاباش ہمت کر ”
ابھی راشدہ کا جملہ پورا ہی ہوا تھا کہ امتیاز کے رکشے کی آواز آئی اور وہ گھر میں داخل ہوا
“شکر ہے آگئے میں ابھی راجا کو ڈاکٹر کو دکھوانے لیکر جا رہی تھی ہم چل کر رکشے میں بیٹھتے ہیں ، چل اٹھ راجا جلدی کر “
“پیسے ۔۔۔۔ وہ کہاں سے آئیں گے” امتیاز نے بے رخی سے کہا
“میں نے بتایا تھا نا کہ آج ایک باجی نے اوپرکی منزل کی صفائی کروانی تھی تو اس کے چار سو روپے دیئے ہیں اور کچھ تو تو بھی کما کر لایا ہوگا”
“ہاں کمایا ہے اس سے تھوڑا پیٹرول بھروالیا باقی تھوڑے بہت ہی پیسے بچے ہیں ” امتیاز نے روکھے انداز میں کہا
“یہ اتنے روکھے انداز میں کیوں بول رہا ہے خیریت ہے طبیعت تو ٹھیک ہے تیری کہیں تو بھی تو بیمار نہیں ہوگیا “
“اوہ کچھ نہیں ہوا مجھے اور تو اس اکلوتے بیٹے کی بات کررہی ہے ۔۔۔۔ ہونھ ۔۔۔۔ایک وہ تھا ڈاکٹر کا بیٹا کیسے باپ کے ساتھ مل کر کلینک چلا رہا ہے اورایک یہ ہے نکھٹو ، بےکار ، کاہل”
“کون ڈاکٹر ۔۔۔۔۔ کس کا بیٹا ” راشدہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا پھر امتیاز نے ڈاکٹر طاہر علی کے بارے میں راشدہ کو بتایا
“اتنا اچھا لگ رہا تھا ذمہ دار سا لڑکا اور اس نے جب فری میڈیکل کیمپ کا بتایا تو میں نے سوچ لیا کہ کل راجا کو وہیں دکھواؤں گا”
“مگر۔۔۔۔۔ اگر”
“اگر مگر کچھ نہیں اب چپ کرکے صبح ہونے کا انتظار کر اور اپنی کمائی سنبھال کر رکھ میں بھی اپنی کمائی سنبھال کر رکھوں گا ویسے بھی اتنی مہنگائی کا دور ہے جب ڈاکٹر لوگ فری میں دیکھ رہے ہیں توہم کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا علاج کروائیں بلکہ میں بھی سوچ رہا ہوں کہ میں بھی اپنے کمر درد کی دوا لے لوں “
“مجھ سے اپنے بیٹے کی ایسی حالت دیکھی نہیں جا رہی میں خود ہی لے جاتی ہوں اسے “
“ایسی حالت دیکھی نہیں جا رہی ۔۔۔۔۔۔ اوہ راشدہ اس کی اس حالت کو ٹھیک کرنے کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں، کیا ہم ساری عمر اسے یوں ہی گھر بٹھا کر کھلاتے رہیں گے اور کیا اس کی شادی نہیں کرنی ، کیا اس کو اور اس کی بیوی بچوں کو بھی ہم کما کر کھلائیں گے اور یہ یوں ہی بستر پر لیٹا رہے گا کچھ تو بھی راشدہ ہوش کے ناخن لے”
اس دفعہ امتیاز تھوڑی اونچی آواز میں بولا
“ابھی تو ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں چل اٹھ راجا میرے ساتھ چل ”
امتیاز نے جو دیکھا کہ راشدہ اس کی بات سنی ان سنی کر رہی ہے تو وہ فوراً راجا کے کمرے سے باہر نکل گیا اور کمرے کو باہر سے کنڈی لگا دی اور دونوں ماں بیٹے کو کمرے میں بند کر دیا ۔
راشدہ کو امتیاز سے اس قسم کی حرکت کی امید نہیں تھی اور وہ آپے سے باہر ہوگئی اور غصے میں اونچا اونچا بولنا شروع ہوگئی ۔
“مجھے تیری نیت ٹھیک نہیں لگ رہی پیسوں کی لالچ آگئی ہے تجھے تو یہ صحیح نہیں کررہا اگر راجا زندہ نہ بچا تو ہم کیسے جی پائیں گے کیا کریں گے اتنی دعاؤں اور مرادوں کے بعد تو اللّٰہ نے ایک ہی بیٹا دیا ہے یہ ہی زندہ بچا ہے ” راشدہ کے یوں اونچا اونچا بولنے سے راجا نے بس اتنا کہا
“اماں ۔۔۔۔۔۔ اماں بس کردے میں ٹھیک ہوں “
راشدہ رات بھر رو رو کے اللّٰہ تعالیٰ سے راجا کی صحت کی دعا کرتی رہی اس نے امتیاز کا یہ رویہ اور یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا اس نے کبھی راجا کے ساتھ اس کی یہ بے رخی نہ دیکھی تھی رودھو کر جب وہ چپ ہوئی تو اس نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ اس کا شوہر ٹھیک ہی کہتا ہے کہ ہم نے اپنے بچے کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے خراب کیا ہے آج ہم ہیں کل ہم خدا نخواستہ نہ رہے تو۔۔۔۔ مرنا تو سب نے ایک نہ ایک دن ہے تو ہمیں اپنے بچے کو کام کرنے کی عادت ابھی سے ہی ڈالنی ہوگی ورنہ یہ تو ساری عمر یوں ہی گھر میں بستر پر لیٹا رہے گا اس کے مستقبل کا ہمیں ہی سوچنا پڑے گا اور ابھی ہی اس کا کوئی حل نکالنا پڑے گا مگر۔۔۔۔۔۔۔ مگر ابھی تو اس کا علاج کروا لیتا علاج کروانے کے بعد اس کو سمجھایا جاسکتا تھا۔
صبح ہوئی تو امتیاز نے کمرے کا دروازہ کھول دیا ابھی پونے نو بجے تھے اور وہ بچوں کو اسکول چھوڑ کر اور فری میڈیکل کیمپ کا ٹائم پوچھ کر آیا تھا
“میں معلوم کرتا آیا ہوں ڈاکٹر کا کیمپ نو بجے کھل جائے گا جلدی چلو پھر ہمیں کام پر بھی جانا ہوگا” راشدہ کا موڈ رات سے ہی آف تھا اس لیے اس نے امتیاز کو نہ بتایا کہ اس کا ایک گھر سے کام چھوٹ گیا ہے اور اسے آج کام پہ جانے کی جلدی بھی نہیں ہے کل گھر آکر اسے بس راجا کی فکر تھی اس نے امتیاز کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا یہ تینوں رکشے میں بیٹھ کر ڈاکٹر کی کلینک چل پڑے، جب ان کا نمبر آیا تو ڈاکٹر طاہر علی نے غور سے امتیاز کے چہرے کی طرف دیکھا
“ڈاکٹر صاحب آپ نے کل مجھے فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں بتایا تھا میں رکشے والا”
“ہاں اچھا مجھے یاد آگیا، آپ تینوں میں سے کون بیمار ہے”
“یہ میرا بیٹا ہے راجا اسے بخار ہے ”
“کب سے بخار ہے ”
“پرسوں سے ”
“پرسوں سے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے اسے کسی ڈاکٹر کو دکھایا ”
“نہیں “
یہ کہہ کر ڈاکٹر نے تھرمامیٹر سے راجا کا بخار چیک کیا
“اسے تو بہت تیز بخار ہے اور پرسوں سے اب تک اسے کسی ڈاکٹر کے پاس کیوں نہ لے کر گئے”
“دراصل آپ کو اندازه تو ہوگیا ہوگا کہ ہمارے گھر کے حالات کا جب کل آپ نے اس فری کیمپ کا بتایا تو میں نے تب ہی سوچ لیا تھا کہ راجا کو اس کیمپ میں ہی لے کر جاؤں گا”
“اگر ہم یہ کیمپ نہ لگا پاتے میرا مطلب خدا نخواستہ اگر ہمارے ساتھ کچھ مسلئے ہوجاتے اور آج یہ فری کیمپ نہ لگ پاتا تو ۔۔۔۔۔ تو پھر آپ کیا کرتے کھانا پینا ، پہنا اوڑھنا اپنی جگہ مگر اپنے علاج پر تو وقت پر توجہ دیں ، بروقت علاج کروائیں تاکہ آگے جاکر یہ چھوٹی بیماری کوئی بڑی بیماری نہ بن جائے ، مجھے یہ تو معلوم ہے کہ آپ رکشہ چلاتے ہیں اور یہ راجا کیا کام کرتا ہے”
“یہ کوئی کام نہیں کرتا ڈاکٹر صاحب یہ میری بیوی ہے یہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے”
“کیوں ۔۔۔۔۔۔ کیوں کچھ نہیں کرتا اور اسے پڑھایا لکھایا ہے ”
“نہیں ہمارے حالات ایسے نہیں تھے کہ یہ اسکول جاتا ”
“برا مت منائیے گا ویسے آپ اپنے گھر کے حالات کا رونا رو رہے ہیں اور راجا جوان جہان لڑکا کچھ نہیں کرتا آپ لوگوں نے ہی اپنے بچوں کو سر پر چڑھایا ہوتا ہے اور پھر گھر میں کھانے پینے کی تنگی کی باتیں کرتے ہیں اور تم راجا کوئی کام کیوں نہیں کرتے بےکار اور بے مقصد زندگی کیوں گذار رہے ہو “
“مجھے کوئی کام کرنے کی عادت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کہتا ہے”
“عادت۔۔۔۔۔۔۔ کام کی عادت ہوتی نہیں ہے یہ ڈالنی پڑتی ہے ہمیں کونسا کام کرنے کی عادت تھی مگر اپنے بڑوں کو اس عمر میں بھی کام کرتا دیکھ کر خود ہی احساس ہوا کہ اب ہمیں بھی ان کا سہارا بننا چاہیے اورآج تو تمہارے والدین زندہ ہیں اگر یہ دنیا میں نہ رہے تو ۔۔۔۔۔۔ تو تم کیا کو گے کیسے اپنا گزر بسر کرو گے کبھی سوچا تم نے اس بارے میں تم جوان ہو ہٹھے کٹھے ہو اور تمہیں خود اپنے ماں باپ کو اس عمر میں کام کرتا دیکھ کر خود سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ہونھ “
راجا نے شرم کے مارے سر جھکا لیا اور اسے اپنے والدین کی رات والی باتیں بھی یاد آنے لگیں
“ڈاکٹر صاحب یہ کام کرے گا اور ضرور کرے گا “
راشدہ ساری گفتگو میں پہلی بار بولی
“مجھے یقین ہے کہ یہ کام کرلے گا “
“ویسے آپ لوگوں نے چند سو کی خاطر اپنے بیٹے کی زندگی داؤ پر لگا دی تھی خیر میں اس کو دوا لکھ کر دے رہا ہوں وقت پر کھلا دیں اور آئیندہ علاج کروانے میں کوتاہی مت کیجیئے گا اور راجا تم ہماری باتیں اچھی طرح سمجھ گئے ہوگے”
راجا بیٹھا سوچنے لگا کہ اس کے دوست بھی اس کے وقت پر کام نہ آسکے ، اس کے والدین کیسے بے بس اور مجبور ہیں وہ علاج تو کروانا چاہ رہے تھے مگر ان کی بھی سو مجبوریاں ہیں سب سے بڑی مجبوری مہنگائی ہے اگر آج میں بھی کما رہا ہوتا تو کم از کم اپنا علاج تو خود کروالیتا پھر راجا نے اپنے والدین کی طرف ایک گہری نگاہ ڈالی جن کے چہرے اور ہاتھوں کی جھریاں ان کی عمر بتا رہیں تھیں۔
’’جی میں کام کروں گا اور ضرور کروں گا اور اپنے والدین کا سہارا بنوں گا‘‘
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


