نظم ۔ ۔ ۔ امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
خدمت خلق
جو ہوں محروم ان کو پیار دینا
کسی کے کام کو سنوار دینا
نہ اپنا ہاتھ پھیلانا کبھی بھی
خود اپنے ہاتھ سے ہر بار دینا
کسی کو دکھ نہ ہو اپنی زباں سے
نہ اپنے ہاتھ سے آزار دینا
کسی کے ہاتھ پھیلانے سے پہلے
ہو جو بھی شے اسے درکار دینا
نہ دنیا میں کوئی بے آسرا ہو
کسی بے گھر کو تم گھر بار دینا
کسی بچے کو لے دینا کتابیں
کسی کو کھانا بھی تیار دینا
خدا کو ہے پسند بندوں کی خدمت
جو حق بندوں کے ہیں ہر بار دینا


