غزل
منصورہ فضل منؔ
شب ہے تاریک، لئے آنکھ میں تارے بیٹھے
جل اٹھے دل کے دیئے ہجر کے مارے بیٹھے
اف یہ تنہائی کا احساس دلاتا ہوا شور
یوں مجھے گھیرے ہوئے کتنے ہی پیارے بیٹھے
کیسے خوش لمحہ کوئی آکے یہاں دستک دے
غم ہیں پہرے پہ بہت میرے دوارے بیٹھے
اپنی موجوں میں سمو لیتا ہے ہر ایک سکوت
ہم بھی خاموش سمندر کے سہارے بیٹھے
بانٹنے کے لیے ساگر سے یہ غم کی لہریں
شام کے سائے میں ساحل کے کنارے بیٹھے
ایسی لفظوں میں ہو تاثیر کہ دل میں اُتریں
شعر کی نوک پلک ہم بھی سنوارے بیٹھے
مات وہ کھائی تھی منؔ نے بھی انا کے ہاتھوں
ایسے ٹوٹے ہیں کہ بس خود سے بھی ہارے بیٹھے

