خواب دیکھا ہے
شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
خواب دیکھا ہے کہ تم پیار سے کہتے ہو مجھے
جان من! کیا ہوا؟ کیوں اس قدر افسردہ ہو؟
ایسا کیا غم ہے جو خاموشی سے کھاتا ہے تمہیں
کس نے توڑا ہے کوئی مان جو رنجیدہ ہو
شوخیاں قہقہے سب بھول گئی ہو یکسر
کیا ہوئی زندہ دلی کس لئے پژمردہ ہو
بات بے بات اُچھل آتے ہیں کیسے آنسو
موسمِ گل میں بھی خاموش ہو آزردہ ہو
کس کے لہجے کی تپش نے تمہیں جھلسایا ہے
ڈس گیا کونسا دکھ درد جو نم دیدہ ہو
اپنی ہی ذات میں کیوں قید کیا ہے خود کو
لگتا ہے برسوں کی بیمار ستم دیدہ ہو۔
میرا یہ خواب فقط خواب ہی رہ جائے گا
خوشیاں تو اس سے ملا کرتی ہیں جو زندہ ہو
ایک پتھر ہے جو سینے سے لگا رکھا ہے
جان سکتا ہے نگہ جس کی جہاں دیدہ ہو
سہنا پڑتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے
ہے دعا کوئی بھی دنیا میں نہ آزردہ ہو


