غزل
درُونِ چشم ہے روشن کوئی جھلک اُس کی
کہ محوِرقص نگاہوں میں ہے چمک اْس کی
یہ بات آئی سمجھ میں نہ آج تک اُس کی
غزل درخت سے آتی ہے کیوں مہک اُس کی
وہ عطر بیز رہے شاخِ یاسمن کی طرح
لبھائے دل کو ہمیشہ چمک دمک اُس کی
جو درد تیری محبّت کا دل میں اُٹھتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ ہردم رہے کسک اُس کی
یہ جستجو کہ کہیں اُس کا کچھ سُراغ ملے
یہ آرزو کہ نظر آئے اک جھلک اُس کی
ذرا سی بات ہو جب باعثِ حسد راغب
سناؤں کس کو میں باتیں لہک لہک اُس کی


