شاعرہ: نورین شاد
گلابوں کی صحبت میں اتنا رہی ہوں
میں اب خوشبوؤں کی زباں بولتی ہوں
مجھے رنگ اپنی طرف کھینچتے ہیں
میں تتلی کے پیچھے کہاں بھاگتی ہوں
مجھے شب کے ماتھے پہ تحریر کر دو
چراغوں میں رکھی ہوئی روشنی ہوں
ہر اک پھول پر تتلیوں کے پروں سے
میں قدرت کی لکھی ہوئی شاعری ہوں