غزل ۔ ۔ ۔ سعدیہ تسنیم سحر
شاعرہ: سعدیہ تسنیم سحر
کب سنیں گے ہم سخن آرائیاں
کب مٹیں گی یہ میری تنہائیاں
ماپنے کا کوئی آلہ ہی نہیں
اس کی چشم ناز کی گہرائیاں
پیار کے رستے کے کانٹے پھول ہیں
لطف دیتی ہیں برہنہ پائیاں
کب تلک رکھو گے غیروں سا سلوک
کب کرو گے تم کرم فرمائیاں
جانے کب ہو اختتام زندگی
جانے کیا ہوں حاشیہ آرایئاں
اپنی میں کو کھائیں تو پاتے ہیں تب
رحمتیں اور عظمتیں دارئیاں


