گوشۂ ادب

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت

Spread the love

سلام پھیرنے کے بعد وہ مصلے پر بیٹھی آتی جاتی چیونٹیوں کی قطار پر ٹکٹکی باندھے انہیں دیکھتی جارہی تھی چیونٹیوں کا جب آمنا سامنا ہوتا تو بڑی آہستگی سے ایک لمحے کورکتیں یوں لگتا کہ جیسے کوئی سرگوشی کرتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی ہیں وہ سوچنے لگی کہ یہ بظاہر کیڑے مکوڑے ہی تو ہیں ناں ! کس طرح ایکدوجے سے واسطہ جوڑ رکھا ہے اور یہ انسان جب ان کی سوچ میں دوری پیدا ہوجائے تو بظاہر ایک گھر ایک چھت اور ایک کمرے میں اکٹھے رہنے کے باوجود انکے درمیان میل ہا میل لمبی خلیج حائل ہوجاتی ہے جس کو پار کرتے کرتے عمریں گزر جاتی ہیں مگر مجال ہے جو یہ فاصلے طے ہوسکتے ہوں…

 واہ ری قسمت !… وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے لگی کیسی صاف واضح ہیں نا ! اور کلائی کے پاس یہ جو لکیریں ہیں جن کو اماں خوش بختی کے کنگن کہا کرتی تھی یہ بھی تو کتنی مکمل ہیں ناں ! مگر ان لکیروں میں قسمت تھوڑی ہوتی ہے اماں ! یہ کہہ کر وہ خود پر طنزیہ ہنس دی۔ وہ اکثر خود کلامی کرتے کرتے اکیلی سوچ کے سفر میں بہت دور نکل جاتی…

بہہ نکلے درد دراڑوں سے

جب پتھر بننا پڑتا ہے … وہ بھی تواب اس پتھر نما شخص کے ساتھ رہتی رہتی پتھرکی ہوچکی تھی۔ کوئی شکوہ زبان پر لائے بغیر خاموشی کے ساتھ وقت گزار رہی تھی۔

اس کے شوہر کی بے اعتنائی اور بے حسی اسکے ناتواں دل پر بارِ گراں تو تھی مگر والدین کی عزت کے لئے اسکو حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی تھا۔ وہ اجڑ کر واپس چلی جائے تو باقی بہنوں کو کون بیاہ کر لے جائے گا۔

اس بستی دا چن گواچا

قند تے دیوا بال نی مائے!

اس وقت اگر کوئی اسکا رازداں تھا تو وہ صرف اللہ تھا وہ اس کو سب بتاتی اوراس تنہائی کے عالم وہ بھی تو اس کا پکا دوست اور غم گسار بن چکا تھا اور اسکے دل کا حال خوب جانتا تھا۔

وہ سوچوں کے انہی تانوں بانوں میں الجھی ہوئی تھی کہ اچانک صحن سے ساس اماں کی آوازیں سنائی دینے لگیں کڑیے! بڑی سخت لال ہنیری چڑھ آئی ہے جلدی جلدی الگنی سے کپڑے اتار لے۔

ساس اماں کی آواز سنتے ہی اس نے مصلہ اٹھایا اور صحن کی طرف بھاگی۔ بڑی لال آندھی ہے… ہے نا اماں…؟۔ ہاں پتر سنا ہے جب کسی بے گناہ پر ظلم ہوتا ہے ناں توایسی لال ہنیری چڑھ آتی ہے اللہ ہی خیر کرے…

اس نے آسمان کی جانب دیکھا دور سرخ رنگ کا گردوغبار بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا چلا آرہا تھا اور چند ہی لمحوں میں ایک تیز ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا اور اسکا سارا وجود مٹی سے اٹ گیا وہ بمشکل اپنا توازن قائم رکھ سکی۔ جلدی جلدی کپڑے الگنی سے اتار کر خود کو جھاڑتی ہوئی کمرے کی کھڑکی میں جا بیٹھی۔

جمال ایسا بھی کیا تھا کہ ہم بظاہر اکھٹے رہ کر بھی ایک نہ ہوسکے ہمارے دکھ سکھ، سوچ کے محور الگ الگ کیوں رہے تم مجھے کبھی سمجھ ہی نہیں سکے! میں نے پورا یک سال تنہائی کی صلیب پر گزارا، ہر روز اس امید پر تمھارا انتظار کرتی رہی کہ شاید تمھاری انا اور بے رخی کا بت پاش پاش ہو اور تمھیں میری قدر ہوجائے… جمال جس زمین سے بارش روٹھ جائے وہ کتنی بھی زرخیر کیوں نہ ہو رفتہ رفتہ بنجر ہونے لگتی ہے…

اور میں… تو پھر ایک جیتی جاگتی عورت تھی جسکے کچھ ارمان تھے کہ اسکا شوہراسے وقت اور محبت دے اسکے ساتھ اپنے دکھ سکھ بانٹے… مگر نہ تمھاری نظرِ التفات کبھی مجھ پر پڑی اور نہ ہی تمھارے ہونٹوں سے محبت کے چند بول ادا ہوکر میری روح کو سیراب کر سکے اور نہ ہی کبھی خوشی اور مسرت کی روئیدگی میرے من میں پھوٹ سکی۔آندھی زوروں پر تھی۔ بجلی کڑکی۔ وہ سہم گئی ’’لگتا ہے آج رات بادل ٹوٹ کر برسے گا‘‘۔

اسے بارش کتنی اچھی لگتی تھی وہ پاگلوں کی طرح اسمیں بھیگا کرتی تھی… اور اب تو اکثر

 اسکے من کے اندرایسی کِن مِن شروع ہوجاتی کہ سردیوں کی جھڑی کی طرح کئی کئی دن بارش نہ تھمتی۔ اور آج تو ساری رات باہر کے طوفان کے ساتھ اسکی سوچوں نے اسکے اندر بھی ایک طوفان اٹھائے رکھا۔ بہت تڑپی اور اپنے رب کے سامنے بہت روئی۔

یاد کی بدلی لمحہ لمحہ برسی ہے

بھیگا آنچل ساری رات نچوڑا ہے

صبح ہونے کے قریب تھی کہ اچانک کئی دنوں کے بعد جمال لڑکھڑاتا ہوا زخمی حالت میں کمرے میں داخل ہوا۔ رات کی بارش میں بھیگے ہوئے اسکے کپڑے اب تقریبا خشک ہوچکے تھے اس نے بڑھ کر زخم خوردہ جمال کو سہارا دیا۔ اسکے زخم صاف کئے۔ دوا لگاتے ہوئے اسےجمال کی آنکھوں میں بدلتے ہوئے ندامت، معذرت اور التفات کے رنگ صاف نظر آنے لگے وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتا ہی چلا جا رہا تھا اور جواب میں

محبت کے لئے اک عمر باقی ہے ذرا پہلے

اسکی خاموش نظریں یوں گویا ہوئیں

جمی آنکھوں کی وحشت کو ذرا سا تم پگھلنے دو

مجھے دیکھومجھےسمجھومجھے سوچومجھے پڑھ لو

بڑھاؤ روشنی اتنی نہ کوئی چیز چھپ پائے

بھروسے کے الاؤ کو ابھی تھوڑا بھڑکنے دو

جو اندر اور باہر ہے وہ سب واضح نظر آئے…

وہ کھڑکی کی طرف بڑھ گئی جب اس نے پردہ ہٹا کر دیکھا باہر مطلع بالکل صاف ہوچکا تھا۔ ٹھنڈی اور تازہ ہوا کا جھونکااسکے جسم سے ٹکراتا ہوا اسے اپنی روح میں اترتا ہوا محسوس ہوا۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *