//دوران حمل گریاں کھانا بچوں کی ذہانت بڑھائے
گریاں

دوران حمل گریاں کھانا بچوں کی ذہانت بڑھائے

حمل کے ابتدائی مہینوں میں گریاں کھانے والی مائیں زیادہ ذہین بچوں کو جنم دیتی ہیں۔

یہ بات اسپین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بارسلونا انسٹیٹوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی تحقیق کے دوران 22 سو خواتین اور ان کے 8 سال سے زائد عمر کے بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق میں ایسی ماؤں کا انتخاب کیا گیا جو حمل کے ابتدائی 12 ہفتے کے دوران ہفتے میں 3 یا اس سے زائد بار گریاں کھانے کی عادی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے بچوں کے دماغی افعال، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یاداشت ان بچوں سے زیادہ بہتر تھی جن کی ماؤں نے حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران گریاں نہیں کھائیں۔

محققین کا ماننا ہے کہ گریوں میں موجود اہم اجزا جیسے فولک ایسڈ اور اومیگا تھری اور میگا سکس فیٹی ایسڈز کا اجتماع ماں کے پیٹ میں بچوں کی دماغی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔محققین نے حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران گریوں کے کھانے اور بچوں کی ذہنت کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا مگر کوئی لنک دریافت نہیں کرسکے۔

گریاں کھانے کی عادت فشار خون، تکسیدی تناؤ اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ درمیانی عمر میں دماغی افعال میں تنزلی سے بچانے کا کام بھی کرتی ہے۔مگر یہ پہلی تحقیق ہے جس میں حمل کی پہل یسہ ماہی کے دوران گریاں کھانے اور بچوں کی دماغی کارکردگی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔

محققین کے مطابق اخروٹ، بادام، مونگ پھلی اور ایسی ہی دیگر گریاں اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ ہر ہفتے تین بار محض 30 گرام گریاں کھانا ہی حاملہ خواتین کے بچوں کو ذہنی طور پر تیز بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین جرنل آف Epidemiology میں شائع ہوئے۔