//انا کے قیدی

انا کے قیدی

. تحریربشریٰ عمر بامی

تم میری بات نہیں سن رہے …

میں کیا کہہ رہی ہوں…

بس …ایسا ہی ہوگا جیسے میں نے کہاہے … …وٹہ سٹہ یا پھر…

نائلہ کو فورًا …طلاق

سعادت مند بیٹا ماں کے آگے کچھ بھی نہ بول سکا اور پھر …

اس نے نہ چاہتے ہوئے کا غذ پردستخط کر ڈالے …

ایک آنسو اس کاغذ کو بھگو گیا اور …دوسرا اس کےآنکھ کے اندر سے جا کر دل میں کہیں پھنس سا گیا …

کل شام دفتر سے واپسی پر گھر داخل ہوتے وقت ماں نائلہ کو کہہ رہیں تھیں تمہارے ماں باپ اگر میری بیٹی کو بہو نہیں بنائیں گے تو تم بھی بہو بن کر میرے گھر نہیں رہ سکتیں سنا تم نے …

اس کے کام سے آتے ہی گھر میں روزانہ کی یہ تکرار اس کی تھکن میں اضافہ کر دیتیں …

وہ ماں کی ضد ی طبیعت سے خوب واقف تھا اس کے ساتھ ساتھ …

بہن کے بالوں میں اترتی چاندی … اور …

ماں کے چہرے پر تناؤ دیکھ کر وہ دل تھام کر رہ جاتا … کچھ عرصہ پہلے …

پھپھو اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے منت سماجت کرتی رہیں ۔اماں کے پاوں پڑیں … مگر اسٹیٹس کی اونچ نیچ اور ماں کے انا کے بت کے آگے بے چاری پھپھو ہار گئیں …

ہم اپنی بیٹی کسی کنگلےکے ساتھ نہیں بیاہ سکتے …

 کار، بنگلہ، والے دولتمند اور اونچی ذات میں رشتہ کرنے کی سوچ کو انا کا بُت بناڈالا تھا ماں نے …کاش … میری ماں گھر آتے رشتوں کو اپنی انا اور نام نہاد سوچ کے ترازو میں نہ تولتی … نہ ٹھکراتی…

تو آج بہن اپنے گھر کی ہوتی…

اب جب ہر طرف سے مایوسی ہوگئی تو بس بہوکا جوان اکلوتا بھائی نظروں میں سمایا ہواتھا اور …

بس ٹھان لیا تھاکہ کسی نہ کسی طرح نائلہ کو طلاق کی دھونس دے کربیٹی کا رشتہ طے پا جائے خواہ وہ لڑکا دس سال چھوٹاکیوں نہ ہو ۔

بہو کے چھوٹے بھائی سے وٹے سٹے کا رشتہ کے انکار ہونے پر آج ماں نے بیٹے کے بسے بسائے گھر کواجاڑنے کا فیصلہ سنا دیا…تھااور

طلاق کا کاغذتھامے بے چاری نائلہ …

 آج اپنے والدین کی دہلیز پر واپس آگئ تھی …

وہ کسی صورت اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی کی زندگی قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گی …

خود انا کی پھانسی چڑھ جائے گی …

جبکہ …اس دن ایک انا پرست ماں اپنی ہی انا کے ہاتھوں اپنی اولاد کو غم کی کال کوٹھڑی میں محبوس کر کےاپنی گردن کو نام نہاد …

فخر سے آزاد سمجھ رہی تھی… حالانکہ وہ خود انا کی قیدی تھی …