//یہاں کسی کو کوئی حسب آرزو نہ ملا
widow

یہاں کسی کو کوئی حسب آرزو نہ ملا

. تحریرامتہ الرشید آزاد کشمیر

عورت ایک مضبوط گھر کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔چاہے وہ ماں ہو بیٹی ہو، بہو یا ساس ہو۔اور زندگی میں اسے یہ چاروں رشتے نبھانے پڑتے ہیں۔سمجھدار عورت اپنے رشتوں میں توازن رکھتی ہے تبھی جا کر ایک خوبصورت اور پر سکون گھرانہ تشکیل پاتا ہے۔

آج میں عورت کے روپ ساس اور بہو کے بارے میں لکھوں گی اگرچہ اس موضوع پر بارہا لکھا جا چکا ھے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے شکوے شکایتیں رہتی ہیں اور یہ بھی کہتے سنا کہ جب میں بہو تھی تو ساس اچھی نہیں ملی۔اب ساس ہوں تو بہو اچھی نہیں ملی۔بقول شاعر

یہاں کسی کو کوئی حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

میرے خیالات مجھےبیس سال پیچھے لے گئے۔ہمارے ہمسائے میں ایک خالہ رہتی تھیں۔ان کی بہو کے ساتھ اکثر تلخ کلامی ہو جاتی تھی۔وجہ یہ ہوتی کہ بہو اپنے بچوں کو جب مارتی تو خالہ کہتیں کہ میرے سامنے بچوں کو نہ مارا کرو۔اس وجہ سے گھر میں کھٹ پٹ رہتی تھی۔تب میں سوچتی کہ ماں سے زیادہ بچوں سے کوئی پیار کر ہی نہیں سکتا۔پھر خالہ کیوں اتنی خفا ہوتی ہیں۔

بیس سال بعد خود دادی کے منصب پر فائز ہوئے اور پوتے،پوتی کو ذرا سی تکلیف میں دیکھتے ہیں یا ان کو ڈانٹ پڑتی ہے تو وہ خالہ یاد آتی ہیں۔وہ ٹھیک کہتی تھیں کہ مول سے نفع زیادہ پیارا ہوتا ھے۔ان کی محبت اپنی جگہ تھی مگر شاید وہ سمجھانے میں غلطی کر جاتی تھیں۔یا بہو ان کی محبت محسوس نہیں کر پائی۔

ایک خاتون سے ملاقات ہوئی،شوگر کی مریضہ تھیں ۔بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔وجہ پوچھی تو پتہ چلا بیٹے نے کہا ہے کہ بہو اپنے بچوں کو مارے پیٹے جیسا سلوک کرے آپ کا کوئی حق نہیں ہے کہ اس کے معاملے میں بولیں۔اور نہ ہی آپ نے کچن میں جانا ھے ۔وہ جب چاہے آپ کو کھانا پکا کر دے گی۔آپ نے بولنا نہیں۔یہ سن کر بے انتہا دکھ ہوا کہ بیٹے نے بجائے بہو کو سمجھانے کے ماں پر پابندی عائد کر دی۔ماں صبح سویرے اٹھنے اور کام کاج کی عادی تھیں کام اب بھی وہ کرتی ہیں۔چاہے گھر سے باہر کے ہوں یا گھر کے اندر بس کچن کی پابندی ہے

میرا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ سب بہوویں ایسی ہوتی ہیں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ بیٹیوں سے بڑھ کر بہووں نے خدمت کی، خیال رکھا اور ساسیں بھی بہو سے بیٹیوں کی طرح محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔اس کے لیے ایک واضح اصول ہو جس طرح اپنے والدین کا ادب واحترام ایک بیٹی کرتی ہے شادی کے بعد اپنے شوہر کے والدین کے ساتھ بھی اسی ادب واحترام سے پیش آئے۔اسی طرح ایک ساس جو رویہ اپنی بیٹی کے ساتھ رکھے وہی اپنی بہو کے ساتھ اپنائے۔اگر اپنی بیٹی کے لیے الگ اصول ہوں اور بہو کے لیے الگ تب ہی بات بگڑتی ہے۔

ہمارے بہت قریبی عزیز تھے ۔انہوں نے اپنے خاندان سے باہر شادی کی تھی۔ان کی والدہ بہت سخت مزاج تھیں۔لیکن کبھی بھی یہ نہیں سنا کہ ان کے گھر میں کبھی چھوٹی موٹی بھی لڑائی ہوئی ہو ۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سب کیسے ممکن ہے ۔کہنے لگے جب میری والدہ کو بہو سے شکایت ہوتی ہے تو مجھے کہتی ہیں۔میں انہیں یہ کہہ مطمئن کر دیتا کہ میں اسے سمجھا دوں گا۔اور اگر بیوی کو والدہ سے کوئی شکوہ ہوتا تو وہ بھی مجھے کہتی اسے بھی میں تسلی دیتا کہ والدہ سے بات کروں گا۔اور میں نے کبھی بھی دونوں کو کچھ نہیں کہا۔اور گھر کا ماحول بھی خراب نہیں ہوا ۔

ہو سکتا ہےمیرا تجزیہ غلط ہو مگر میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر بیٹا بیوی اور ماں دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھے۔تو گھریلو ناچاقیاں کم ہو سکتی ہیں۔

بیٹیوں کی تربیت کرنے اور ان کے گھر آباد کرنے میں ماؤں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔جو رویے مائیں اپنی ساسوں کے ساتھ رکھتی ہیں ان کی بیٹیاں بھی وہیں سے سیکھتی ہیں۔میں ایک فیملی کو جانتی ہوں وہ خاتون اپنی ساس کے بارے میں بات کرتیں تو ہمیشہ بڈھی کے الفاظ استعمال کرتی تھیں۔ان کی تین بیٹیاں ایسی ہیں جو اپنی ساسوں کے لیے بالکل وہی الفاظ استعمال کرتی ہیں۔جیسا انہوں نے ماں کو کرتے دیکھا اسی پر خود عمل پیرا ہیں۔اس کے برعکس میں ایسی خاتون سے ملی ہوں جو لندن کے آرام و آسائش کو چھوڑ کر ساس کی خدمت کے لیے پاکستان آئیں اور جب تک وہ حیات رہیں ان کے پاس تھیں۔ان کی وفات کے بعد وہ واپس گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہم خدمت کریں گے تو کل ہماری اولاد بھی ہمارا خیال رکھے گی۔

ایسا ہمارے معاشرے میں بہت سے گھروں میں ہوتا ہے۔اور یقین مانیے یہ سب دیکھ کر اور سن کر بہت دکھ ہوتا ہے۔آج اگر وہ بہو ھے تو کل کو ساس بھی بنے گی۔یہ وقت کا ہیر پھیر ہے ۔ایسے رویے رکھنے سے ہمیشہ بے سکونی رہتی ہے ۔ آپس میں محبت،احترام، دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے میں ہی گھر کی خوشیاں اور سکون پوشیدہ ہے۔

اس لیے ایک خوشحال اور خوشگوار گھرانے کی تشکیل کے لئے چاہے مرد ہو یا عورت،اپنے اپنے حصے کی زمہ داریاں ادا کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔آپ کے نقش قدم پر چل کر ہی وہ نسل در نسل عمدہ روایات کو منتقل کرنے والے بن سکتے ہیں۔