احمدیہ ادب اور احمدیہ تشخص
تحریر مصباح احمد جرمنی
ادب اور انسان کا ساتھ چاند اور سورج جیسا ہے۔ انسانی افعال، کردار، حرکات، اور ان حرکات کے محرکات و نتائج ایک ایسا سورج ہیں جو ادب کے چاند کو روشن کئے رکھتے ہیں۔ اور یہی چاند انسان کو اندھیری راتوں میں امید دلاتا اور دَرُوں بینی کا موقع دیتا ہے۔ غرض ادب انسان کی زندگی کا ایک ایسا حصہ ہے جس کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔
صنفِ نظم ادب کی دو اہم اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ ادب کی وہ قسم ہے جو بقول مشہور انگریزی شاعر رابرٹ فراسٹ تب تشکیل پاتی ہے جب:
’’جذبات خیالات کا روپ اختیار کرکے الفاظ کی صورت میں ڈھل جائیں۔‘‘
یہ الفاظ، جذبات اور خیالات شاعر کئی موضوعات اور انداز میں بیان کرتے ہیں مگر ایک اعلیٰ پائے کے شعر کی تعریف سلسلہ کے ایک مشہور شاعر مکرم چوہدری محمد علی مضطر صاحب کے بقول یوں ہے کہ: ’’شعر کی ایک قسم وہ بھی ہے جس کی جڑیں اگر زمین میں ہوں تو شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ ایسے شعر کا اگر قبلہ درست ہو تو حسن ہے۔ سچ ہے۔ خیر ہے۔ جس منظوم کلام میں یہ ابعادِ ثلاثہ جمع ہو جائیں وہ شعر کہلائے گا بلکہ حقیقی معنوں میں صرف اسے ہی شعر کہنا مناسب ہوگا…‘‘ (دیباچہ ‘ہے دراز دستِ دعا مرا)۔
اس تعریف پر پورا اترنے والے اشعار کی بہترین مثال ہمیں احمدیہ ادب میں ملتی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا شجر ہے جو زمین سے آسمان کو ملاتا ہے کیونکہ یہ محض حَظ اٹھانے کا سامان نہیں بلکہ اس کی تحریر و تخلیق کا بنیادی اصول ہی اس شعر پر ہے کہ:
کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق
اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے
اور یہی مدعا جو سلسلہ احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا احمدیہ ادب کا امتیازی نشان اور احمدی تشخص کا ترجمان بن چکا ہے۔ یوں تو احمدیہ ادب نہایت وسیع اور بے شمار قابلِ قدر اہل قلم کے نگینوں سے جڑا ہوا ہے مگر اس مضمون میں مختصراً چند مشہور کلام کو بطور نمونہ پیش کیا جائے گا۔
ایک احمدی کی زندگی کے بدلتے پہلوؤں اور عمر کے مختلف حصوں سے جھلکتے انداز کو احمدیہ شاعری کی نظر سے دیکھا جائے تو احمدیہ عقائد کا اسلامی تعلیمات سے گہرا تعلق عیاں ہوتا جائے گا۔ توحید و رسالت کے بنیادی عقائد سے لے کر خلافت کی برکات و اطاعت اور معاشرتی اقدار کی نمائندگی کرتی احمدیہ شاعری بچپن ہی سے ہر احمدی گھرانے میں احمدیہ تشخص کی بنیاد رکھتی نظر آتی ہے۔
ماؤں کی آغوش میں سوتے کانوں میں پڑنے والی ’’حمد و ثناء اسی کو، جو ذات جاودانی۔‘‘ کی پر ترنم لوری سے لےکر معصوم آوازوں سے اٹھتی ’’میری رات دن بس یہی ایک صدا ہے۔ کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے۔‘‘ تک توحید و وحدانیت کا پہلا درس تکمیل پاتا ہے۔
خدائِے ذوالجلال سے شناسائی کے بعد اس کے الفت کے رنگ میں رنگیں ہونے والے یہ ننھے سپاہی اس کے مقربین میں شامل ہونے کا گُر
خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار
سے سیکھتے اور
مٹ جاؤں میں تو اس کی پروا نہیں ہے کچھ بھی
میری فنا سے حاصل گر دین کو بقا ہو
کے عہد سے اس کے فضل کی راہوں کو تلاش کرتے ملتے ہیں۔ اور انہی فضل کی راہوں سے ہوتے ہوئے عشقِ رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شاداب وادی میں وارد ہوتے ہیں۔ پھر کبھی ’’علیک الصلوۃ علیک السلام‘‘ کے کلمات کو اپنی عقیدت کاورد بناتے ہیں تو کبھی احمدی خواتین اپنے محسن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کی مدح کرتے ہوئے ’’پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار‘‘ کی صدائیں بلند کرتی نظر آتی ہیں۔
احمدیہ تشخص کا وہ بنیادی پہلو جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے وہ اطاعتِ رسولِ خدا میں زمانے کے امام کی بیعت کرنا اور زمانے کو اس شمع ہدایت کی طرف بلانا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو احمدیہ ادب میں کئی ترانوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ہر طفل و ناصر چار سو بھٹکے ہوؤں کو اس سمت نظر دوڑانے کا پیام سناتے ملتے ہیں جہاں:
کہہ رہی ہیں چار سو پھیلی شعائیں نور کی
لو شبیہہ پاک دیکھو وقت کے مامور کی
(صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ)
خلافت کے وجود کا حقیقی ادراک اور اس سے چمٹے رہنا ہی ایک احمدی کی بقا کا گُر ہے۔ اس کی اطاعت و فرمانبرادی میں جھکے احمدی دل خلافت کی آغوش میں جو سکون پاتے ہیں اس کا اظہار اشعار میں یوں کرتے ہیں کہ:
تیری مسکان کی پھوار دل پر گری
گلشنِ جان میں بادِ صبا چل پڑی
پیار میں تیرے من بانورے ہوگئے
سیدی مشفقی مرشدی مہربان
تو ہمارا ہوا ہم تیرے ہوگئے
(جمیل الرحمن)
اسی خلافت کے درخت بابرکت کے ثمرات کی بدولت احمدیت ایک ملتِ واحدہ کی صورت اختیار کر چکی ہے اور مِلی ترقی کا پہلا زینہ نوجوانوں میں جوشِ اور جنوںِ پرواز بیدار کرنا ہوتا ہے۔ اس منزل کے راہ نورد اپنے راستوں کو:
آسمانی میں، عدو میرا زمینی، اس لیئے
میں فلک پر اُڑ رہا ہوں اس کو ہے بِل کی تلاش
(کلامِ محمود)
کے الفاظ سے روشن کئے چلے چلتے ہیں۔ اور مسیحِ وقت کی طرف یوں بلاتے جاتے ہیں،:
اٹھو کہ ساعت آئی اور وقت جا رہا ہے
پسر مسیح ؑدیکھو کب سے جگا رہا ہے
پیار و محبت کی تعلیم سے مزین اس الٰہی جماعت کو قدم قدم پر دشمنوں کے شر کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ ایسے میں خدا کے فرستادوں کی راہنمائی میں چلنے والی کشتی نوح کے یہ مسافر صرف اپنے مولیٰ کے حضور اپنی فریاد پیش کرتے اور اُس کی نصرت پر یقینِ کامل رکھتے ہوئے ان اشعار سے اپنے آنسو صاف کرتے ہیں کہ:
یہ زخم تمہارے سینوں کے بَن جائیں گے رشکِ چمن اس دن
ہے قادرِ مطلق یار میرا، تم میرے یار کو آنے دو
(کلامِ محمود)
جب اسی یقینِ کامل کی بدولت خدا تعالی اِن ’’دیوانوں‘‘ کی مدد کو آتا اور دشمن کو اس کے انجامِ بد تک پہنچاتا ہے تو شکر گزاری سے لبریز یہ دیوانے
اے صبر و رضا کے متوالو! اٹھو تو سہی دیکھو تو سہی
طوفانوں کے مالک نے آخر رُخ پھیر دیا طوفانوں کا
(ثاقب زیروی)
کے نعروں سے پنڈال لرزا دیتے ہیں۔
غرض بچپن سے لے کر جوانی اور پھر دین کے حقیقی انصار و لجنات بننے تک کے اس سفر میں احمدیہ شاعری روحوں کے لیئے رجز کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ اور اس مختصر جائزہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سلطان القلم کی اس جماعت کا مُرَتّبہ احمدی ادب نہ صرف احمدیہ جماعت کے عقائد اور احمدی تشخص کا خاصہ ہے بلکہ ہر ایک جذبہ کا ترجمان ہے۔ وہ جذبات جو اپنی پاکیزگی، صبر و اطاعت میں نظیر نہیں رکھتے… اللہ تعالی ہمیں اس اقرارِ طاعت پر ڈٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے جو بیعت کی صورت میں ہم نے امام الزمان سے باندھا ہے اور جسے مولوی نعمت اللہ خان صاحب نے اپنے ایک منظوم کلام میں یوں پیش کیا ہے کہ:
بالآ خر اے میرے پیارے آقا یہ مجھ میں اور تجھ میں عقد ہوگا
کہ تیرے ارشاد پر ہمیشہ، سرِ اطاعت کو خم کروں گا
نہ بعد تیرےکسی سے رشتہ، نہ بن تیرے ہوگا کوئی مولا
کسی کی ہوگی نہ مجھ کو پروا میں تیری الفت کا دم بھروں گا
(الفضل 24 جنوری 1928)


