متفرق

کھلی جو آنکھ تو بدلا ہوا زمانہ تھا

Spread the love

تحریر خنساء رفعت انگلینڈ

“چلیں وائفی… ہوگئی تسلی … بلاوجہ پریشان ہو جاتی ہیں … کچھ بھی نہیں تھا … فالس الارم … اتنی جلدی آپ کی جان نہیں چھوٹنے والی… اب تو باری آئی ہے آپ سے لاڈ اٹھوانے کی …”۔ ھشام بولنے پہ آتے تو بولے جاتے … اور میں انہیں محبت سے دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کر رہی تھی … مجھے ھشام کی زندگی میں آئے 26 سال ہوگئے تھے… ان گزرے سالوں میں چار بچوں کی پیدائش سے لے کے ان کے اپنی عملی زندگیوں میں قدم رکھنے تک وقت جیسے پر لگا کے اڑ گیا…بچے کاموں کے سلسلے میں کچھ ملک سے باہر اور کچھ ملک میں ہی دوسرے شہروں میں بس گئے  اور ہم نے بھی اپنے پرندوں کو کھلا آسمان دے دیا … اب اپنے آشیانے میں میں تھی اور ھشام … بس ایک دوسرے میں مصروف… بچے تھوڑے تھوڑے عرصے میں باقاعدہ طور پر آتے اور رونقیں لگاتے… اور ہم دونوں مالک کی ان نعمتوں پہ شکرگزار ہوتے…!!!!!!!!!  “بس کریں ھشام… خدا نہ کرے … کیسی باتیں کرتے ہیں… “ میں بولی … “شکر ہے گیسٹرک پرابلم تھی … لیکن اچھا ہوا سب چیک اپ ہوگیا “ … میں نے ڈاکٹر کو شکریہ ادا کیا اور کمرے سے نکلتے ہوئے کہا … ہسپتال کے کوریڈور سے گزرتے ہوئے بھی ھشام چٹکلے سناتے رہے اور میں مسکراتی انہیں دیکھتی رہی اور دل میں ان کی لمبی عمر کی دعا کرتی رہی … میں خوش قسمت تھی کہ خدا نے کس کمال کے بذلہ سنج اور زندہ دل انسان کو میرا نصیب بنایا … کوریڈور میں بیٹھے ایک شخص نے ہماری آوازیں سن کے سر اٹھایا …جیسے ہی میری نظر اس پہ پڑی … وہ لمحہ جیسے رک سا گیا… میرے لئے … یا!!!!…   یا شاید سب کے لیے… ساکت ، منجمد ، برف سا سرد لمحہ… میرے گلے میں آواز ، میرے کانوں کی سنوائی اور پیروں کی حرکت بیک وقت رک گئی… میں ھشام کو دیکھتے ہوئے بس اتنا کہہ سکی… “ یہ … یہ  اظفر … جس کے پپڑی جمے ہونٹ اس کی پیاس کی نشاندہی کر رہے تھے… بنا استری کے اس کے کپڑے صاف تو تھے مگر حلیہ ملگجا تھا… یہ وہی تھا جو گھنٹوں آئینے کے سامنے خود کو سنوارا کرتا … جو کپڑوں پہ ایک شکن برداشت نہ کرتا … میں نے اسے شاید 24،25 سال کے بعد دیکھا تھا… اس کے خشک ہونٹ… برکھا کو ترسی سوکھی مٹی کی طرح… پتہ نہیں کب سے پانی کے متلاشی تھے … وہ تو کبھی روزہ رکھ لیتا تو اس کی حالت اتنی عجیب ہوجاتی کہ سارا خاندان بولایا پھرتا کہ اظفر بھوکا ، پیاسا ہے … میں ایسے ساکت کھڑی تھی جیسے اس وقت دنیا میں صرف میں تھی اور میرے سامنے ساری دنیا کو اپنے پاؤں کے نیچے رکھنے والا ہمارے پورے خاندان کا لاڈلا … وہ ایک ایسے مسافر کی طرح بیٹھا تھا جس کی منزل تو منزل  راستہ بھی اس سے اوجھل ہو چکا ہو … میں بچپن میں ٹورناڈوز سے بہت ڈرا کرتی تھی …ایک بار بابا جانی کے ساتھ نیشنل جیو گرافک پہ ڈاکومنٹری دیکھنے کے بعد اتنی خوفزدہ ہوئی …کہ یہ اعلان ہی کرڈالا کہ کبھی امریکہ نہیں جاؤں گی کیونکہ وہاں ٹورناڈوز آتے ہیں… مجھے ٹورناڈوز کے بعد اس شہر کی حالت سے بہت وحشت ہوتی … ایسے جیسے کسی دیو نے کسی شہر میں شہزادی نہ ملنے کی سزا دیتے ہوئے سارا شہر اپنے دونوں ہاتھوں سے مسل دیا ہو … آج اظفر کی حالت بھی مجھے ٹورناڈو سے برباد ہوئے ہوئے شہر کی مانند لگی جسے زندگی کے تھپیڑوں کی اٹھا پٹخ نے بالکل توڑ پھوڑ دیا ہو …  اظفر نے نظریں اٹھائیں… اس کی نظروں میں جانے کیا تھا میں اس احساس کو کوئی نام نہ دے پائی … بنجر ، سنسان… قبرستان سی آنکھیں… اس کی آنکھوں میں ہمیں دیکھ کے پہچان ابھری … ایسے لگا جیسے برسوں کی خشک زمین پہ بارش پڑے تو کچھ دیر کو دھول اڑنے لگتی ہے… کچھ دیر کو ایسی ہی دھول اس کی آنکھوں میں اٹھی پھر دھول نمی میں بدلنے لگی جیسے سوکھی زمین نے آخر کار پانی کو قبول کر لیا ہو … اظفر اور نم آنکھیں ناقابل یقین سی بات تھی … اس کی حالت دیکھ کے میری آنکھوں کے آگے مما، نانو، ماموں ، اکًا جی ( نانا جان کو ہم اکًا جی بلاتے تھے ) سب کے چہرے  ابھرنے لگے…میرے حلق میں میرے سب احساسات جن میں دکھ ، غصہ، خوشی اور پتہ نہیں کیا تھا … ایک گولے کی طرح پھنس گئے … بڑی تگ و دو کے بعد بھی بات صرف سلام دعا تک ہی ہو پائی… ھشام اس کے پاس بیٹھ گئے اور اس کا احوال پوچھنے لگے … اسے پیٹ کے شدید درد کے باعث اس کا ایک کولیگ ہسپتال لایا تھا … ڈاکٹر نے کچھ مزید ٹسٹ کہے تھے جن کو کروانے کے انتظار میں تھا … اس نے بتایا کہ اس کا کولیگ اس کے لئے کینٹین سے کچھ لینے گیا ہے ۔ … ھشام نے اسے ہمارے ساتھ ٹھہرنے کی آفر کی لیکن اس نے کہا کہ وہ کچھ بہتر ہوگا تو گھر آئے گا اور ہمارے ساتھ وقت گزارے گا … ھشام نے اسے اپنا نمبر دیا اور اسکی یقین دہانی پر کہ وہ خود کو سنبھال لے گا… ہم دونوں نے اس سے اجازت لی … ہسپتال سے گھر تک میں بالکل خاموش تھی… بار بار اظفر کا چہرہ میری نظروں کے سامنے آ جاتا … وہ کچھ اچھی حالت میں نہ تھا … اس کی آنکھیں خوشی سے عاری ویران سی تھیں…اس کے دل کا صحن کسی اپنے کے ملن کی پھوار کو اس قدر ترسا ہوا تھا کہ اگلے ہی دن اس کا فون آگیا… اور کچھ ہی دیر بعد وہ ہمارے ڈرائنگ روم میں ھشام کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا … ھشام جیسے خوش مزاج انسان کے ساتھ بیٹھ کر بھی وہ صرف اپنی خالی آنکھوں سے مسکراتا رہا … اس کی باتوں سے پتا چلا کہ اس کے دونوں بچے امریکہ جا بسے اور اظفر کی بیوی نے بھی وہیں ٹھکانہ کرنے کو فوقیت دی… اب اظفر یہاں بالکل تنہا رہ رہا تھا ……… وہ صرف ظاہری طور پر تنہا نہیں تھا بلکہ اس کی شخصیت میں ایک خالی پن تھا جو چیخ چیخ کر یہ بتا رہا تھا کہ اپنوں کی جن محبتوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے وصول کرتا رہا تھا اپنے نئے رشتوں کو وہ محبتیں دینے کے باوجود وہ تنہا رہ گیا تھا… اس کی آنکھوں میں جیسے اکاجی ، نانو،  ماموں اور ممانی سب کی تنہائی یکجا ہوگئی تھی … جن کی خاطر اتنی محبتوں سے ہاتھ چھڑا کے ایک نئے سفر کو نکلا تھا وہ نئے ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ کر کب کے دور جا چکے تھے … مجھے اس پہ ترس بھی آیا اور غصہ بھی…لیکن میں خاموش رہی … وہ آکر جا چکا تھا لیکن میں پھر بھی خاموش تھی… ھشام میری ہر خاموشی کو سن لیا کرتے تھے …  میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی جب میں بہت دکھی ہوتی تو کسی جگہ خاموش،  تنہا بیٹھ جاتی… آج بھی اظفر کے جانے کے بعد میں سٹڈی میں چلی آئی … اور ھشام میری اس عادت سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے انہوں نے مجھے اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی کا مگ تھمایا اور مجھے خود سے ملنے کا وقت دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے …  اور میں یادوں کے ساغر میں ڈوبتی چلی گئی …

“مما مما !!!! میں رزلٹ کارڈ لئے بھاگتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی … دیکھیں میری فرسٹ ڈویژن آئی ہے “ میرا ایف اے کا رزلٹ آیا تھا جسے دیکھ کے سب گھر والوں کی خوشی دیدنی تھی… مما نے بلائیں لیں اور بابا جانی کی تو میں ویسے ہی جان تھی ان کی تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا… … میں اکًا جی کو بتا کے آتی ہوں …  نانا جان کا گھر ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا  … مما اور ماموں دو ہی بہن بھائی تھے … اور ہر بہن کی طرح مما کو بھی اپنے ماں جائے سے بے پناہ محبت تھی … بابا جانی جب اپنا گھر بنوانے لگے تو مما کی خواہش پہ انہوں نے اکًا جی کے بالکل سامنے گھر بنوا لیا … مما کو ان کی محبتوں کے قریب رکھنے کو ترجیح دی اس پر مما بابا جانی کی بہت قدر کرتیں… “اکًا جی ، نانو میرا رزلٹ آگیا “ میں خوشی سے شور مچاتی اندر داخل ہوئی … : “فیل ہونے پہ اتنی خوشی” دروازے پہ کھڑا اظفر بولا… میری خوشی کو مٹی میں ملانے کا کوئی مقابلہ ہوتا تو اظفر پہلے نمبر پہ آتا … میں اسے نظر انداز کرتی ہوئی اندر چلی آئی وہاں سب شام کی چائے پی رہے تھے اکًا جی ، نانو ، ماموں ، ممانی نے مجھے گلے سے لگایا … مبارکباد دی اور انعام بھی … میں خوشی سے اترا رہی تھی سب کا پیار دیکھ کے اظفر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا … وہ اپنے علاوہ کسی اور کو پیار ملتا برداشت نہیں کر پاتا تھا … اظفر ماموں کی اکلوتی اولاد… سب کی آنکھ کا تارا… اگر نانو اور اکًا جی کو  اصل سے سود پیارا تھا تو اس کے ماں باپ یعنی میرے ماموں اور ممانی کے وہ دل کا ٹکڑا تھا … مما کو بھی اپنے ماں جائے کی اولاد سے بے تحاشا محبت تھی … یہاں تک کہ کبھی کبھی مجھے لگتا مما شاید مجھ سے زیادہ اسے چاہتی ہیں… اور شاید اسی لئے میں اس سے چڑنے لگی لیکن گزرتے سمے نے یہ احساس دلایا کہ میری اس چڑ کی وجہ دراصل اس کا بےحد خودغرض ہونا تھا …وہ خود کے سوا کسی کی بھی پرواہ نہ کرتا …مگر اپنی تمام خودغرضیوں کے باوجود اظفر وہ طوطا تھا جس میں سب کی جان تھی… ہوتی بھی کیوں نا … اکًا جی کا اکلوتا پوتا شہزادوں جیسی آن بان والا … تعلیمی میدان میں بھی نمایاں… بزنس میں ہاتھ ڈالا تو ڈھیروں کامیابی حاصل کی… ایسا پارس جسے چھو لے سونا کردے …ایک کمپلیٹ پیکیج… سب اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے… لیکن اس سب نے اسے اکھڑ بنا دیا … وہ محبتیں لیتے لیتے صرف لینے کا عادی بن گیا … محبت دینے کی کوشش بھی نہ کرتا … انہیں بھی نہیں جن کے سانس اس کی موجودگی اور خوشی سے جڑے ہوئے تھے …مجھے وہ دن یاد آیا جب اس کی MBA کی ڈگری حاصل کرنے کی خوشی میں اکا جی نے کئی دن تک خوشی منائی … ماموں اور ممانی کی آنکھوں میں اب اپنے شہزادے کے سر پہ سہرا دیکھنے کے سپنے مچلنے لگے تھے … اس سے پہلے کہ اس کے لئے کسی شہزادی پہ آنکھ ٹھہرتی اس نے اپنی پسند سے سب کو آگاہ کرتے ہوئے شادی کا فیصلہ سنا دیا ….. اس کے بزنس سرکل میں ایک بڑے بزنس مین کی بیٹی اسے بھا گئی تھی… ماموں کو وہ لوگ پسند نہیں تھے لیکن اپنے لاڈلے کی خوشی کے آگے اپنی ناپسندیدگی کو پس پشت ڈالتے ہوئے وہ اظفر کی پسند کو بڑی دھوم دھام سے بیاہ لائے … لیکن بہو رانی کو فیملی کے ساتھ رہنا پسند نہ تھا سو اظفر نے تمام رشتوں کو ، تمام محبتوں کو یکسر فراموش کرڈالا… اکا جی ، نانو ، ماموں،  ممانی جو اس کو دیکھ دیکھ جیتے تھے ان کی زندگی میں اداسی اور ویرانی نے جیسے مستقل ڈیرہ جما لیا … اظفر ان سے مہینوں نہ ملتا اور اس کی بدمزاج بیوی کو اس کے ماں باپ کا اس سے ملنے آنا بھی نہ بھاتا … شروع شروع میں ممانی ممتا کے ہاتھوں مجبور ملنے چلی جاتیں لیکن اظفر کی  بیوی کی بلا کی سردمہری نے ان کی ہمت بھی توڑ دی … وہ ہر عید تہوار پہ اظفر کی راہ تکتے مگر ہر بار آنکھیں اس کی جانب سے مایوس لوٹ آتیں … میری شادی پہ بھی وہ مہمانوں کی طرح شامل ہوا بھائی کے رشتے کے نام پہ وہی تو تھا … میرا مان بھی نہ رکھا …اس کی صورت کو ترستے ، اس کی جدائی کے دکھ کو دل میں لئے سب پیارے باری باری منوں مٹی تلے جا سوئے … میری مما کو یکے بعد دیگرے اپنے پیاروں کی جدائی نے نڈھال کر دیا اور مجھ سے ان کی یہ تکلیف دیکھی نہ جاتی لیکن وائے میری بےبسی میں ان کے لئے کچھ نہ کر سکتی تھی …اور اسی دکھ نے آخر کار مجھ سے میری ماں بھی چھین لی …  آج اظفر کو سب رشتوں سے دور تنہا دیکھا تو بڑی شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ سب کچھ ہی تو واپس پلٹ آتا ہے انسان کیوں وقت پہ اس بات کا احساس نہیں کرتا … اظفر اگلی بار آیا تو میں غصے اور ناراضگی کی کیفیت سے نپٹ چکی تھی … میکے کے نام پہ یہی تو ایک رشتہ بچا تھا … میں اسے اور کیا کہتی وہ خود ہی پچھتاوا کاندھوں پہ لئے چل رہا تھا جس کے بوجھ تلے اسے جینا تھا …کیونکہ جب اس کی آنکھیں کھلیں سب کچھ بدل چکا تھا … اس بار ہم دونوں بہن بھائی نے یادوں کے پٹارے کھول کر اپنے پیاروں کو جی بھر کے یاد کیا …بہت یاد کیا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *