کنیز بتول نجمہ کے قبول احمدیت کا واقعہ
خود نوشت
میرا نام کنیز بتول نجمہ ہے میں ایک نو مبا ئعہ ہوں میں آج آپ کو بتانا چاہوں گی کہ میں شیعہ سے احمدی کیسے ہوئی ۔ میرا تعلق ایک بڑے مذ ہبی قسم کے شیعہ گھرانے سے ہے۔ والد بچپن میں وفات پاگئے تھے۔ اس لئے نانا کی گود میں پرورش پائی جو ایک بہت مشہور ذاکر کے بڑے بھائی تھے۔ انہی کی صحبت کا اثر تھا کہ میں بھی ذاکرہ تھی۔
آج سے تقریبا“ گیارہ سال پہلے میں نے خواب دیکھا کہ رات کا وقت ہے، آسمان کے نیچے ایک بہت بڑی عمارت ہے۔ دنیا میں اور کچھ نہیں بس وہی ایک عمارت ہے، اس عمارت کے اوپر بہت بڑی رحل کے اوپر قرآن مجید رکھا ہوا ہے۔ یکدم آندھی آجاتی ہے۔میں ،جو اس عمارت کے نیچے کھڑی ہوتی ہوں ،دیکھتی ہوں کہ آندھی کی وجہ سے قرآن مجید کے ورق اڑنے لگتے ہیں۔ ان سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہےجیسے لوہے کی کھڑ کیاں ایک دوسرے سے بجتی ہیں تو آواز آتی ہے۔ جب نیچے کھڑی میں قرآن کو اس طرح دیکھتی ہوں تو مضطرب ہو کر دعا کرتی ہوں کہ
یا اللہ! اب میرے امام کو بھیج دے۔ اس خواب کےکچھ عرصے کے بعد میری بہن (ایک ہی میری بہن ہے جو مجھ سے چھو ٹی ہے) ایک احمدی انکل جو ان کے پڑوسی تھے ،ان کی تبلیغ کی وجہ سے احمدی ہو گئی۔ جب اس کے شو ہر نے مجھے آ کر بتایا تو وہ رونے لگا اور میں بھی۔ میں نے کہا کہ کاش میری بہن مر جاتی مگر احمدی نہ ہو تی۔ میرےاس سے بہت جھگڑ ے ہوئے لیکن وہ ڈٹی رہی۔ آخر تین سال پہلے اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی اور وہ ربوہ شفٹ ہوگئی۔ اس کے شوہر نے بچے بھی چھین لئے ،دوسری شادی کر لی۔ جب وہ ربوہ شفٹ ہوئی تو میں نے کہا کہ میری بہن آپ ربوہ میں نہ رہو۔ اگر تم وہاں مر بھی جاؤ گی تو میں ربوہ نہیں آؤں گی۔ لیکن جب 2020 میں کرونا آیاتو میں رو رو کے دعائیں کر نے لگی کہ ’’یا اللہ !اب آخری وقت آ گیا ہے اب ہمارے امامؑ کو بھیج دے۔
رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو میں دن رات نمازیں پڑ ھنے لگی اور ایک ہی دعا مانگتی کہ یا اللہ !اما م کو بھیج دے۔ مجھے او ر میرے بچوں کو امام کا سپاہی بنا۔ حالانکہ پہلے کبھی کبھار نماز پڑھتی تھی ۔لیکن اب نماز اور اس دعا کے سوا کوئی کام نہیں تھا۔
اچانک مجھے ایسا ضروری کام آ پڑا جس کی وجہ سے میرا بہن سےملنا بہت ضروری تھا میں نے بہن کو فون کیا کہ تم ہمارے گاؤں خوشاب آ جاؤ میں اسلام باد سے آ جاتی ہوں۔ اس نے کہا کہ آپا اسلا م آباد سے آپ کے آنے تک دفتر بند ہو جائیں گے۔ آپ ربوہ آجائیں۔ رات یہاں رکیں صبح مل کر آگے چلے جائیں گے۔ مجبوراً مجھے ربوہ آنا پڑا۔ میرا بڑا بیٹا اور بیٹی اور سب سے چھوٹا بیٹا ساتھ تھےاور دو بیٹے اسلام آباد میں اپنے ابو کے پاس تھے۔ جب ہم لوگ ربوہ پہنچے تو اگلی صبح میری ہدایت کے لئے میرے پاک اللہ نے لاک ڈاؤن کروا دیا ۔بس پھر کیا تھا ؟مجبور ہو کے بہن کے گھر رہنے لگے اس کے گھر ایم ٹی اے لگا ہوا تھا۔ وہ صبح تلاوت قرآن مجید لگاتی اور پھر خلیفہ رابع ؒکی مجلس عرفان۔ یقین جانئے مجھے ایسا لگتا کہ قرآن ابھی نازل ہوا ہے اور میں پہلی دفعہ قرآ ن سن رہی ہوں۔ حلانکہ میں خود ذاکرہ تھی اور مجالس میں مَیں خود قرآن پڑھ کر اس کی تفسیر کیا کرتی تھی۔ چا ر پانچ روز یہ کلاسیں سنیں۔
میری بہن کے پاس میرے جا نے سے پہلے اس کے شوہر کو خدا تعالیٰ نے ایسا ذلیل کیا کہ وہ خود اسکے بچوں کو ربوہ چھوڑ کر گیا۔ میں سوچنے لگی کہ میرا بہنوئی تو کہتا تھا کہ بچوں کا بال بھی اس مرزائی عورت کو نہیں دوں گا۔ میری بہن نے کیس کیا تھا مگر عدالت نے فیصلہ میری بہن کے خلاف دیا تھا ۔خدا نے اسے ایسا مجبور کیا کہ وہ خود بچے میری بہن کو دے گیا۔ اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔ مجھے لگنے لگا کہ میری بہن واقعی حق پر ہے۔ورنہ اس کی جیت نہ ہوتی۔
جماعت کی طرف سے اس کا راشن لگا ہوا تھا۔ ایک دن گاڑی آئی اور اس کے گھر راشن پہنچایا گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ کام حضرت علیؓ کیا کرتے تھے۔ یہ تو ان کے کام تھے۔ آج کے زمانے میں لوگ اگر کسی کو کچھ دیتے ہیں تو اپنی مشہوری کرتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں، اخباروں میں دیتے ہیں۔ لیکن یہاں ایسا کچھ نہ تھا پھر میری بہن کے گھر حضرت مسیح موعود ؑ کی کچھ کتابیں تھیں۔ جب میں نے کشتی نوح میں حضورؑ کی تعلیم پڑھی تو میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ یہ تو وہی تعلیم ہے جو حضرت محمدﷺکی تعلیم ہے اور یہی آپؐ کے اہل بیت کی بھی تعلیم ہے۔
کچھ دنوں کے لئے لاک ڈاؤن کھل گیا ہم نے سو چا کہ صبح چلے جائیں گے۔ اس دن جو خلیفہ رابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کلا س دیکھی تو آخر میں انہوں نے خدا حافظ کر تے ہوئے ہاتھ ہلایا ۔مجھے یہ دیکھ کر دل پر قابو نہ رہا۔ میں بہن کو علیحدہ بلا کر رونے لگی۔ اس نے پو چھا کیوں رو رہی ہیں ؟تو میں نے کہا کہ بس مرزا طاہر احمد صاحب کی جدائی کی وجہ سے رو رہی ہوں۔ گھر جاؤں گی تو پھر کبھی انہیں دیکھ نہیں سکوں گی۔ اس نے کہا پریشان نہ ہوں اللہ فضل کرے گا۔ میں نے کہا مجھے یقین ہوگیا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ سچے ہیں اور وہی امام مہدیؑ جن کا انتظا ر کرتے ہوئے میری نسلیں گزر گئیں۔ میری بہن آپ میرے بچوں کوتبلیغ کرو۔شیعوں کے لئے صلیب ہے یا علی مدد ۔ان سے شرک کے موضوع پر بات کرو تاکہ وہ جان لیں کہ ہم قرآن کی تعلیم کے خلاف عقائد رکھتے ہیں ۔اس طرح امام مہدی کو پہچاننا ان کے لئے آسان ہو جائے گا۔
جب میری بہن نے میرے بڑے بیٹے اور بیٹی سے بات کی اور میں نے بھی اس کی تائید کی تو میری بیٹی کو شک ہو گیا کہ میں احمد ی ہو رہی ہوں۔ وہ کہتے ہیں ناکہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا ۔ساری رات قرآن لے کے بیٹھے رہے۔ بحث جاری رہی میری بیٹی کی آنکھیں غصہ سے لال سرخ ہوگئیں۔ صبح ہوتے ہی میری بیٹی اور بیٹا مجھے اور میرے چھوٹے بیٹے کو چھوڑ کر اسلام آباد چلے گئے اور جاکے اپنے باپ کو بتایا کہ ماما احمدی ہو گئی ہیں۔ بس پھر کیا تھا میری ممانی کو پتہ چلا تو انہوں نے ہر جگہ بتا دیا ۔جہاں جہاں میں محرم کے عشرے پڑھتی تھی ان سب کے فون آنے لگے کہ آپ ذاکرہ ہیں آپ ایسا کر سکتی ہیں؟ میں کہتی تھی کہ یہ اب آپ لوگوں کے سوچنےکی بات ہے کہ میں آخر کیو ں احمدی ہوئی ہوں ؟ میرے شو ہر کے فون آنے لگے ۔میں فون پہ ان کو تبلیغ کرنے لگی۔ بچوںسے بھی فون پر دن رات تبلیغ ہونے لگی۔ بہت جھگڑے ہوتے لیکن میں اللہ کے فضل سے ڈٹی ہوئی تھی۔
میں نے بچوں سے کہا کہ اب چاہے آپ لوگ مجھے ملونہ ملو میں حق کو نہیں چھوڑ سکتی۔ جب میرے شوہر نے یہ دیکھا کہ میں کسی طرح نہیں مان رہی توانہوں نے کہا کہ میں نے قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھا ہے اور غو ر کیا ہےتو مجھے یقین ہوگیا ہے کہ مرزا صاحب سچے ہیں میری بہن اور میں بہت خو ش ہوئیں اور سجدے میں گر کر شکر ادا کیا۔ ہم نے ان سے کہا کہ حضورؑ کو سلام پہنچائیں۔ انھوں نے سلام پہنچایا اور ہم سے کہا کہ تم لوگ آؤ اورآ کے بچوں کو سمجھاؤ۔ ہم بڑ ے خوش تھے۔ اسلا م آباد جانے کی تیاری کرنے لگے۔ صدر صاحب محلہ سے اجازت مانگی تو انھو ں نے اجازت نہ دی۔ پھر بیٹھ گئے اس دوران میرے بیٹا جو چودہ سال کا ہے اس کا کسی کےنمبرسے فون آیا کہ ما ما پاپا آپ کے خلاف پلان کرہے ہیں آپ نہ آنا۔ میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ تم ماموں کے گھر(جو میرا کزن ہے)جاؤ ۔وہ آپ کو گاڑی پہ بٹھا دے گا۔ بچہ جب رشتہ داروں کے گھر گیا تو انہوں نے اس سےسب کچھ پو چھ کے اس کے باپ کو بلا کر اس کے حوالے کردیا اور مل کر بچے کو ذدوکوب کیا اومارتے رہے کہ خبردار اگر ماں کے پاس گئے۔ لیکن میرے شو ہر فون پر مجھے یہی کہتے رہے کہ میں بھی احمدیت قبو ل کر چکا ہوں۔ بچوں کو بتانہیں سکتاآپ آؤ ان کو سمجھاؤ پھر ہم سب مل کر بیعت کریں گے۔ میں جو نماز بھی کبھی کبھی پڑھتی تھی تہجد گزار ہو گئی تھی۔ تہجد پڑھ کر میں ہر روز جانے کے لئے قرآن سے استخارہ کرتی تو منع ہو جاتا۔ میں نے بہن سے کہا کہ کب میری بیعت ہو گی اور کس طرح ہوتی ہے بیعت۔ اسنے موبائل فون پر سالانہ جلسہ پر حضور جو بیعت لیتے ہیں وہ دکھائی۔ میں رو رہی تھی اور وہ لفظ دہراتی جاتی جو حضورِ انور بول رہے تھے۔
اسی رات میں نے جانے کے لئے تہجد کے وقت استخارہ کیا تو جواب ملا کہ جاؤ اب وہ تمہیں ہرگز مشرک نہیں بنا سکیں گے۔ حالا نکہ پہلے ہمیشہ یہ جواب آتا تھاکہ ’’نہ جانا! وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم مشرک ہو جاؤ۔‘‘
جب اللہ کی طرف سے اجازت مل گئی تو میں نے پھرصدر صاحب سے پو چھا کہ ہم چلے جائیں تو انہوں نے کہا میں چھوٹی بہن کو اجازت نہیں دے سکتا لیکن اگر آپ جانا چاہیں تو آپ کو منع نہیں کروں گا۔آپ کا گھر ہے، آپ کے بچے ہیں۔ میں نے کہا ’’صدر صاحب بچوں کی فکر نہیں ہے بلکہ اس لئے اپنے گھر جانا چاہتی ہوں کہ اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤں، انہیں شرک سے روکوں، انہیں بتاؤں کہ امام مہدیؑ آ گئےہیں۔‘‘
انہوں نے اجازت دے دی تو میںنے گھر فون کیا اور اگلے دن میرا بیٹا مجھے لینے آگیااور میں اسلام آباد پہنچ گئی۔ میرے شوہر بڑے اچھے طریقہ سے پیش آئے۔ لیکن ایک بچے کےسوا کسی نے مجھ سے بات تک نہ کی۔ جب میں نے بیٹی اور بڑے بیٹے سے بات کی تو انہو ں وہ بدتمیزی کی کہ جو آج تک کبھی نہ کی تھی۔ حالانکہ میری بیٹی جسکی عمر اٹھارہ سال تھی اتنی نیک نماز کے سجدوں میں روتی تھی اور ہر رات میرے پاؤں دابائے بغیر کبھی نہ سوتی۔ لیکن اس معاملہ میں تو اس کی آنکھوں میں بھی خون اترا ہوا تھا۔ میں اس بات پر مطمئن تھی کہ میرے شوہر میرے ساتھ ہیں۔
نماز کاوقت ہوا۔ میرا چھوٹا بیٹا جو دس سا ل کا تھا کہنے لگا کہ آپ ایسے کیو ں نما ز پڑھ رہی ہیں ہاتھ کھو ل کر نمازپڑھیں۔ میں نے بتایا کہ بیٹا امام مہدی آ گئے ہیں انہو ں نے بتایا ہے کہ ایسے نما ز پڑ ھتے ہیں۔ وہ بڑا پر جو ش ہوا ،’’کہا ں آئے ہیں ‘‘؟۔
کیوں کہ میں ہمیشہ بچوں کو سلا تے ہوئے امام مہدی کی باتیں سنایا کرتی تھی۔ ہر روز کہہ کے سلاتی تھی کہ آپ لوگو ں نے امام مہدیؑ کا سپاہی بننا ہے۔ اس لئے وہ خوش ہوگیا اور پوچھنے لگا کہ کب جائیں گے امام کے پاس ؟ میں نے پیا ر کیا اور کہا انشا ءاللہ جلدی جائیں گے۔ میرے شوہر دیکھ رہے تھے۔ گھر میں اہل تشیع کا ترجمے والاقرآن مجید تھا ،وہ میں پڑ ھنے لگی میرے شوہر نے مجھے کہا کہ میں بچوں کے سامنے ظاہر نہیں کروں گا کہ میں امام مہدی کو مان گیا ہوں ۔میں نے کہا کوئی بات نہیں۔ جب میں قرآن پڑھنے لگی تومیر ی بیٹی اورشوہر میرے پاس آئےاور بحث کرنے لگے۔ میری بیٹی کہتی ہے جب سے آپ ہوئی ہیں میں نے دو دفعہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیا ہے آپ ثابت کریں کہ کہاں لکھا ہے کہ احمدیت سچی ہے؟ مجھے پتہ تھا کہ شرک ان کے مذہب کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ میں نے کہا تین باتیں ہیں ہمارے پاس توحید، نبوت اور مہدویت۔ پہلے توحید پہ بات کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک ایک آیت توحید پرنکال کر ان کو دکھائی۔ جب میں اس آیت پر پہنچی کہ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ بروزِ قیامت تم سے پیٹھ پھیر کر چل پڑیں گے ‘‘میں کہا کہ یہ بتوں کی بات نہیں ہو رہی بت نہ چلتے ہیں نہ پیٹھ پھیرتے ہیں۔ یہ سن کر میرے بچے سوچ میں پڑگئے۔ پھر نبوت کے بارے میں بات کی کہ دیکھو اللہ پاک فرماتا ہے ’’اے رسول اگر تم جھوٹے ہوتے تو ہم تمہارا داہنا ہاتھ پکڑ کر تمہار ی شہ رگ کاٹ دیتے‘‘ میں کہا یہ جھوٹے اور سچے کی پہچان ہے کہ جھوٹا ذلیل ہو گا سچا ہمیشہ غالب رہے گا۔
رات اسی بحث میں گزر گئی صبح کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سو گئے دس بجے کے قریب جب سب اٹھ گئے میں پھر قرآن پڑھنے لگی۔ جیسے ہی میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا ،سب میرے پاس آگئے اور بحث پھر سے شروع ہو گئی بچے اب دھیمے پڑ چکے تھے۔ میں نے کہا کہ امام مہدی رسو ل ہوں گے، قرآن سے دیکھا تی ہوں۔ وہ آیت نکالی کہ ’’ہم نے اپنے رسول کو بھیجا ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تاکہ تمام ایادن پر اس کو غالب کریں‘‘۔ شیعہ کی تفسیر تھی اس میں لکھا تھا کہ یہ آیت امام مہدیؑ کے بارے میں ہے کیونکہ انہیں کے زمانے میں دین نے غالب آنا ہے۔
اب ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ میں نے انٹر نیٹ سے خلیفہ رابع ؒ کی ضیاءالحق کےبارے میں پیشگو ئی نکالی اور ان کو دکھا ئی۔ میں کہا یہ دیکھو سچے کی پیشگو ئی اور جھوٹے کا انجام۔ میراتیرہ سال کا بیٹا کہنے لگا ایسا نہیں ہوسکتاکہ کوئی جھوٹا بات کرے اور اس کی بات اتنی سچ ثابت ہو۔ میں نے دیکھا کہ میرے شوہر کے چہرے کے رنگ بدل رہے ہیں۔ خلیفہ رابع کی دوسری وڈیو جس میں انہو ں نے فرما یا تھا کہ تکبیر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو میرے زرّےزرّے سے آواز آئے گی کہ فزت برب کعبہ۔ میں نے کہا یہ دیکھیں یہ جملہ ر سول اللہ کے چو تھے خلیفہ نے کہا تھا ۔وہی جملہ امام مہدی کا چوتھا خلیفہ کہہ رہا ہے۔ یہ وہی ہیں ان ہی کے بروز ہیں۔ ان کو مت جھٹلا ؤ۔
میں نے دیکھا کہ میرے سارے بچوں کی آنکھو ں میں آنسو ہیں ،محبت کے ،عقیدت کے۔ میں نے بہن کو ربوہ فون کیا کہ آتے وقت صدر صاحبہ اور آپ لوگوں کو کہا تھا کہ دعا کرنا میں مہدیؑ کی سپاہی بن کر جا رہی ہوں ۔اب خوش خبری سنو میں إن شاءالله فتح کے بالکل قریب ہوں۔ میں یہ سمجھ رہی تھی کہ میرے شوہر دل سے احمدی ہیں اس لئے فو ن ان کے سامنے ہی کر رہی تھی۔ لیکن جب میرے شو ہر نے یہ سنا توانتہا ئی غصہ میں آ گئےاورگالیاں دینے لگےمیری بیٹی ڈر کر کچن میں چلی گئی ناشتہ بنانے۔ میرے شوہر فون کر کے وہاںجو شاہ رہتے تھے ان کو ساری باتیں سنا رہے تھے۔ جس کا مجھے پتہ نہیں تھا۔ اتنی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی۔ میرے شوہر باہر گئے۔ میں کچن میں گئی تو بیٹی جلدی جلدی بتانے لگی کہ ماما ،پاپا آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ کوئی احمدی نہیں ہو رہے۔ میں نے کہا تم لوگ مان رہے ہو؟ بولی ’’جی ‘‘۔
میری بیٹی نے مجھے ناشتہ دیا اور میر ے شوہر آ گئے اور کہنے لگے تم جلدی نکلو یہاں سے اور مجھے مارنے لگے۔ میرے بڑے بیٹے کے علاوہ جو بیس سال کا تھا سب بچے رونے لگے۔ میرا تیرہ سال کا بیٹا مجھ سے لپٹ گیا اور کہنے لگا ’’پاپانہ ماریں ماما کو ‘‘۔میرابڑا بیٹا اسکو مجھ سے چھڑا کر لے گیا اور کمرے میں بند کر کے اسے مارنے لگا ۔گھر میں قیامت بپا تھی۔ ایک طرف میرا بیٹا پٹ رہا تھا اور دوسری طرف میں اور اللہ کی ذا ت کے سوا ہمیں وہا ں چھڑانے والا کو ئی نہ تھا اور میں اسی کو پکار رہی تھی۔ اتنے میں میری بیٹی نے عقل سے کام لیا۔ میرے او ر اپنے باپ کے درمیان آگئی اور مجھے غصے ہونے لگی کہ اس سے بہتر تھا آپ نہ آتیں۔ گھر میں فساد پڑ گیا ہےاور پھر باپ سے کہنے لگی کہ چھوڑیں آپ انہیں جانے دیں۔ جہاں مرضی جائیں۔
باہر کھڑے لوگ دروازہ زورزور سے بجا رہے تھے۔ کچھ تواندر آ گئے تھے کہ اس مرزائین کو آج ہم نے جانے نہیں دینا۔ ہم نے پولیس کو فون کر دیا ہے۔ وہ آتےہی ہونگے۔ میرا شوہر کہنے لگا ’’میں تو جانے دوں، لوگوں نے اسے اب نہیں جانے دینا‘‘۔ میری بیٹی نے مجھے کچن میں بند کر دیا اور سر پہ چادر لی اور لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے کہ انکل رسو ل کریم پر عورت کوڑا پھینکتی تھی پر نبی پاک اس کی عیادت کو گئے۔ امام زین العابدین کے پاس ان کے بھائی کا قاتل آیا انہوں نے سات دن ان کی مہمان نوازی کی۔ ہماری ماں ہیں، ہمیں سمجھانے دیں ۔اگر ہم سے نہ سمجھی تو آپ کو بتائیں گے۔ پھر جیسا آپ کہیں گے ویسا کر لیں گے۔ انہو ں نے کہا ٹھیک ہے ہم گھنٹے کا ٹائم دیتے ہیں ۔اگر انہوں نے کلمہ نہ پڑھا تو ہم پو لیس سا تھ لےکے آئیں گے۔
وہ چلے گئے۔ میرے شوہر گرجتے برستے بچوں سے پو چھنے لگے کہ کس کس نے ماں ساتھ جانا ہے۔ میرا تیرہ سال والا بیٹا پھر کہنے لگا، ’’میں نے جا نا ہے پاپا ‘‘۔وہ بچے کو دھکے دینے لگے اور کہنے لگے کہ اٹھاؤ اپنے کپڑے اور دفع ہو جاؤ ماں کے ساتھ۔ میں نے ایک سوٹ اس کا اٹھایا اور برقعہ پہنا جب نکلنے لگے تو میر شوہر پھر کھڑے ہو گئےاور بیٹے کو پکڑ لیا۔ اسے مارتے اور کہتے کہ میری لا ش پر سے گز ر کے ہی کوئی جائے گا یہاں سے۔ میں نے اپنے شوہر کو کہا ’’بچوں کو مت ماریں،مجھے قتل کرنا ہے ،کر دیں۔ قید کرنا ہے ،کر دیں۔ مار مار کے ڈنڈوں سے میرا سر پھاڑ دیں۔ پولیس کے حوالے کر دیں۔ لیکن میں حق کو دیکھ چکی ہوں اب اسے چھوڑ نہیں سکتی‘‘ اتنے میں پھر دروازے پہ دستک ہوئی۔ میرے شوہر باہر گئے۔
میری بیٹی نے کہا کہ آپ اپنی جان بچا کر یہاں سے نکلیں ہم پیچھے سے آجائیںگے۔ میں نے انہیں بہن کا فو ن نمبر لکھ کر دیااور کہا کہ آج سے تیسرے دن میں تمہارے ٹیوشن سنٹر کے آگے ٹیکسی لے کے کھڑی ہوں گی تم لوگ اس دن اکیڈمی ضرور جانا۔ میں نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کے حوالے کرتی ہوں۔ بچے رو رہے تھے اور میں بھی رورہی تھی۔ شام ہونے والی تھی۔ میرے شوہر واپس آئے اور مجھے دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ میرا فون توڑ چکے تھے ،پرس چھین لیا تھا۔ میرے پاس نہ پیسے تھے نہ فون۔ سارا سیکٹر جو پہلے میری بہت عزت کرتاتھا، ذاکرہ صاحبہ کہہ کر سلام کرتا تھا، آج دشمن بنا ہوا تھا۔ میں تیز قدمی سے چل رہی تھی کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔ لیکن دل کی عجیب حالت تھی کیو نکہ میں کامیاب ہو کر جارہی تھی۔ جو مار میں نے اور بچوں نے کھائی تھی اس کے بدلے میں مَیں نےبچوں کی آنکھو ں میں احمدیت کی چمک دیکھی تھی۔ یہی میرا مقصد تھا اور یہی میری کامیا بی تھی۔ اب میرے پاس نہ پیسے تھے کہ ربوہ پہنچ سکوں، نہ فون تھا کہ بہن کو فون کروں۔
میرے ذہن میں اس وقت حضرت موسیؑ کا ہجرت کرنے کا منظر چل رہا تھا۔ مجھے حضرت موسیٰؑ کی دعا یاد آئی کہ ’’یا اللہ تو جو مجھےکھلائے اور پلا ئے اس کا سخت حاجت مند ہوں‘‘۔
میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی کہ ’’یا اللہ اس وقت جو تو میری مدد فرما ئے میں اس کی سخت حاجت مند ہوں میرے بچوں کی حفاظت فرمانا اور شام ہو گئی ہے میں کہاں جاؤں؟ سب جاننے والے دشمن بن گئے ہیں۔ تو میری مدد فرما‘‘۔
میں چلتے چلتے دوسرے سیکٹر میں پہنچ گئی۔ بھوک پیاس سے نڈھال، دعائیں مانگتی ہوئی جارہی تھی کہ ایک جگہ تھک کر بیٹھ گئی۔ ابھی بیٹھی تھی کہ اتنےمیں میرے پروردگار کی مدد آگئی۔ ایک موٹر سائکل میرے پاس آ کر رکی۔ دو میاں بیوی جو اہلسنت تھے اور پہلے ہمارے پڑو سی رہ چکے تھے، لیکن نہ اب مجھے ان کے گھر کاپتہ تھا نہ وہ میرے ذہن میں تھے، میرے سامنے گھڑے تھے، مجھے ملے اور پوچھنے لگے یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں؟ میں نے کہا ،بس ایک مسئلہ ہو گیا ہے اگر آپ لوگ ایک فون کروادیں تو مہربانی ہو گی۔ انہوں نے فون دیا۔ میں نے بہن کو فون کیا کہ میرے شوہر نے سب سے چھوٹا بیٹا بھی رکھ لیا ہے اور مجھے گھر سے نکال دیا ہے مجھے پیسے بھیجو تاکہ میں وہاں آؤں۔ وہ بھی حیران ہو گئی اور کہا میں کچھ کرتی ہوں۔ ان میاں بیوی نے بھی سن لیا وہ اہل سنت تھے اس لئے میرے احمدی ہونے کی خبر ابھی ان تک نہ پہنچی تھی۔ وہ مجھے کہنے لگے ہمارے گھر آ جائیں، کھانا کھائیں اور پریشان نہ ہوں رات ہمارے گھر میں رہیں۔صبح تک بہن پیسے بھیج دے گی تو پھر آپ چلی جانا۔ بس پھر میں ان کے ساتھ گئی، ان کے گھر رات گزاری۔ اگلے دن بہن نے پیسے بھجوائے۔ دن کے چار بجے تک مجھے وہ پیسے ملے۔ ربوہ کی گاڑی پر بیٹھ کر اپنے بچو ں کی طرف منہ کر کے حضور کا یہ شعر پڑھ رہی تھی
لیے او یار حوالے رب دے میلے چار دناں دے
اس دن عید مبارک ہو سی جس دن فیر ملاں گے
رات کے ایک بجے ربوہ پہنچی۔ بہن کے پاس وہا ں رہی۔ نمازیں پڑ ھتی، روتی اور دعائیں مانگتی کہ ’’یا اللہ میرے بچو ں کو شرک سے بچا اور ان کو زمانے کے امام کی معرفت نصیب فر ما ‘‘۔ ایک دن رورو کے دعا مانگی اور قرآن پاک سے استخارہ کیا تو جواب آیا کہ تین دن تک روزے رکھ اور کسی سے کلام نہ کر ۔یہ تہجد کے وقت کی بات ہے۔ فجر کے وقت بات ہے کہ پھر استخارہ کیا تو جواب آیا کہ آگر تم روزے رکھتے تو تمہارے لئے بہتر ہوتا۔ اگلا دن بدھ کا تھا میں نے روزہ رکھا جمعرات کو بھی روزہ رکھا تیسرا دن جمعہ کا تھا اس دن میں نے روزہ نہیں رکھا لیکن میرے شوہر کا فون آ گیا کہ میں اسلام آباد سے سب کچھ وایئنڈ اَپ کر کے بچو ں کو لے کر لا ہو ر جا رہا ہوں اپنے بہن بھا یئو ں کے پاس۔
میں نے بہن سے کہا کہ یہ جہا ں بچو ں کو لے کے جا رہے ہیں وہ تو شیعوں کا گڑھ ہے۔ بچوں کی رو ح جو بیدار ہو ئی تھی وہ پھر سے سو جائے گی۔ مجھے بچو ں کو بچانے کے لئے جانا چاہیئے۔
بہن نے کہا آپ وہا ں نہ جائیں ۔شدت پسند لو گ ہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ صدر صاحب اور صدر صاحبہ نے بھی یہی کہا لیکن میں نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سپاہی بن کر جا رہی ہوں، بس آپ سب دعا کرنا۔ میں نے اپنے شوہر کو فون کیا کہ میں دین کی کوئی بات نہیں کروں گی آپ بھی کو ئی بات نہ کریں اور مجھے بچوں کے پا س آنے دیں۔ وہ سمجھے کہ شائد میں واپس شیعہ ہو جاؤں گی کیونکہ وہ سارا شیعہ کا علاقہ ہے جہا ں ہر وقت ان کی مجالس ہوتیں ہیں۔ اس لئے انہو ں اجازت دے دی۔
جیسا کہ تین دن کا استخارہ آیا تھا تیسرے دن کی شام تھی، میں لاہور پہنچ گئی اپنے بچوں کے پاس۔ وہاں پر رہی۔ وہاں چھپ چھپ کے نمازیں پڑھتی کہ میرے سسرال والے نہ دیکھ لیں کہ میں ہاتھ باندھ کے نماز پڑھ رہی ہوں۔
ایک دن کسی جاننے والے کے گھر گئے میرا چھو ٹا دیور بھی ساتھ تھا وہ اور میزبان آپس میں باتیں کرنے لگے اور بات بات میں سبحان علی سبحان علی کہتے۔ میرے بچو ں کو کافی برا لگا۔ جب گھر آئے تو اسی پہ بات ہونے لگی میرے تیرہ سالہ بیٹے نے کہا کہ سبحان اللہ ہوتا ہے سبحان علی نہیں ہوتا۔ میرے شوہر غصہ ہوئے اور کہا اپنے سے بڑوں کو غلط نہیں کہتے۔ بچے نے کہا اگر سبحان اللہ کی بجائے سبحان علی ہوتا تورسول خداؐ حضرت فاطمہؓ کو تسبیح میں سبحان علی بتاتے۔ میرے شوہر بہت غصہ ہوئے۔ ساری رات غصہ ہوتے رہے۔ صبح ہوئی تو اسی بیٹے کو وائپر کے ساتھ مارنے لگے۔ اتنا مارا کہ اس کے جسم پر نیل پڑ گئے۔ میں اور بیٹی چھڑانے آئے تو ہمیں بھی مارا اور غصے سے کہنے لگے کہ میں بیٹی کا نکاح کر دیتاہوں اور یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے۔
شام کو مجلس تھی بچو ں کو زبردستی وہاں لے گئے وہاں بھی بچوں نے شیعہ کے ایک بہت بڑے عالم کو سنا جو واضح جھوٹ سنا رہا تھا لیکن لوگ واہ واہ کر رہے تھے۔ بچے اور بددل ہو کر واپس آئے لیکن خاموش تھے رات گزری اور صبح ہوئی میرے شوہر باہر چلے گئے۔ تو میری بیٹی جو ابھی تک احمدیت کا اقرار زبان سے نہیں کر رہی تھی رونے لگی اور مرزا غلام احمد کی جے نعرے لگانے لگی اور میرا تیرہ سالہ بیٹا بھی بہن کے ساتھ نعرے لگانے لگا۔ میں نے پیار کیا اور کہا چپ ہو جاؤ یہاں کسی نے سن لیا تو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ میرے بچے کہنے لگے، نہیں ماما ہم سب کو بتائیں گے چاہے ہمیں قتل کر دیں۔ اس وقت بچوں کا جذبہ عجیب تھا۔ روتے تھے اور نعرے لگاتے تھے۔ میں نے سمجھایا کہ دیکھو میں دعا مانگتی تھی کہ یا اللہ میر بچو ں کو امام مہدیؑ کا سپاہی بنانا۔ آپ سب نے امامؑ کا سپاہی بننا ہے۔ دین کی خدمت کرنی ہے۔ حضورؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے انشاءالله۔ بڑی مشکل سے وہ چپ ہوئے۔
میں نے کہا کہ بس اب یہاں نہیں رہ سکتے کیوں کہ یہ بات بچوں سے چھپائے نہیں چھپ رہی تھی اور میرے شوہر بیٹی کا نکاح کرنے کا سوچے بیٹھے تھے۔ میں نے بچوں سے بات کی کہ دیکھو حضورؑ نے فرمایا ہے کہ یہ کانٹو ں کا راستہ ہے تو سوچ لو مشکلیں بھی آئیں گی پھر ہمت نہ ہارنا۔ انہوں نے کہا جو بھی ہو اب ہم اپنے امام کے بغیر نہیں رہ سکتے۔
بس پھر گھر سے سب کچھ چھوڑ کر دعائیںکرتے ہو ئے نکلے کہ یا اللہ کو ئی دیکھ نہ لے۔ اڈے پر پہنچےاور وہاں سے بہن کے گھر چلے گئے۔ ایک سال میرا بڑا بیٹا باپ کے ساتھ شیعہ رہا لیکن کچھ دن پہلے شیعو ں نے اسے بہت مارا اور اس کے فون سے مجھے فون کر کے اس کی چیخیں سنواتے رہے۔ مارتے تھے اور کہتے تھے تو ایک مرزائن کا بیٹا ہے اسے بند کیئے رکھا پھر اللہ پاک نے اپنے فضل سے اسے وہاں سے چھڑوایا اور وہ بھی میرے پاس آ گیا ہے اور الحمد للہ ایک پکا احمدی مسلمان ہو چکا ہے۔
حمد وثنا ہے اس پاک پروردگار کے لیئے جس نےان تمام مشکلات سے مجھے نکالا۔ تین دن روزے رکھنے والا اپنا وعدہ مجھ سے پورا فر مایا اور میرے بچے نہ صرف مجھے ملائےبلکہ پکے اور سچے احمدی بنا کر مجھ سے ملائے اور درود ہو اللہ کے حبیبؐ پر جن کی بتائی ہوئی پیشگوئی اور نشانیوں سے میں نے اور میرے بچوں نے اللہ کے سچے مہدیؑ کو پہچانا اور حق کو تلاش کرتے کرتے اس تک پہنچ گئے الحَمْد لله


