اسلامی تعلیماتمتفرقمذہبمعاشرہ

والدین اوربڑےبوڑھوں کی قدرکیجئے

Spread the love

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر نے ارشاد فرمایا کہ جو بڑا ہمارے چھوٹوں پر رحم(شفقت اورمہربانی) نہ کرے اور جو چھوٹا ہمارے بڑے اور بزرگوں کی توقیر نہ کرے وہ ہم (یعنی ملت مسلمہ) میں سے نہیں۔ (ترمذی:1919، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ 5/230، حدیث:2194)

بڑے بزرگوں سے مراد ماں،باپ، دادا، دادی، چچا، ماموں، بڑا بھائی، بڑی بہن، اپنے پرائے، معمر سن رسیدہ، سب افراد مراد ہیں۔ یہ سب بزرگ بمقابلہ چھوٹوں کے بڑے بزرگ کہلاتے ہیں۔ ان کے پاس جو بڑی عمر کی وجہ سے تجربات ومشاہدات کا ’’گرانقدرسرمایہ‘‘ ہے اس سے چھوٹے، خردمند ابھی محروم ہیں، لہذا محسن انسانیت نے ارشاد فرمایا کہ چھوٹے اپنے عمررسیدہ بڑے بزرگوں کا احترام کریں، ان سے محبت، نرمی، تواضع وانکساری کا بھرپور مظاہرہ کریں۔ نہایت ادب واحترام سے گفت وشنید کریں، ان کی عمر عزیز مقام ومرتبہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مؤدبانہ انداز گفتگو اختیار کریں۔ بڑی عمر والوں سے عزت وتکریم ادب وتہذیب، وقار وشائستگی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ غرض اپنے وقت، ہمت، توانائی،فرصت اور توفیق کے پیش نظر جتنی بھی خدمت کی جاسکتی ہو اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، مگر دورِ حاضر میں دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بعض بڑوں،بزرگوں،بوڑھوں اور عمررسیدہ افراد کو بعض کوتاہ نظربچے طنز ومزاح کا مرکز بناتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں پریشان کرتے ہیں جبکہ ایسی ناشائستہ اولاد کے والدین کی تربیت میں کوتاہی کا اعتراف کرنا چاہیے۔

انہیں یادرکھنا چاہیے کہ رسول رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو بڑوں، بزرگوں اورمعمر افراد کا ادب ولحاظ نہیں کرتا (فلیس منا) یعنی وہ ہماری ملت مسلمہ اور معیاری معاشرہ سے نہیں۔ اسی طرح بزرگوں کو بھی اپنے چھوٹوں پر رحم اور شفقت کا برتاؤ کرنا چاہیے، ایک اور جگہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو باوقار نوجوان بڑھاپے اور نقاہت کی وجہ سے کسی بڑے بوڑھے معمر شخص کو نگاہِ عزت واحترام سے دیکھتاہے تو اللہ رب العزت اس نوجوان کے لیے بڑھاپے میں ایک ایسا انسان مقرر فرمادیتاہے جو اس مہذب جوان کی بڑھاپے میں عزت ،توقیر واحترام کرے گأ۔ (سنن ترمذی:2022)

لیکن آج کل نئی نسل نے اپنے ہی معمر،بوڑھے، کمزور اور لاغر لوگوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کررکھا ہے وہ ازحد تشویشناک ہے دراصل بوڑھے والدین اپنے بچوں کی تربیت وپرورش بھی اسی امید سے کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا اور لاٹھی بنیں گے۔ لیکن دیکھنے میں تو یہ آیا ہے کہ یہ نئی نسل کے بچے اور جوان بوڑھوں کا آسارا اور سہارا بننے کے بجائے ان کی کمزور کمر توڑنے میں مصروف کارنظر آتے ہیں، جبکہ اسلام نے لاچار کمزور بڑے بوڑھوں کی عزت وتوقیر کا بار بار حکم فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری سیرت طیبہ میں بوڑھوں سے بہترین برتاؤ کے لاتعداد واقعات یادگار چھوڑے ہیں، مثلاً: آپ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بوڑھے مسلمان بھائی کا احترام کیا جائے۔ (ابو داود، باب تنزیل الناس منازلہم)

ویسے بھی رسول اللہ ﷺ نے بار بار بڑے بوڑھوں کی اہمیت وعظمت، شان ومنزلت کو اپنے پیغام کے ذریعے واضح کیا ہے، مثلاً: ایک موقعہ پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے بال بڑھاپے میں اسلام کی حالت میں سفید ہوئے اس کے لیے قیامت کے روز نور ہوگا۔ (ترمذی)

آپ نے ادب وتہذیب کا ابتدائی سبق سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چھوٹے کا فریضہ بنتاہے کہ وہ اپنے سے بڑے کو سلام کرےمیں پہل کرے۔(بخاری)

کسی نے کیا خوب کہا ہے :

یاد آئیں گے زمانوں کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

آپ ﷺ کی خدمت عالیہ میں جب کوئی محبوب مشروب آتا یا مسواک جیسی مسنون چیز آتی تو آپ اس کا بھی اپنے بڑے بزرگوں سے آغاز کیا کرتے تھے۔ ( ابو داود)

ایک جگہ تو یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تمہارے ہاں خیر وبرکت بھی اپنے بڑے بوڑھوں کی وجہ سے ہے۔

صحیح بخاری میں تو بات چیت اورگفتگو کا آغاز بھی بڑے بوڑھے سے کرنے کی تاکید ملتی ہے۔(بخاری، باب اکرام الکبیر)

آپ ﷺ کا اپنا طریقہ استدلال بڑا روح پرور اور ایمان افروز ہے کہ ایک بار ایک معمر بوڑھا شخص رسو ل اللہ ﷺ کی بزم میں حاضر ہوا اور بیٹھنے کی گنجائش نہ تھی تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا کہ اس کے لیے گنجائش نکالو، ویسے تو آپ ﷺ نماز میں طویل قیام کیا کرتے تھے، تاہم بڑے بوڑھے بچوں کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار طویل امامت کے بارے میں فرمایا کہ نماز سےنمازیوں میں نفرت پیدا نہ کیا کرو، لہذا جو شخص امامت کرائے وہ ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اورضرورت مند بھی ہیں۔ (بخاری)

کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے وقت جگہ جگہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے ہر موقع ومحل پر بڑے بوڑھوں کوقدرومنزلت کی نگاہ سے نوازا ہے۔

مجموعی اعتبار سے اگر دیکھاجائے تو کوئی بھی شخص جوانی چھوڑ کر بڑھاپا نہیں چاہتا، چونکہ بڑھاپے کی زندگی سب سے زیادہ بیماریوں،آزمائشوں،تکالیف اور مصائب سے بھرپور ہواکرتی ہے لیکن انسان کے بس میں کیا؟ جب انسان دنیا کے نشیب وفراز دیکھتے ہوئے عمر کے اس حصہ تک پہنچتا ہے تو بہت ہی تھک کر چور ہوچکا ہوتاہے جبکہ عموماً بڑے بوڑھے افراد خود کو ’’یاد ماضی‘‘ میں مقید کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جب ماضی کے باقیات کو وہ فنا ہوتے محسوس کرتے ہیں تو اندر سے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بڑے دکھی نظر آتے ہیں۔ ان کو ہمیشہ اپنے رفقاء کار،ہمعصر ان کی یادیں اور باتیں، محبتیں،عظمتیں،رفعتیں اورمجالس کو ایک ایک کرکے جدا ہوتے محسوس کرتے ہیں تو بڑے بددل ہوکر خود کو تنہا اوربےیارومددگار محسوس کرتے ہیں۔

بقول شوکت واسطی:

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ گزر گیا

بلاشبہ بڑھاپا ایک کڑوا سچ ہے چونکہ آدمی زندگی کے ابتدائی حصہ اور جوانی تک اپنے اہل وعیال،اولاد اور اپنے آپ کی خاطر بے پناہ کشمکش اورجدوجہد کرنے کی وجہ سے آرام کا محتاج ہوجاتاہے۔ پھربڑھاپے میں تھک ہار کر ایک ٹھہراؤ اور سکون طمانیت تلاش کرتا ہے اب چونکہ زندگی کے قوس وقزح، موج میلوں،جوش وجذبہ کی طاقت سے خود کو محروم پاتاہے چونکہ اب اعضاء میں اعتدال اور کام کرنے کی ہمت باقی  نہیں جبکہ ماضی کی پوری زندگی کھٹے میٹھے تجربات ومشاہدات،اُتار چڑھاؤ سے گزار کر اب اس مقام پر آن پہنچا ہے۔ اب وہ تھکاماندہ،اپنی محبوب ترین اولاد سے کچھ عزت واحترام کی امیدیں وابستہ کیے اپنے چھوٹے بچوں اور بچوں کے بچوں کے ساتھ پُرسکون وقت گزارنا چاہتاہے۔

سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

لیکن زہے بدنصیبی! جب عزیز ترین اولاد بھی اسے اپنی توقعات کے مطابق عزت،احترام،مقام ومنزلت دیتے ہوئے نظر نہ آئے تو اسے شدید مایوس کن ٹھیس لگتی ہے۔ چونکہ کسی زمانہ میں وہ بوڑھا بزرگ ماں باپ کی صورت میں من ہی من میں سوچتاہے کہ اب شاید ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے گھر میں بھی اس کے لیے جگہ عافیت کی قلت پڑتی ہوئی نظر آتی ہے، آج وہ ایک غیر ضروری ساپرزہ بن کر رہ گیا ہے۔ آج اس کی اکلوتی اولاد بھی یہ بھول گئی ہے کہ وہ جس مقام پر فائز ہے وہ ان ہی بزرگ والدین،بزرگوں اور بوڑھوں کی بے انتہامحبتوں،محنتوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ ویسے بھی یہ مکافات عمل ہے کہ جو آج بوئیں گے وہی کل کاٹیں گے۔

از مکانات عمل غافل شود
گندم از گندم جو از جو

بیٹے کو بچپن سے جوانی تک جو والدین بڑی محبت سے پالتے ہیں نازبرداریاں کرتے ہیں، آج اس اولاد کو بھی چاہیے کہ والدین کے احسانات واحساسات لمحہ بہ لمحہ یادرکھیں۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بڑھاپے میں والدین کے کپڑوں سے گندگی یا پیشاب صاف کرتے وقت کبھی اف تک نہ کہنا جیسا بچپن میں والدین نے ان بچوں کی گندگی صاف کرتے وقت صبر کیا تھا۔ (در منثور 4/171)

آج کے نفسا نفسی کے عالم میں زیادہ سے زیادہ اپنے والدین کی قدر کیجیے نہ کہ ان کی بے توقیری اور بے قدری ناشکری کرکے اپنی دنیا وعقبیٰ اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے کی حماقت کرنا۔آج کی نوجوان نسل کا فریضہ بنتاہے کہ وہ اپنے گھروں کے چراغ والدین،بزرگوں اور بڑوں کے ڈھلتے ہوئے سورج کی طرح زندگی میں معاون ومددگار بنیں، ان کی خاطر مدارت کریں ان کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اس ڈھلتی ہوئی عمر میں بھی رات کی چاندنی کی طرح پورے ماحول کو روشنی بخشتے رہیںچونکہ یہ بزرگ ہی تھے جو آپ کے مکان کو گھر بنانے کا موجب بنے، اور ایسے چراغ تھے جو خود جل کر بچوں بچیوں چھوٹے،بڑوں سب کو روشنی سے منور کرتے رہے، اب بھی انہی کے دم خم سے تمام رشتہ داروں سے رشتہ جڑا ہوا ہے دنیا گواہ ہے کہ جب اولاد اپنے راستہ سے بھٹک جایا کرتی تھی تو یہ بڑے بزرگ ہی انہیں راہ راست پر لایا کرتے تھے، آج تو خود یہ بیچارے کسی کے سہارے کے محتاج بن چکے ہیںاولاد پر آج یہ سب کچھ ایک بارگراں بنتا نظر آتاہےکاش ان کو بھی سمجھ آجائے کہ ان نوجوانوں کو اگر اپنی زندگی مزید سنوارنی ہے تو ان بوڑھے والدین اور بزرگوں کی زندگی سنواریںورنہ یہ کہاوت تو سب نے سنی ہوگی کہ جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔

اولاد کو کبھی تکلیف ہو یہ ماں باپ کو کسی صورت میں گوارا نہیں ہوتابچے کی پیدائش کے ساتھ اس کے مستقبل کے متعلق والدین متفکر ہوا کرتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اولاد کو حکم دیا ہے کہ جب والدین عمردراز ہوکر بوڑھے اورضعیف بن جائیں تو اُن کے حسن سلوک کو یادکرکے ان سے بھی احسان کیا کرو والدین بوڑھے ہوں، جوان ہوں،ضعیف ہوں یا توانا ہوں ہرصورت میں ان کی اطاعت لازمی ہے۔ انہیں آرام وسکون پہنچانا، ان کی خدمت بجالانا، اولاد پر فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو یہ جملہ تین بار فرمایا: یعنی وہ ہلاک وبرباد ہوجائے جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر بھی ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا۔ (صحیح مسلم:2551)

ہم نے ہنس ہنس کر تیری بزم میں اے پیکر ناز
کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم؟

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرے۔

وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا١ؕ (العنکبوت:8)

قرآن وحدیث اورسیرت میں کئی اورمقامات پر اس طرح کے احکامات آئے ہیں جن میں بھرپور انداز میں تاکید کی گئی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور ان کے تمام حقوق ادا کرے حتی کہ اگر وہ اپنی اولاد کو جھڑکیں تب بھی اولاد کو چاہیے کہ وہ ان سے سخت کلامی کا بُرا تأثر نہ لیں، اور ان کی محبت اور خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔ چونکہ یہ مسافران عدم ہیں۔

ہوا کے دوش رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی؟

حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میرے لیے حسن سلوک کا سب سے زیادہ کون مستحق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں، صحابی نے یہ سوال تین بار دہرایا تو ہر بار جواب آیا تیری ماں، چوتھی بار فرمایا: تیرا باپ ۔ (صحیح مسلم)

اس طرح بہت ساری احادیث سے ماں باپ کے حقوق کے متعلق احکامات فرمائے گئے ہیں۔ مختصراً ہر انسان پر لازم ہے کہ بڑا ہونے کے بعد وہ ہر طرح اپنے والدین کے حقوق ادا کرے اور ان کے بڑھاپے میں اس طرح کام کرے جس طرح اس کے بچپن میں اس کے والدین کام آئے تھے۔ دوسرا یہ پہلو بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کا فرمانبردار ہوکر ثابت کرتاہے کہ وہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کا پابند ہے۔

چونکہ والدین کا رشتہ قدرت کی تخلیق کا عجیب شاہکار ہے، قدرت نے اس لازوال رشتہ میں سورج کی حدت،چاندی کی ٹھندک،کائنات کی وسعت، بجلی کی چمک،زمین کی گہرائی،آسمان کی بلندی، سمندر کا سکوت،پھولوں کی خوشبو،شبنم کی تازگی،فرشتوں کی پاکیزگی اورابررحمت کا سایہ شامل کرکے والدین کے وجود کو زیست بخشی ہے۔

اب دنیا میں نہ آئیں گے یہ لوگ
کہیں ڈھونڈے نہ پائیں گے یہ لوگ

ہاں مانا کہ اب ان بڑے بوڑھے والدین اوربزرگوں میں وہ ماضی والی ہمت،طاقت،توانائی نہیں۔ ان پہ ضعف کا غلبہ ہے، جلدی ہی ان کے صبر وسنجیدگی کا پیمانہ لبریز ہوجایا کرتاہوگا۔ ان کے دل بھی نرم پڑگئے ہیں وہ خاموشی کے خوگر بن چکے ہیں اب انہیں بات بات پر رقت طاری ہونے لگتی ہے اب ان کی چال ڈھال میں سستی وکاہلی، بات میں لرزہ چہرہ میں اداسی آچکی ہے مگر پھر بھی ان کے دم خم سے ہی تمہارے گھروں میں خیروبرکت کا نزول ہوتاہے۔ کیا آپ یہ حکم بھول گئے ہو کہ

البركة مع أكابركم

کہ تمہارے گھروں کی برکت تو تمہارے ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ ہے۔

بھلا کون ہے جو برکت کا متلاشی نہ ہو؟ لیکن خدانخواستہ بڑھاپے کے باوجود جب ان کے بچوں پر کوئی ذرا سی آفت آن پڑتی ہے تو پھر دیکھو یہ کس قدر بے قرار ہوجاتے ہیں رات کو قدرے تاخیر سے گھر آئیں تو یہ بوڑھے جاگ جاگ کر رات گزارتے ہیں بار بار پوچھتے ہیں جب کھانے کو کہا جائے تو آہستگی سے کہہ دیتے ہیں کہ چھوڑو وہ آئےتو کھالیں گے۔یہ جب چلے گئے تو خوب یادکروگے!!

اداس بیٹھے ہیں گھر کی دیوار پر پرندے
جو صحن میں تھاشجر بہت یاد آرہا ہے

افسوس ابن آدم کی اولاد کو جتنی محبت اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد سے ہوتی ہے اس کا عشرعشیر بھی والدین کے نصیب میں نہیں۔شاید یہ اس لیے ہو کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بھی والدین نہ تھے، جبکہ محبت، انس،تعلق،دلسوزی اور اضطراب کا بھاؤ بھی آگے کی طرف ہوتاہے۔

خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زبان میری

کاش جن کے والدین ابھی زندہ ہیں وہ تو ان کی قدر کرتےان کی دعاؤں سے استفادہ کرتے ان کو خوش رکھتے چونکہ وہ اب کچھ وقت کے تمہارے پاس مہمان ہیں۔ اگر بڑھاپے کی وجہ سے ناراض ہوجائیں تو بھی انہیں راضی کر لو، ان کی خدمت کر لو، اپنی جھوٹی انا کو جھٹک کر ان کے ہاتھ چومو، ان کے منہ میں اپنے ہاتھوں سے نوالہ ڈالو ، انہیں گلے سے لگاؤ محبت دو، باتیں کرکے ان کا جی بہلاؤ، وقت کا پرندہ بڑی تیز رفتاری سے اڑا جارہاہے، دیکھو وقت ضائع کرکے کہیں ساری زندگی کا پچھتاوا نہ حاصل کرو، ان کا قدرومقام ان سے پوچھو جن کے والدین اس جہان سے کوچ کرچکے ہیں۔

مراد ما نصیحت گفتیم حوالت باخدا کردیم ورفتیم

ان کی جھریوں بھرے رخسار اپنے رخساروں پر سجاؤ، ان کے درد سے دکھتے جسم کو اپنے ہاتھوں سے خوب دباؤ اور آرام پہنچاؤ، ان کی پرنم آنکھوں کا نور بنو، ان کی یادداشت کمزور ہونے کی وجہ سے جب وہ کوئی بار بار سوال کریں تو خندہ پیشانی سے محبت بھرا جواب دو، ان سے باتیں کرتے وقت ہمیشہ صبروتحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرو چونکہ ایک دن تمہیں بھی آخر اسی منزل پر آناہے۔ پھر آہیں بھروگے ان کے خلوص کے لیے تڑپوگے لیکن یہ ایسے جانے والے ہیں جو کبھی واپس نہیں آئیں گے؟ آسمانی آواز پہ کان لگاؤ کہ کون فرمارہاہے؟

فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۰۰۲۳ وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًاؕ۰۰۲۴  (بنی إسرائیل: 23-24)

سچی بات تو یہ ہے کہ موجودہ مادہ پرستی کے ماحول نے ہمیں والدین کی اہمیت اور عظمت سے غافل کر دیاہے۔ ہمارے معاشرے کا شیرہ بری طرح بکھرچکا ہے آسائشوں کے حصول نے انسانوں کو ہرچیز سے لاتعلق کردیاہے۔ ہم اپنے خاندانی نظام کی اکائی والدین کے وجود سے بھی بےخبر ہوچکےہیں اور ان کا تقدس تک کھوچکے ہیں۔ ہمیں مادیات کی دوڑ دھوپ نے والدین کی چھاؤں سے بے خبر بنادیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں والدین کی اہمیت ومقام ومرتبہ اور اطاعت وفرمانبرداری کو پھر سے مشعل راہ بنایا جائے تاکہ خاندانی نظام کی بقا وسلامتی برقرار رہے۔

آج کے پُر آشوب حالا ت میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جملہ معمر خواتین وحضرات کا احترام کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات بھی قدرے کم ہوسکیں، بلکہ کوشش کرکے بڑوں کا بڑھاپے میں سہارا بنیں، ان کے مصائب کم کریں، ان کی دعائیں حاصل کریں، ان کی چھوٹی موٹی غلط فہمیاں اور غلطیاں عفوودرگزر کی نظر سے دیکھیں، اسی میں پوری انسانیت کا بھلا ہے۔ بلاشبہ یہ معمر بزرگ شہری بھی اپنی قوم کا باوقار اثاثہ ہیں، ان کی زندگی کے نشیب وفراز دکھ سکھ اور قیمتی تجربات ومشاہدات سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے اقوال وافعال خیر کو مشعل راہ بنائیں چونکہ ’’آج کا نوجوان کل کا بوڑھا‘‘ ہے، ہم ان کو ایسا پاکیزہ ایمان افروز، روح پرور ماحول دیں کہ جو ہر روزگھڑی گھڑ گھٹ گھٹ کر مرتے ہیں ان سے ان کو نجات دلا کر خوشگوار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔

بہت نکلے مرے ارمان پھر بھی کم نکلے

افسوس اب تو ہمارے ہاں تو پورا معاشرہ قابل رحم بن چکا ہے، یورپ سے تازہ رپورٹ کے مطابق بڑے، بوڑھوں، بزرگوں کے لیے دنیا کا بہترین اورمعیاری ملک ناروے جیسا مذہب بیزار ملک ہے دوسرا نمبر سوئیڈن، تیسرے نمبر پر سوئزر لینڈ، چوتھے نمبر پر کینیڈا اور پانچویں نمبر پر جرمنی ہے۔ ان سب ممالک سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں صد افسوس! پاکستان بوڑھوں کے لیے بدترین ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

العیاذ باللہ! ایک طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ بوڑھے لوگوں کے لیے نفرت،حقارت اورمنفی جذبات رکھتے ہیں وہ خود اپنی جارحانہ طبیعت کی وجہ سے عنقریب امراض قلب، فالج اوردیگر خوفناک بیماریوں کے شکار ہونے کی وجہ سے اپنے ہم عمروں سے کم عرصہ تک سکون کی زندگی گزار سکیں گے اور پھر بیماریوں کا لقمہ بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کے ابدی اصولوں پر چلا کر دنیا وعقبیٰ میں کامیاب وکامران فرمائے۔ آمین

بڑھاپا ایک ناگزیر قدرتی عمل ہے جسے عموماً ایک تکلیف اور پر مصائب عرصہ حیات سمجھا جاتاہے لیکن اگر زندگی باقی ہے تو اس سے مفر بھی نہیں، یہ ایک کڑوا سچ ہے۔ اس دور کو ہمت،بہادری، اور بردباری سے گزارناواقعی دل گردہ کی بات ہے۔

یہ جھریاں بس پیری میں دست قدرت نے
چناہے جامہ ہستی کو آستینوں کے لیے

معمر افراد کے بڑھتے ہوئے تناسب سے معاشرہ سے ہم اپنی فلاح وبہبود کے لیے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں اگر ان کی نسل سمجھدار اورباشعور ہے تو پھر یہ نوجوانوں کی زندگیوں میں اپنے تجربات ومشاہدات کے ذریعے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اپنی سوچ بچار اور دانش مندی سے معاشرے کے مستقل کے لیے مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ یہ اپنے طویل تجربات،مشاہدات اورمعاملات سے نئی نسل کے عزائم کو حوصلہ بخش بنا کر مفید مؤثر بناسکتے ہیں۔ بوڑھوں اورنوجوانوں کی یہ ذہنی ہم آہنگی اتحاد واتفاق معاشرے کے لیے ابر باراں ثابت ہوسکتاہے۔ باقی اگر خود پہ بڑھاپا سوار کیا تو بقول غالب:

مضمحل ہوگئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

نفسیاتی پہلو سے بڑھاپا اچھا گزارنے کا ایک فن یہ بھی ہے کہ آپ نئی پود کو ہمیشہ اپنا سہارا سمجھیں، انہیں کبھی بھی اپنے راستہ کا سنگ گراں نہ گردانیے، تو شاید ایک دن وہ بھی آپ کو اپنا بزرگ، معمر، مہربان مان لیں۔ اور وہ بھی آپ کو اپنا حریف اورمخالف نہ سمجھیں چونکہ آپ کے اور اس نئی نسل کے دور میں بڑا فرق ہے۔ جسے آپ اب مٹانے کی پوزیشن میں نہیں، بوڑھے احباب کو بھی صبر وشکر،ذکروفکر اذکار مسنونہ کا سہارا لینا چاہیے۔ بڑھاپے کی سب سے عجیب چیز ہے یاد ماضی! لوگ گزرے زمانے کی باتیں کرتے نہیں تھکتے، انسان کی بہتری اس بات میں ہے کہ زمانہ کی مفید تبدیلیوں کے سانچہ میں خود کو ڈھالے، جو ایسے اسباب پیدانہیں کر سکتا وہ اپنا ہی سکون ختم کرتاہے۔

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرہ عمررفتہ کو آواز دینا

آخری بات کہ حتی المقدور بڑھاپے کو گناہوں کی آلودگیوں سے بچانا چاہیے۔ جھوٹ، غیبت،کردارکشی،غلط بیانی سے ہمیشہ خود کو بچا کر فکروذہن جسم وجان کی نظافت اور پاکیزگی کو اپنانا چاہیے دنیا کی گندگی سے اٹادل اب صرف اور صرف اپنے خالق ومالک کی یاد سے آباد کرنا چاہیے۔

ارشاد باری تعالیٰ میں کیا خوبصورت بات سکھائی گئی ہے :

يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُۗۖ۰۰۲۷ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًۚ۰۰۲۸ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْۙ۰۰۲۹ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ ۰۰۳۰ (الفجر:27۔30)

اے وہ نفس جس نے اطمینان اختیار کیا، لوٹ اپنے رب العزت کی طرف تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، پھر شامل ہومیرے بندوں میں اور داخل ہو میری جنت میں۔ بڑھاپے سے بچنے کی غرض سے شراب نوشی، بسیار خوری، منشیات، تمباکونوشی، کبروغرور،

کثافت، حرص وہوس، طمع ولالچ، غصہ وغضب، بسیار گوئی، خودنمائی اورخودستائی کی آلائشوں سے اپنے نفس کو حتی المقدور بچانا چاہیے۔ اس حکم کو ہمیشہ ذہن میں تازہ رکھیں کہ

الاعمال بالخواتیم

کی روشنی میں آپ پر بڑھاپے کی اہمیت اور بڑھ جائے گی۔

دیکھے مجھے جو دیدہ عبرت ہو۔

خیر اور نیکی کے جذبہ کے ساتھ حفظان صحت کے اصول وقواعد کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا، مثلاً: غذائیت بخش خوراک کھائی جائے، وزن کم رکھا جائے، دل میں کسی کے لیے روگ دشمنی،عداوتکو بھول کر بھی پاس نہ رکھا جائے بلکہ اس کی جگہ دل ودماغ میں سب کے لیے عزت واحترام، محبت اور شفقت کے جذبات فروزاں رکھے جائیں، زبان سے لا یعنی غلط باتوں کی جگہ ہمیشہ محبت کے پھول جھڑتے رہیں، اپنے غیر سب کے لیے زبان سے دعائیں جاری رہیں، بوقت ضرورت اور طلب اپنے تجربات اور مشاہدات سے نئی نسل کو روشناس کرتے رہیں۔ اللہ کرے آپ ہمیشہ برگدکے گھنے پیڑ کی طرح ہردلعزیز سایہ دار بن جائیں، چونکہ دوسروں سے محبت کرنے والے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے دنیا سے جدا ہوجائیں تو بھی دلوں میں ان کی یاد اور زبانوں پہ خیر اور بھلائی کے تذکرے ہمیشہ آب رواں کی طرح تازہ رہتے ہیں۔ ہر شخص کہتا رہے کہ

رفتید ولے نہ از دِلِ ما!

اے میرے پیارو، تم چلے تو گئے لیکن ہمارے دل سے نہیں۔

بشکریہ: محلہ اسوۂ حسنہ

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *