مجھے آج بھی آزادی کی تلاش ہے
تحریر زینب فاطمہ
میں ایک عام پاکستانی لڑکی ہوں۔ ہر سال 14 اگست کو لوگوں کو جشن آزادی مناتے ہوئے دیکھتی ہوں تو پہلے اپنے من میں ضرور نظر ڈالتی ہوں کہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے میںنے اپنے ملک کے لیے بھی کچھ کیا ہے یا نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک پاکستانی لڑکی ہونے کی حیثیت سے کیا کسی اور خاتون کی زندگی پر مثبت اثر مرتب کیا؟ میں خود کو ایک فیمينسٹ سمجھتی ہوں اور اس میں مجھے کوئی عار نہیں کہ میں عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا فرض منصبی سمجھتی ہوں۔
میں آج اپنی دادی کے پاس بیٹھی ان سے تحریک آزادی کے دوران ہونے والے واقعات سن رہی تھی۔ میری دادی نے پاکستان بننے کے بعد امرتسر سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ میں ان کی جدوجہد کو سن کر ایسا محسوس کرتی ہوں جیسے ان کا تحریک آزادی میں بہت بڑا ہاتھ تھا اور یہ سچ بھی ہے، چاہے بہن کی حیثیت سے ہو یا بیٹی اور ماں کی حیثیت سے، خواتین نے قیام پاکستان میں بہت سی قربانیاں دیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ظلم و زیادتی کی انتہاوں کا بھی سامنا کیا جو آج کی نسل سوچ بھی نہیں سکتی مگر افسوس، کہانی کا وہ حقیقی پہلو شائد آج کہیں کھو سا گیا ہے۔
یہ صرف قیام پاکستان کے دوران ہونے والے واقعات تک ہی محدود نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کو 75 سال بیت چکے ہیں لیکن ہم اب بھی ایک ترقی پزیر قوم ہی ہیں۔ لوگ یہ سن کر حیران ہوتے ہیں لیکن مجھے اس میں حیرانگی کا کوئی پہلو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری عورتیں آج بھی اسی ظلم و جبر کا شکار ہیں جو وہ پاکستان بننے سے پہلے سے برداشت کرتی آئی ہیں۔
کوئی دن ایسا نہی گزرتا کہ کسی بچی یا خاتون سے زیادتی کی خبر نہ سننے کو ملے۔ میرے دل میں ابھی بھی خوف کے گہرے بادل چھائے ہیں کہ میں نے کل دوسری خوفزدہ لڑکیوں کو یہ کہہ کر کہ شاید اب ایسا نہ ہو کیونکہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے یا شاید اب ان سفاک جانوروں کے دلوں میں تھوڑا ڈر بیٹھے کیونکہ عورتوں پر کیے جانے والے تشدد اور زیادتی کے خلاف تحفظ نسواں سمیت بل قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے۔ لیکن یہ دلاسے اس سلگتے زخم پر نمک چھڑکنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کرتے کیونکہ ان مقدس ایوانوں میں بیٹھے قوم کے نمائندے اس بات پر ہی متفق نہیں ہوتے کہ زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے یا نہیں۔ ان مقدس ایوانوں میں عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی روک تھام کے لیے پیش کیے جانے والے بلز میں سے ایک پھر کہیں روک دیا جاتا ہے اور نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر منظور ہی نہیں ہوتا۔
اس ملک میں چند ماہ کی بچی سے لے کر بوڑھی ماں تک کو جنسی تشدد کر کے بے بسی کی آگ میں ہمیشہ کیلئے جھلسنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو بیاہ دینا سر سے بوجھ اتارنے کے مترادف ہے۔ یہاں اب بھی وہ لوگ موجود ہیں کہ جو بیٹی کے پیدا ہونے پر سوگ اور بیٹے کے پیدا ہونے پر جشن مناتے ہیں۔ یہ تو صرف ان واقعات کی ایک جھلک ہے کہ جو رپورٹ ہوتے ہیں، ورنہ کتنے اندوہناک سانحے تو ہم تک پہنچتے ہی نہیں۔ کسی نے شاید درست ہی کہا ہے کہ یہ ملک ترقی نہیں کرے گا جس کی آدھی آبادی ہی گھروں کے اندر بیٹھی ہوئی ہے۔ لیکن ان عورتوں پر صرف جسمانی تشدد ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو ذہنی کرب سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ یہ کہانی صرف پاکستان کی نہیں۔ میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں جہاں مرد اور عورت کو برابر حقوق دیئے جا چکے ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کو حقوق دیئے ہی نہیں جا سکتے بلکہ حقيقت یہ ہے کہ ہم یہ کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔
ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو عورت کو جائیداد میں حق دینے کو لبرلز کی سوچ سمجھتے ہیں اور عورتوں کو آزادی رائے کا حق دینے کو مغربی ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ ایک عورت ہونے ک حیثیت سے میں صرف اپنے ملک کی عورتوں کے لیے ہی پریشان نہیں، مجھے ڈر لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ غلبے سے وہاں رہنے والی بچیوں کا بچپن دوبارہ اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ مجھے خوف ہے کہ وہاں رہنے والی مجھ جیسی لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گی بلکہ کم عمری میں ہی جبری طور پر بیاہ دی جائیں گی، حالانکہ لڑکی کی مرضی کے خلاف شادی بھی اسلامی لحاظ سے ایک دھوکہ ہے، حقیقیت میں یہ زنا بالجبر ہی ہے جس کو شادی یا نکاح کا نام دے کر قانونی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسا کام کرنے والے ڈریں کہ اگر دنیا میں ان کو سزا نہیں مل رہی تو کیا ہوا، آخرت میں ہمیشہ کی آگ کی سزا ان کا مقدر ہو گی۔
میں آزادی کی وہ جنگ جاری رکھوں گی کہ جو شاید ہم سمجھتے تھے کہ ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا کہ یہاں مرد اور عورت اسلامی اصولوں کے مطابق برابری اور آزادی کی زندگی گزار سکیں۔ لیکن ہم یہ حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔ ہم نے ہندوؤں کی غلامی سے نکلنا تھا مگر یہاں ہم کسی اور کے غلام ہیں، شائد اپنوں کے، جو کہتے تو خود کو مسلمان ہیں لیکن ان کی زندگی کے شب و روز ہندووں سے زیادہ مختلف نہیں۔ دوسروں کا حق کھانا، آٹا، چینی غائب کر دینا، غریبوں کی زمینیں ہتھیا لینا، غریب عوام پر بے تحاشا ٹیکس اور امیروں کو آزادی کہ وہ اربوں کا ٹیکس معاف کروا لیں۔ یہ کہاں کا اسلام ہے جبکہ اسلام تو ان عوام دشمن سرگرمیوں کیلئے سخت سزائیں تجویز کرتا ہے۔ آج جو پاکستان میں بڑے بڑے سیاستدان بنے بیٹھے ہیں حقیقت میں شائد یہ اتنے ہی بڑے ڈاکو ہوں۔
ہمیں انسانی معراج کے وہ اعلی اصول اپنانے ہوں گے کہ نچلےطبقے کی عورت کو وہ حقوق ملیں کہ وہ بھی اپنی محنت کے مطابق آمدنی حاصل کر سکے۔ ورنہ جو عورت ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری میں محنت مزدوری کرتے ہوئے صنعتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنی ہوئی ہے، اس کو بھی مرد کے برابر معاوضہ دیا جائے۔ ورنہ تب تک ہم اپنے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کے اس کام کو پایہ تکمیل تک نہیں ہہنچا سکتے کہ پاکستان حقیقت میں عوام کی خوشحالی اور ترقی کا نام ہے۔ یہاں تو جاگیردار، صنعتکار سمیت امیر طبقے نے ہی ترقی کی ہے، غریب تو غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور اب تو ایک وقت کی روٹی کھانے کو ترسنے پر مجبور ہے۔ ڈریں اس وقت سے جب قدرت کا ہاتھ حرکت میں آ جائے اور مزدور کے ہاتھ میں اوزار کی بجائے پتھر ہوں گے اور ان کا حق کھانے والوں کو اپنی جانیں بچا کر بھاگنے کے سوا کچھ نہ سوجھے گا۔


