ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مصائب پر صبر اور دشمن سے عفو کا سلوک
تحریر طاہرہ زرتشت ناروے
الله تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے اخلاص اور وَفا کو آزمانے کے لئےخوف، بھوک مصیبت سے اور کبھی جان ومال کی قُربانی لے کر ان کا امتحان کرتا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اُترتے ہیں۔ تو الله تعالیٰ ان سے راضی ہوتاہے اور اُنہیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔
ہمارے پیارے آقا محمد مصطفٰی ﷺکی زندگی میں بہت ابتلاء اور مصائب آئے لیکن ہر ابتلاء کے موقع پر آپ نے کمال صبر کا نمونہ دِکھایا۔ جس کی مثال نَہیں ملتی۔
ایک دفعہ آنحضرت ﷺسے پوچھا گیا یا رسول لله :- سب سے زیادہ ابتلاء کن لوگوں پر آتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا:- ’’نبیوں پر ۔ …
پھر اُن پر جو اُن کے قریب ہوں۔ پھر اُن سے قریب تر لوگوں پر‘‘
ہمارے آقا محمد مصطفٰی صل الله و علیہ وسلم نبیوں کے سردار تھے۔ آپ کابہت بڑا مقام تھا۔ اس مناسبت سے آپ پر بہت بڑے بڑے ابتلاء اور مصائب آئے۔ بڑے دُکھ دیے گئے۔ لیکن ہر موقع پر آپ نے صبر کا اَعلٰی نمونہ دِکھایا۔
آپ فرماتے تھے کہ مومن کے لئے تو دنیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اور سوائے مومن کے یہ مقام کسی کو حاصل نَہیں ہوتا۔ اگر اُسے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ خُدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور الله تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔اور اگر اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے۔ (مسلم)
ہمارے پیارے آقا محمد مصطفٰی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر ساری زندگی ناقابلِ بیان مظالم ہوتے رہے۔ لیکن ان مظالم پر آپ نے کبھی ردّ عمل نَہیں دِکھایا۔ بلکہ صبر کیا اور ہمیشہ صبر کا نمونہ ہی دکھایا۔
ایک دفعہ ہمارے آقا محمد مصطفٰی صلی الله علیہ وسلم خانہ کعبہ میں عبادت کر رہے تھے۔ کہ آپ کی گردن میں پٹکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کر دِیا تاکہ دم گُھٹ جائے۔ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں اتنے میں حضرت ابو بکر رَضی الله تعالیٰ عنہ وہاں آگئے اُنہوں نے یہ کہتے ہوئےآپ کو اُن لوگوں سے چھڑایا کہ اے لوگو : کیا تُم ایک آدمی کو اس جُرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہےکہ خُدا میرا آقا ہے۔
ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اُونٹ کی اوجری لا کر رکھ دی گئی اُس کے بوجھ کی وجہ سے آپ سر نہ اُٹھا سکے۔
ایک دفعہ آپ بازار سے گذر رہے تھے تو مکّہ کے اوباش لوگوں کا ایک گروپ آپ کے پِیچھے ہولیا سارا راستہ آپ کو ستاتے رہے۔ اور کہتے گئے کہ لوگو ! یہ وہ شخص ہےجو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں۔
آپ کے گھر پر پتھر پھینکے جاتے تھے۔ باورچی خانے میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفاپہاڑی پر حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ آپ کا سب سے بڑا دُشمن اور مکہ کا سردار ابو جہل وہاں سے گُزرا اُس نے آپ کو گالیاں دیں آپ اُس کی گالیاں سُنتے رہے لیکن کوئی جواب نہ دِیا۔ اور صبر کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
کُفّارِ مکَہ نے باہم مشورہ کرکے فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے سارے خاندان کا سوشل بائیکاٹ کر دِیا جائے اور اُنہیں ایک جگہ محصورکر کے تباہ کردیا جائے۔ چنانچہ ایک معاہدہ لکھا گیا کہ کوئی شخص آنحضور کےخاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتہ نَہیں کرے گا۔
نہ اُن کے پاس کوئی چِیز فروخت کرے گا اور نہ ہی اُن سے کچھ خریدے گا اور نہ ہی اُن تک کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دیگا۔ اور نہ اُن سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا۔اس معاہدہ پر بڑے بڑے سرداروں کے دستخط ہوئے۔اور پھر اُسے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا۔
چنانچہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو، آپ کے سارے خاندان کو ایک گھاٹی شعبِ ابی طالب میں قید کردیا گیا۔ وہاں جو مصائب اور سختیاں آپ کو، آپ کے ماننے والوں اور آپ کے خاندان کو برداشت کرنا پڑیں اُن کا حال پڑھ کر آج بھی بدن لرز اُٹھتا ہےبعض اوقات جانوروں کی طرح جنگلی درختوں کے پتے کھا کھا کر گُزارا کیا جاتا تھا۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت اُن کا پاؤں کسی ایسی چِیز پر جاپڑا جو تر اور نرم معلوم ہوتی تھی۔ اُس وقت بھوک کا یہ عالم تھا کہ دیکھے بغیر وہ چِیز اُٹھا کر فورًا مُنہ میں ڈال لی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آج تک معلوم نَہیں کہ وہ کیا چِیز تھی۔ایک دفعہ ایک صحابی کو ایک سوکھا ہوا چمڑا زمین پر پڑا ہوا مل گیا تو اُسی کو اُنہوں نے پانی میں نرم اور صاف کیا اور پھر بُھون کر کھاتے رہے۔ بچوں کی یہ حالت تھی کہ بھوک کی وجہ سے اُن کے رونے اور چلّانے کی آوازیں وادی سے باہر جاتی تھیں تو کُفّارِ مکّہ خوش ہوتے تھے۔ اسی طرح برابر تین سال تک یہ بائیکاٹ اور قید جاری رہی۔ حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب شعبِ ابی طالب کے ظُلموں کو سہتے سہتے اس دُنیا ئے فانی سےرُخصت فرما گئے۔ اس ظلم و بربریت پر بھی میرے آقا صلی الله علیہ وسلم نے انتہائی صبر وَ استقلال کا نمونہ پیش کیا۔
طائف کا واقعہ بہت مشہور واقعہ ہےجب طائف کے لوگوں نے آپ کی بات سُننے سے انکار کر دِیا تو شہر کے آوارہ اور بد معاش لوگ آپ کے پیچھے لگا دیئے۔
جب حضور صلی الله علیہ وسلم شہر سے نکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپ کے پیچھے ہو لئے۔ اور آپ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے جس سے آپ کا سارا بدن لَہو لہان ہو گیا۔ برابر تین میل تک یہ بد بخت لوگ پتھر برساتے چلے گئے۔ اُس وقت آپ پر فرشتہ ظاہر ہوا اور اُس نے کہا کہ مجھے خُدا نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ اگر آپ اِرشاد فرمائیں تو میں یہ دونوں پہاڑ ان پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کر دوں۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کے صبر کا یہ حال تھا کہ اس قدر تکلیف اور دُکھ دیئے جانے پر بھی آپ نے یہ نَہیں فرمایا کہ ہاں : ان کو ضرور سزا دو بلکہ یہ فرمایا کہ :- ’’نَہیں ! نَہیں ! مجھے اُمید ہے کہ الله تعالیٰ ان میں وہ لوگ پیدا کر دے گا جو خدائے واحد کی پرستش کریں گے ‘‘
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رَضی اللہ عنھا نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپکو کبھی جنگِ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :- ’’عائشہ مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں اور پھر آپ نے سفرِ طائف کے حالات سُنائے‘‘
ظالموں کے ظُلم سے تنگ آکر ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضور صلی الله کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ہمیں ان ظالموں سے مقابلہ کی اجازت دیں۔ آپ نے فرمایا !اِنّی اُمِرتُ بالعَفوِ فَلا تُقَاتِلُوْ
’’مجھے ابھی تک عُفو اور صبر کا حکم ہے۔ اس لئے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نَہیں دے سکتا ’’ چنانچہ آپ کے ماننے والوں نے بڑے بڑے ظلم برداشت کئے آپ کی ذات کو بھی انتہائی تکلیف میں ڈالا گیا لیکن آپ نے خود بھی صبر کیا اور اپنے صحابہ کو بھی صبر کی تلقین کی۔
آنحُضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کُفّار کے مظالم سے تنگ آکر اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ آپ کے قتل کے لئے منصُو بہ تیار کیا گیا اور اس منصوبہ میں سارے قبائل شریک تھے۔ ہر قبیلہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے مقدس خون سے اپنے ناپاک ہاتھ رنگنے کے لئےتیار ہو گیا تھا۔
جب مکّہ والوں کو معلوم ہوا کہ محمد صلی الله علیہ وسلم اُن کے ظالم ہاتھوں سے بچ کر نکل گئے ہیں تو اُنہوں نے ایک فوجی دستہ لے کر آپ کا تعاقب کیا اور کھوج لگاتے ہوئے اُس پہا ڑ تک پہنچ گئے جہاں آپ چُھپے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر اُنہوں نے کہا کہ اس جگہ تو کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں۔ یہاں محمد صلی الله علیہ وسلم کیسے پناہ لے سکتے ہیں۔ کُفّارِ مکّہ نے اعلانِ عام کیا کہ جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کو زندہ یا مردہ گرفتار کر کے لائے گا اُسے ایک سو اُونٹ انعام دیئے جائیں گے یہ انعام اُس وقت کے لحاظ سے کئی لاکھ کرونر کے برابر تھا۔ چنانچہ ایک شخص سُراقہ اس انعام کے لالچ میں روانہ ہوا۔ جب اُس نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کی سواری دیکھی تو اُس نے اپناگھوڑا اُن کے پِیچھے دوڑا دِیا۔ مگر راستہ میں گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور سُراقہ گر گیا۔ اُس نے سمجھ لیا کہ یہ شخص خُدا کا سچّا رسول ہے۔ اُسے یقین ہو گیا کہ یہ ایک نہ ایک دن ضرور غالب آئیں گے چُنانچہ اُس نے درخواست کی کہ مجھے امن کا پروانہ لکھ دیں یہ پروانہ اُسے لکھ کر دے دِیا گیا حالانکہ وہ جانی دُشمن تھا۔ میرے آقا صلی الله علیہ وسلم نے صبروتحمل سے کام لیا اور اُس سے کہا :- اے سُراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ یہ پیش گوئی پھر حضرت عمر رَضی الله عنہ کے دَورِ خلافت میں پوری ہوئی۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بہت پیارے چچا حضرت حمزہ رَضی الله عنہ جو مکّہ میں مصائب کے زمانہ میں آپ کی پناہ بنے تھے جنگِ اُحد میں شہید ہوگئے۔ کُفّار نے اُن کی نعش کا مُثلہ کیا کان ناک کاٹے گئے۔ کلیجہ نکال کر چبایا گیا اور نعش کی بے حُرمتی کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ کی نعش پر تشریف لائے تو یہ حالت دَیکھ کر آپ کو بے حد تکلیف ہوئی۔ اسی جنگ میں ستّر صحابہ شہید ہوئے لیکن اسقدر دُکھ تکلیف اور غم میں بھی آپ نے صبر کے دامن کو نَہیں چھوڑا۔
حضرت خدیجہ کے بطن سے آپ کی نرینہ اولاد قاسم، طاہر اور طیب کم سنی میں ہی فوت ہو گئے آپ نے اس صدمہ پر صبر کیا۔
آپ کی آخری عمر کی اولاد ابراھیم آپ کو بہت پیارے تھے آپ ابراھیم کو اُٹھا کر سینے سے لگاتے اور اُس سے پیار کرتے۔ آپ نے الله تعالیٰ سے علم پا کر فرمایا تھا۔ کہ اگر ابراھیم زندہ رہتے تو وہ ضرور سچے نبی ہوتے۔ اس پیارے بچے کی وفات پر آپ نے کمال صبر کا نمونہ دِکھایا۔ اور الله تعالیٰ کی رضا پر یہ کہتے ہوئے سر جھکا دِیا کہ :- ’’آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دِل غمگین ہے مگر ہم اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی کلمہ زبان پر نہ لائیں گے۔اے ابراھیم تیری جدائی پر ہم سخت غمگین ہیں ‘‘ (بخاری)
جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر گئے مکّہ والوں نے جنگیں بھی کیں لیکن ناکامی ہوئی تو اُنہوں نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی۔ ایک نوجوان کو تیار کیا جوچُھپتا چُھپاتا مدینہ پہنچ گیا ۔اُن دنوں نئے نئے لوگ مدینہ آتے رہتے تھے۔اس لئے کسی کو اس پر شک نہ ہوا۔ مگر جُونہی آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اُس شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص کسی بری نِیت سے یہاں آیا ہے۔
ایک صحابی نے اُسے پکڑلیا اور اُن کا ہاتھ اُس خنجر پر جا پڑا جو وہ قتل کے ارادہ سے چھپا کر لایا تھا۔ جب اُسے مغلوب کر لیا گیا تو اُس نے ساری سازش سچ سچ بتلا دی۔ آپ نےایسے خطرناک جانی دُشمن کو بھی معاف کردیا اور انتہائی صبر سے کام لیا۔
جنگِ خندق کے بعد ایک یہودی عورت نے بکری کابُھنا ہوا گوشت زہر ملا کر پیش کیا۔ حضور دستی کا گوشت کھانے لگے اور دیگر صحابہ نے بھی کھایا۔
اچانک رسول لله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے سے ہاتھ روک لو۔ پھر حضور نے اُس یہودی عورت کو بُلایا اور فرمایا کہ کیا تُم نے اس کھا نےمیں زہر مِلایا تھا اُس نے کہا ’’ہاں‘‘
حضور کے ایک صحابی اس زہر کے اثر سے فوت ہوگئے خود رسول لله صلی علیہ وسلم پر بھی آخری بیماری میں اس زہر کا اثر تھا۔اس یہودی عورت کی اس قاتلانہ حرکت پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اوراُس سے نرمی اور عُفو کا معاملہ کیا۔ اگر کوئی اور حاکم ہوتا تو اُسے اس حرکت پر کڑی سزا دیتا۔
ایک بار ایسا بھی ہوا کہ ہمارے پیارے آقا محمد صلی الله علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے سایہ میں آرام کر رہے تھےایک بد بخت دُشمن نے آپ کو اکیلے دَیکھ کر آپ پر تلوار اُٹھائی آپ سے پوچھا کہ اے محمد اب کون آپ کو مجھ سے بچا سکتا ہے۔ آپ لیٹے ہوئے تھے حرکت بھی نہ کر سکتے تھے عین ممکن تھا کہ وہ آپ پر تلوار سے وار کر دیتا۔ لیکن آپ نے جواب دِیا :- ’’ الله‘‘
اس پر اُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آپ اُٹھ کھڑے ہوئے وہی تلوار آپ نے پکڑ لی۔ اور وہ آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا تھا اگر آپ چاہتے تو اُسے کڑی سے کڑی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن آپ نے اُس کی اس خطرناک حرکت پر نہائت صبر کا مظاہرہ کیا اور اُس کی جان لینے کی بجائے جاں بخشی کی۔
جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ بیماری کی تکلیف سے کراہ رہے تھے۔ آپ کی بیٹی فاطمہ رَضی اللہ عنھا نے بے تاب ہو کر کہا :- آہ ! مجھ سے اپنے باپ کی تکلیف دیکھی نَہیں جاتی۔ رسول الله صلی الله نے سُنا تو ’’فرمایا صبر کرو‘‘
آج کی اس مہذب دُنیا میں کون ہے جو صبر کا ایسا عالیشان نمونہ پیش کر سکے جو ہمارے پیارے آقا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےپیش کیا۔ آج بھی اگر دُنیا آپ کے نقشِ قدم پر چلے تو دُنیا جس تباہی کے طرف جا رہی ہے اس کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ اور دُنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آج بھی معاشرے میں بہت سارےفساد کی وجوہات میں سے ایک وجہ صبراور عفو کا فقدان بھی ہے۔


