متفرق

کرچی کرچی خوابیں

Spread the love

تحریر امۃ الرؤف فرانس

اپنی خوش قسمتی پر اسے پوری طرح یقین نہیں ہوپا رہا تھا وہ سوچ رہی تھی کیا کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی خواہش کرے اور وہ جھٹ سے پوری بھی ہو جائے۔ ابھی تو ’’کسی‘‘ کی نگاہوں کے پیغام نے اس کے دل کے دروازے پہ دستک ہی دی تھی کہ بات بڑوں تک جا پہنچی اور اب اس خاموش رشتے کو بڑوں کی رضامندی کی مہر لگنے جا رہی تھی۔ آج اسے اپنے اردگرد ہر چیز ہنستی مسکراتی اور رقص کرتی محسوس ہورہی تھی اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہانیوں اور ڈراموں میں دکھایا جانے والا ظالم سماج یا روڑے اٹکانے والے لوگ کہاں پائے جاتے ہیں۔ بس دو دن بعد ہی کسی کے نام کی انگوٹھی اس کے ہاتھ کی زینت بننے والی تھی ۔ سب کا خیال تھا کہ منگنی اور شادی کے درمیان عرصے میں وہ اپنی تعلیم مکمل کر لے گی اور عارض کوئی جاب ڈھونڈ لے گا۔ کہتے ہیں نا کہ جب اور کوئی دشمن نظر نہ آرہا ہو تب وقت کسی دشمن کا روپ دھار لیتا ہے۔ ملک میں بےروزگاری اپنے عروج پر تھی وہ بھی اپنی بھاری بھرکم ڈگریاں ایک دفتر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے لے جاتے جاتے تھک چکا تھا۔ تبھی اس جیسے ھی کچھ اور دوستوں نے مل کر پلان بنایا کہ بیرون ملک جا کر قسمت آزمائی جائے اب کسی ایسے شخص کی تلاش کی جانے لگی جو انہیں جلد ازجلد باہر بھجوانے کا انتظام کر سکے۔ تبھی کسی مہربان نے انہیں ڈھیروں سبز باغ دکھا کر ان کی سب جمع پونجی ہتھیا کر انہیں ایک ایسے سفر پہ روانہ کر دیا جہاں سے خیریت سے ان کی واپسی کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ سب نے اسے بہت منع کیا تھا اس نے بھی ٹپ ٹپ گرتے آنسوؤں کے ساتھ کچھ کہنے کی کوشش کی تھی مگر … وہ چند اور وعدے کر کے جا چکا تھا …

جیسے جیسے دن مہینوں میں بدلنے لگےویسے ویسے سب کی بے قراری میں اضافہ ہوتا گیا اس ایجنٹ سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر بے سود … تبھی ان لڑکوں میں سے دو چار کی اپنے گھر بات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ راستے کی بے پناہ صعوبتوں اور تکالیف کے بعد یونان تک پہنچانے کے لئے ہمیں مختلف کشتیوں میں بٹھا دیا گیا تھا ہمیں نہیں معلوم کہ مختلف ملکوں کے ان گنت مسافروں میں سے کون کون سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار بنا تھا مگر آج تک عارض” کو ہم نے کبھی دوبارہ نہیں دیکھا وہ گھڑی وہ دن اس کے ماں باپ کے لئے اس کے عزیز و اقارب کے لئے اور اس کانچ کی ننھی منی گڑیا کے لئے گویا قیامت کا دن تھا وہ ان کے سامنے مٹی کا ڈھیر ہوا ہوتا تو شاید ان کا تڑپنا اسقدر اذیت ناک نہ ہوتا مگر…

وہ عجیب سی اضطراری کیفیت کا شکار تھی اس کا دل چاہتا تھا وہ چیخ چیخ کے روئے مگر کس حق سے والدین کے سامنے تو اسکا نام لینا بھی شاید معیوب سمجھا جاتا اسے لگا یہ گھٹن اسکی جان ہی لے لے گی۔ ایک دفعہ پھر مجبور اور بے بس بڑے “ سر جوڑ کے بیٹھے اور بچپن سے اسے بہو بنانے کے خواب دیکھنے والی پھپھو نے بھائی سے اسکا ہاتھ مانگ لیا۔ فراست اچھا پڑھا لکھا خوش شکل تو تھا ہی بہت اچھی جاب بھی کر رہا تھا۔ اس سے بھی اسکی مرضی پوچھنے کے لئے بتا دیا گیا تھا کہ فلاں دن تمہاری شادی ہے۔ وہ بے زبان گڑیا بولتی بھی کیسے اور کیا … بس چپ کی چادر تھی اور ایک گھر سے دوسرے گھر تک کا سفر تھا۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ سب اپنے پیار اور توجہ سے اس کا دل بہلانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے شروع شروع میں تو اسے عجیب اکتاہٹ محسوس ہوتی ہر بات کا چڑ کے جواب بھی دیتی مگر ردعمل میں خاموشی اور اپنائیت پا کر اسے اپنا آپ مجرم سا لگنے لگتا پھر جب وہ معصوم جاذب دنیا میں آیا تو جیسے زندگی کو ایک مقصد مل گیا اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے اسے پتہ ہی نہ چلتا کہ دن کب شروع ہوا اور کب ختم۔ اور دو سال بعد جب اس نے آنا” کو پہلی دفعہ گود میں لیا تو جیسے پوری کائنات سمٹ کے اسکے وجود میں آگئی ہو۔ بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو فراست کو فیملی سمیت اسکی فرم کی طرف سے باہر جانے کی آفر ہوئی۔ اور اس طرح یہ فیملی اجنبی ملک اور اجنبی لوگوں میں آ بسی۔ بچے سکول جانے لگے تھے اور فراست کو کبھی اس شہر اور کبھی اس شہر جانا پڑ تا ہے۔ اسکے شب و روز سخت قسم کی بوریت کا شکار ہونے لگے تھے تبھی کسی نے اسے گھر کے قریب ہی کسی ہیلتھ کیئر سنٹر میں جاب کا مشورہ دیا جو اس نے بلا سوچے سمجھے مان لیا تھا۔ ابھی اسے یہاں جاب کرتے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے وہ کوریڈور سے آفس کی طرف جا رہی تھی کہ ایک آواز نے جیسے اسے پتھر کا بنا دیا وہ برف کے کسی مجسمے کی طرح وہیں ساکت ہو کے رہ گئی تھی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ مڑ کے اس کا چہرہ دیکھے … یہ ایک پانی سے شدید خوفزدہ مریض کی آواز تھی جس پر اسکے کسی ساتھی نے پانی پھینک دیا تھا اور اب اسکا ڈر اور اسکی وحشت چیخوں میں بدل رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں کے آگے چھائے اندھیرے کو نظر انداز کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اسکی طرف قدم بڑھائے اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا۔ ایک آن میں اس مریض کی چیخیں کم ہو کر اسکی سانس بحال ہونے لگی تھی۔ وہ بڑے غور سے اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر کچھ بولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اس کی ہسٹری جاننے کے لئے بے تاب تھی سو وہ آفس گئی اس کی فائل لی اور پڑھنے لگی … سمندر کی تند و تیز لہروں نے اسکی کشتی کے نہ جانے کتنے ٹکڑے کئے تھے اور موجوں نے اسے ساحل پہ پٹخ دیا تھا ہاسپٹل میں وہ ہوش میں آیا تو تھا مگر ہوش و حواس کھو چکا تھا اسکی شناخت کا کوئی پیپر اسکے پاس موجود نہیں تھا اس لئے اب یہ بے یار و مددگار مسافر اس سنٹر میں اپنے وجود کی کسی گواہی کے انتظار میں تھا… فائل پڑھتے ہوئے آنسوؤں کی شدت سے بہت دفعہ الفاظ اسکے حلق میں اٹکے تھے بہت دفعہ اسکی آنکھیں پتھرائی تھیں کاش یہ ظالم ایجنٹ کسی کو سنہری خواب دکھا کے موت کے حوالے نہ کریں کاش لوگ خود اپنی عقل استعمال کر کے کسی دھوکے میں نہ آئیں تو کسی کانچ کی گڑیا کے خواب یوں کرچی کرچی نہ ہوں … وہ اسے پہچان تو چکی تھی مگر اب اپنے کسی حوالے کے بغیر وہ اس کے ماں باپ کو اس کے بارے میں بتانا چاہ رہی تھی اسکے ذہن کے کسی کونے میں ایک دھن بج رہی تھی … چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

اس نے ایک پیپر لیا اس کا نام اس کا ایڈریس اور اس کے ماں باپ کا نام اور فون نمبر لکھ کے فائل کے ساتھ اٹیچ کیا اور زندگی کے ایک اور باب کو ہمیشہ کے لئے مقفل کر تے ہوئے بوجھل قدموں سے واپس آنے لگی …

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *