خبر اور اخبار کی دنیا
تحریر عاتکہ شاہد
واقعی بہت بھیانک ہے۔خبر اور اخبار کی دنیا۔ جھانک لو تو لگتا ہے زندگی درد کے سوا کچھ نہیں۔عجیب تماشہ لگا ہوا ہے اور گویا ہم تماشبین ہیں، کوئی منظر دیکھنے پر روح کانپ بھی جائے تو ہمارے چاہنے پر نہ خبر بدل سکتی ہے نہ منظر۔۔۔ کسی ہونی کو انہونی نہیں کر سکتے۔ کسی مظلوم کو انصاف نہیں دلا سکتے۔ کسی کی بےبسی دور نہیں کر سکتے۔
مگر کیا ہم واقعی تماشبین ہیں؟ ٹی۔وی کو غصے اور ٹینشن کی وجہ سے بند بھی کر دیں مگر ضمیر کو کیسے سلادیں؟ کیسے برداشت کریں کہ کوئی شہری جلتا ہے تو جل جائے ہمیں کیا؟ کسی کا نقصان ہوتا ہے تو ہو جائے۔اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے۔
ہزار باتیں ہیں جو پچھتاوے کا باعث بنتی ہیں کہ کاش ایسا کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔ چپ نہ رہتا، اس سے نہ ملتا، اس طرح کے کام نہ کرتا۔ مگر ایسا کرنے پر بھی اگر مارا جاتا تو تم کیا کرتے؟ بس یہی کہتے نا کے افسوس! برا ہوا۔ نہیں ہونا چا ہیے تھا۔ تو ایسا کہنے میں کیا منظر بدل جاتا؟ جو غلط ہے وہ ٹھیک ہو جاتا؟ جو لٹ گیا ہے وہ واپس آجاتا؟ تم درست بھی کہتے مگر جو غلط ہوا وہ صحیح ہو جاتا؟
نہیں نا۔ تو بس کچھ نہ کہو۔ تماشبین بنے رہو۔ اگر ہو سکے تو ظلم کو ظلم کہنے پر یہ نہ دیکھو کے ظلم سہنے والے کا شاید یہی مقدر ہے۔
ظالم کا ساتھ دینے سے بہتر ہے کہ خاموش رہو۔ڈرو اس وقت سے اور خوف کرو کہ منظر میں مرکزی کردار بدل بھی سکتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ کل کو تم تماشا اور لوگ تماشبین ہوں۔ تو وہ کیسا منظر ہو گا۔ ذرا سوچو


