عورتمتفرق

عورت مارچ کی ضرورت ہی کیا ہے؟

Spread the love

”آخر عورت مارچ کی ضرورت ہی کیا ہے؟ عورت مارچ ایک دجالی فتنہ ہے، مغرب ہمارے اخلاقی اقدار کو درہم برہم کرنے کے لیے اس نوعیت کے فساد ہمارے معاشرے میں پھیلا رہا ہے، جو سراسر بے راہ روی، بے شرمی اور بے حیائی پر منحصر ہے، ورنہ ہمارے دین نے عورت کو وہ مقام دیا جو اور کوئی نہ دے سکا، عورت کے پاس بحیثیت ماں بہن بیوی اور بیٹی کے انگنت حقوق موجود ہیں“

اس نے کمنٹ ٹائپ کر کے ایک بار دوبارہ تسلی سے پڑھا اور داڑھی کھجاتے ہوئے پوسٹ کر دیا۔

اب وہ جواب کا منتظر تھا، کہ اچانک اس کی نگاہ گھڑی پہ پڑی، شام ہونے کو آئی تھی اور ابھی تک اس کی بہن ٹیوشن سے گھر نہیں پہنچی تھی، وہ ابھی کال ملانے ہی والا تھا کہ اس کے فون پہ کمنٹ کا نوٹیفیکیشن آیا، وہ کال بھول کر تنفر سے کمنٹ پڑھنے لگا

”جس ملک میں بازار میں گزرتی عورت کو دیکھ کر سبحان اللہ ماشا اللہ کی گردان الاپی جاتی ہو، جس معاشرے میں رشتہ نہ دینے پر چہرے پہ تیزاب ڈالے جاتے ہوں، جہاں گھر کی ملازمائیں زنجیروں مین جکڑی ملتی ہوں، جہاں جہیز کے لیے زندگی داؤ پہ لگتی ہو جہاں عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہو بالکل وہاں ضرورت ہے عورت مارچ کی“

”تو محترمہ اس میں مذہب کا قصور نہیں ہمارا قصور ہے، ہمارے دین نے تمام حقوق دیے ہیں پھر سڑکوں پہ مادر پدر آزادی کے نعرے لگانا کہاں کی شرافت ہے؟ یہ سب مغربی تعلیمی نظام کی خرافات ہیں۔ یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ رہ گئی بات جملے کسنے اور عصمت دری کی تو عورت لفظ کا مطلب ہی پردہ ہے اب اگر نیم برہنہ لباس پہن کر باہر گھومیں گی تو مکھیاں تو چمٹیں گی ہی“

عجیب لا دین عورت ہے کیسی واہیات سوچ ہے اس کی ابھی پھر سے کوئی گستاخی آمیز کمنٹ کرے گی یہ، جی تو چاہتا ہے ایک موٹی سے گالی دوں ادھر ہی ٹھنڈی ٹھار ہو جائے گی۔

لیکچر کے طول پکڑنے کے باعث وہ آج اکیڈمی سے کافی لیٹ ہو گئی تھی، جلدی سے برقع اوڑھ کر باہر گلی میں قدم رکھا تو ہر طرف اندھیرا دیکھ کر اس کا دل دہل گیا، سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں وہ خراماں خراماں چلنے لگی، دل میں آیتوں کا ورد کرتے نظریں سڑک پہ جمائے وہ بہت متفکر انداز میں چل رہی تھی کہ جبھی سامنے سے آتے ایک آدمی نے پہلے باآواز بلند ماشا اللہ کہا پھر اس سے خواہ مخواہ ہی ٹکرا گیا۔ اس کی تو جیسے دھڑکن ہی رک گئی، آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں، دل جیسے سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر آتا ہو، اس نے اپنی رفتار بڑھا دی، برقع سنبھالتی اب وہ تقریباً دوڑ رہی تھی۔

وہ گراؤنڈ میں آئی تو دوڑ لگانے تھی لیکن آج اس کا دھیان ٹریک کی طرف کم ہی تھا، مسلسل جھنجھلاہٹ میں فون دیکھتی، غصے سے کچھ ٹائپ کرتی، اوازار ہوتی اور پھر سے دوڑنے لگتی۔ اب کی بار آنے والے کمنٹ نے جیسے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔

”For you your religion, for me my religion“

جس دین نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے اسی نے مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھی دیا ہے، دوسری بات، آپ بلاوجہ اس بحث کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں، اور اگر دے ہی رہے ہیں تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اکثر بچے مولویوں کے ہاتھوں مساجد میں ہی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ ”

کمنٹ ٹائپ کر کے اس نے پانی کی بوتل کو ہونٹوں سے لگایا اور فون جیب میں رکھ کے پارک کے خارجی راستے کو چل دی اب اس کا مزید دوڑ میں دل نہیں لگ رہا تھا۔

دوسری جانب وہ برقع سنبھالتی ہانپتی کانپتی گھر کو جا رہی تھی جب ایک موٹر سائیکل سوار تیزی سے آیا اور اسے غلط انداز سے چھو کر یہ جا اور وہ جا۔ یا اللہ! وہ وہیں سڑک کنارے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی جب ٹریک سوٹ میں ملبوس اسی کی عمر کی ایک لڑکی نے زمین سے ایک پتھر اٹھایا اور پوری قوت سے موٹر سائیکل سوار کی کمر میں داغ دیا، پھر بجلی کی سی تیزی سے اس کے بائیک کی نمبر پلیٹ کی تصویر کھینچی اور برقع پوش کی طرف متفکر انداز سے پلٹی، ”تم ٹھیک ہو؟ یہ لو پانی پیو، حوصلہ رکھو، اس کتے کے پلے کو تو میں چھوڑوں گی نہیں“

برقع پوش اس بہادر لڑکی کو احسان مند نگاہوں سے دیکھے گئی۔
”کیا تم مجھے گھر چھوڑ دو گی؟“

”ہاں کیوں نہیں، بس تم یہ پتھر ہاتھ میں پکڑو اور دھیان ہر آتی جاتی سواری پہ رکھنا، ہمارے ملک میں لڑکیوں کے لیے یہی محفوظ طریقہ ہے“

برقع پوش نے سر اثبات میں ہلایا اور دونوں اس کے گھر کی جانب چلنے لگیں۔

حرافہ! اس جیسی عورتیں پورے معاشرے کو خراب کرتی ہیں، غصے سے اس نے ایک مکا میز پر مارا اور کمنٹ لکھنے لگا

”اگر یہ بات ہے تو ایسے واقعات یونیورسٹیوں میں دگنی تعداد میں ہوتے ہیں اور انہیں واقعات کے نتیجے میں دین سے بے زار لوگ جنم لیتے ہیں۔ ٹرنگ ٹرنگ۔

ارے یہ کیا گیٹ پہ بجتی گھنٹی نے جیسے اس کی سوچ کی روانی ہی توڑ دی، بے دلی سے جا کر دروازہ کھولا تو سہمی سہمی سی اس کی بہن کے ساتھ ایک پر اعتماد لڑکی کھڑی دکھائی دی۔ اس سے پہلے کہ وہ بولنے کے لیے منہ کھولتا اس کی بہن پھوٹ پھوٹ کر رو دی، وہ بے طرح پریشان ہو گیا۔ جبھی وہ لڑکی گویا ہوئی

”پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، انہیں بس ایک موٹر سائیکل سوار پریشان کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ ڈر گئیں، میں نے خیر نمبر نوٹ کر لیا ہے، ایک آدھ دن میں اس کی درگت بنوا لوں گی، آپ یا انہیں دیر سے اکیلے نہ بھیجا کریں یا انہیں تھوڑا باہمت بنائیں ایسے دل چھوڑ دیں گی تو یہ دنیا جینے نہیں دے گی“

جملہ مکمل کرتے ہی وہ چلتی بنی اور اس نے بہن کو بانہوں میں بھر لیا۔ حوصلے سے بٹھایا، پانی پلایا، اور ٹائپ کیا ہوا کمنٹ ڈیلیٹ کرنے لگا۔ اسی اثنا میں اسے سکرین پہ ایک اور کمنٹ نظر آیا۔

”آپ کہتے ہیں عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا دین بہن بیوی بیٹی کو حقوق دیتا ہے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے لیے بہن وہی ہے جو ہماری اپنی بہن ہے، بیٹی وہی ہے جو ہماری اپنی بیٹی ہے، باقی تو سب گوشت پوست ہیں، مجھے مذہب سے اختلاف نہیں، نہ مذہب کے دیے حقوق پہ شک ہے، مسئلہ فقط اتنا ہے کہ ان حقوق کو کوئی پورا کرنا نہیں جانتا، ہم بحیثیت قوم اکیلی عورت کو ذمہ داری نہیں موقع سمجھتے ہیں اور اس فعل کا لباس سے کوئی تعلق نہیں ہے اس بات کا ادراک آج پارک کے باہر برقعے میں بیٹھی ٹوٹ کر روتی لڑکی کو دیکھ کر ہوا جسے کوئی خبیث چھیڑ کر بھاگ نکلا تھا۔ آپ کا نقطہ نظر اپنی جگہ ٹھیک ہو گا اور مجھے مزید آپ سے بحث میں دلچسپی نہیں ہے“

کمنٹ پڑھ کر وہ گویا زمین میں گڑ گیا یا شاید آن کی آن میں پوری کی پوری چھت اس کے سر پہ آن گری، وہ جواب میں صرف یہی لکھ پایا
”آپ کا بے انتہا شکریہ، جس کی آپ نے مدد کی وہ کسی کی بہن تھی، مالک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے میری بہن“

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *