متفرق

نورانی مخلوق

Spread the love

تحریر بامی انگلینڈ

مسجد سے نماز پڑھانے کے بعدواپسی پر بابا جی محمد حسین گلی کی نکڑ پر وعظ ونصائح لئے کوئی نیکی کی بات شروع کر دیتے…راہ چلتے لوگوں کے قدم رک سے جاتے… آتے جاتے لوگ حکمت کی باتوں سےمستفیدہوتے…کیا سنی …کیا شیعہ اور وہابی سب انہماک سے انکی باتیں سنتے … قران کی تفسیر ہو یا حدیث کا بیان …باباجی جب بولتے تو انکی زبان سے الفاظ فراوانی سے نکلتے گویا کوئی فرشتہ بول رہا ہو…حکمت کے موتی بکھر کر کانوں میں رس گھول …رہےہوتے پاک وجود کی مقدس باتیں اس مجلس کو مزیدبابرکت بنا دیتی تھیں ۔گو یہ بہت مختصر سی مجلس ہوتی تھی مگردینی علم ومعارف سے پُر خزانہ ہوتی گویا نوری پھولوں کا گلدستہ ہوتی تھی جن کی مہک بابا جی کےوجود سے پھوٹ رہی ہوتی تھی وہ روحانی خوشبو جو پاک روحوں کی کشش کا باعث بنتی…

فجر کے وقت ہمارے گھر کی کنڈی اس آواز کے ساتھ بجتی … اٹھواذان ہوگئی مسجد چلو…بانگ مل گئی اے۔…کبھی خود گھر کے اندر آکر صحن میں پڑی چارپائی کی ٹانگوں پر اپنی چھڑی سے دستک دے کر بے خبر سوئے بھانجے کو جگاکر نماز کے لئےہمراہ لےجاتے… ایک دن بھانجے سستی میں سوتے رہے توبہن کوفرمایا …

سن بہن !…یہ تمہارا پتر فجر کے وقت نہیں سویا ہوا… تمہارے بخت سوئے ہوئےہیں .. یہ حکمت والے لوگوں کی پُر حکمت باتیں تھیں ۔

میری انتہائی کمسنی کے دن تھے مجھے خواب کی طرح یاد ہے…کبھی جب میں بھی اباجان کے ساتھ جاتی تو نماز سے واپسی کے وعظ کو سننا بہت اچھا لگتا…کم عمری کی وجہ سے کچھ سمجھ آتا کچھ نہیں آتا تھا لیکن میں ضد کر کے ابا جی کے ساتھ جاتی…

ایک دن ظہر کے بعد واپسی پربابا جی راستے میں پڑے کانٹے کو اپنی ہاتھ میں پکڑی چھڑی سے ہٹا کر بولے…آج اگر لوگوں کے لئے راستہ سے کانٹے ہٹاؤ گے تو کل تماری زندگی کے کانٹے رب ہٹائے گا…دادی حاجرہ صاحبہ اور باباجی محمد حسین صاحب … دنیا میں میں فرشتوں کی سی نورانی مخلوق تھے…چونکہ ہمارے آبائی گھر آمنے سامنے تھے اس لئے شام سے پہلے عصر کے وقت امی جان بچوں کےہمراہ کچھ وقت کے لئے ان نورانی بزرگوں کو ملنے جاتیں …توہمیں بھی انکی بابرکت صحبت ملتی اورکوئی نیکی کی پر حکمت بات ہمارے معصوم ذہن کے پردہ ثبت ہوجاتی ۔ سارا محلہ اور برادری انکی محبت بھری نورانی باتیں سننے انکےگرد جمع رہتا … صحن کے وسط میں بچھی چارپائی پر سفید بچھے بستر پرگاؤ تکیہ لگائے باریش بارعب نورانی وجود …سفید شلوار قمیض پہنے اپنے ارد گرد کے ماحول میں برکت اور نور پھیلاتے ہوئے وجود لگتے تھے…

دادی اماں بتاتی تھیں کہ بڑے بیٹے کو مسجدمیں کشفی حالت میں اس کی پیدائش سے بہت پہلے دیکھا …وہی بچہ جب چارسال کا ہو گیااس نے بولنا شروع نہیں کیا تو مولانا راجیکی صاحب باباجی محمد حسین صاحب کو ملنے جھنگ تشریف لائے … بابا جی نے انکو بتا یا… … …بچے نے ابھی تک بولنا شروع نہیں کیا… مولانا راجیکی صاحب بچے کو دیکھتے ہی بولے ……اوئے گونگو تو بولدا کیوں نئیں …

پھر فرمایا :جدوں اہیہ بولے گا تے دنیاسنے گی …یہی وہ بچہ تھاجس کے پیدا ہونےکی نوید خدا نے بابا جی محمد حسین کو مسجدمیں دعا کے دوران دی تھی …

دادی حاجرہ بھی رب سے پیار کرنے والی فرشتہ سیرت نور کا ھالہ لئےلگتی تھیں … نور ومحبت کا سر چشمہ، توکل کے مینار یہ نورانی جوڑی ہی تھی … خدا نے جن کے بطن سے عبدالسلام جیسا ھونہار …احمدیت اور اسلام کے نام کو روشن کرنے والا سپوت عطا کیا … جس نے عالمی اعزاز نوبل پرائز حاصل کیا اوران بزرگ کے منہ سے نکلی ہوئی بات خدا نے پوری کردی ۔جدوں ایہہ بولے گا تے فیر دنیا سنے گی…

نوٹ :وہ بھانجے میرےوالد محترم تھے۔چوہدری محمد یحی مقبول صاحب آف جھنگ شہر۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *