متفرق

مقام نقطہ

Spread the love

تحریر رفعت امان اللہ

اپنے کمرے کی آرام دہ کرسی پہ نیم بیدار، اپنے تخیلات میں گم ایک راستےپر چلتی جا رہی ہوں۔راہ گزر کی دونوں اطراف سرخ گلاب جوبن پر ہیں۔ فضا میں خوشبوؤں کا سرور چھایا ہوا ہے۔ رہگزر گلاب کی کلیوں سے بھری ہوئی ہے۔میں اٹھکیلیاں کر رہی ہوں۔ پھولوں کی مہک نے میری روح تک کو سرشار کر دیا ہے۔ اپنی آنکھوں سے ان کے رنگ چراتی ہوں۔ اپنی سانسوں سے ان کی خوشبو اپنے اندر انڈیل رہی ہوں۔ میری پور پور میں سرخ گلاب رچے بسے ہیں۔ کچھ طائر ہیں جو چھوٹی اڑانیں بھر رہے ہیں اورکچھ بہت دور ہیں، مگر میں ان سے بے خبر چل رہی ہوں۔ میں ان سرخ گلابوں کی سرخی میں اس قدر سرشار اور مست ہوں ہو کہ دیوانی ہوئی جا رہی ہو ں۔ میرے جسم کا ایک ایک ذرہ ان گلابوں کی پتیوں میں سمٹ گیا ہے، یا یوں کہ یہ گلاب مجھ میں سما گئے ہیں۔ایک موڑ مڑنے کے ساتھ ہی منظر پہلے سے بھی دلکش ہو گیا۔

یہاں راہ گزر پر گلاب کی پتیاں خوشبوؤں سے بھری ہوئی ہیں۔راہ گزر ریشم سے بھی ملائم ہے۔اونچی اڑانوں والے پرندوں کو پا لینے کی خواہش میں میں بھاگی جا رہی ہوں۔یہاں اتنی مستی چھائی ہے کہ پورا منظر ان سرخ گلابوں کے سحر میں کھویا ہوا ہے۔ بس اب تو ہر آن ہر جگہ گلابوں کا بسیرا ہے۔ اور اب تو میری سانسیں بھی خوشگوار ہوگئی ہیں ۔میرارواں رواں مہک رہا ہے۔ ایسی سرشاری و مستی جو ابھی گلابوں میں بھری تھی، سب مجھ میں سما گئی ہے۔ جیسے ہوا کے چلنے سے گلاب جھوم رہے ہیں، میں بھی گلاب بن کے جھوم رہی ہوں۔میں رقص و دھمال ، سے سرورمیں ہوں، میں اندر باہر سے مجسمہء گلاب بن گئی۔ اتنا کہ نچوڑو تو عرق نکلے۔

اب میں آنکھیں موندے رقص میں گم ہوں۔میں امید کر رہی ہوں کہ جب میں آنکھیں کھولوں تو سرخ گلاب ہرسو ہوں گے۔میرااستقبال اپنی ملائم پتیوں سے کریں گے ۔ آنکھیں موندے بڑھتی جا رہی ہوں۔ قریب تھا کہ میں اپنی ہستی ہی کھو دوں، اور “میں” نہ رہوں۔ میں پتیوں کی لالگی میں پوری طرح پیوست ہو جاؤں ۔۔۔میں منتظر تھی گلابوں کی۔مگر محسوس ہوا کہ راہ گزر سخت سے سخت تر ہو رہی ہے۔۔ یکایک میرے پاؤں میں ایک کانٹا چبھا۔ میں درد کی شدت سے کراہ رہی تھی۔ میرا وجود جو روح تک ابھی گلابوں کے خمار میں سرشار تھا،اب درد و الم کا مظہر بن گیاہے۔میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا، چند طائر زمیں پہ بیٹھے ہوئے ہیں،وہ اپنی چونچیں مٹی میں پیوست کر رہے ہیں اور ان کے پر خاک آلود ہو رہے ہیں۔

میرے پاؤں سے سرخ گلابوں سا رس ٹپکا۔ رہگزر جو بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔اب ویسی نہیں ہے۔تھوڑا اور آگے جاکے کوئی پرندہ مجھے دکھائی بھی نہیں دیا ۔

میں نے جانا کہ میں کسی ان دیکھی دیوار کے اس پار آگئی ہوں ۔چونکہ رقص میں رکنا محال تھا پس میں آنکھیں موندےمحو رقص رہی تھی، مگر اب ہر دھمال جامد ہو چکی ہے۔

اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا،آنکھ کھلتے ہی میں نے جانا،وہ تمام سرخ گلاب شاید سوکھ گئے تھے۔اب ہر جگہ کانٹے ہی کانٹے رہ گئے ہیں۔ میں نے کوئی گلاب نہ پایا ۔ میں نے واپسی کی ہر راہ بند پائی۔

اب میں ہوں اور خاردار کانٹے ۔ یہ اتنے زہریلے اور نوکیلے ہیں کہ میرا جسم تو کیا ، میری روح تک بھی زخمی کر دیتے ہیں ۔ میرے جسم و جاں اور روح تک کے چیتھڑے اتارنے میں تامل نہیں کرتے۔میرے ذہن کے کونے کھدروں سے سرخ گلابوں کی یادیں نوچتے ان کو رحم آتا ہے نہ ترس۔۔۔۔ مگر سنو! یہ ازل کی ریت پہ قائم ہیں،یہ بے وفا نہیں ہیں سرخ گلابوں کی مانند،یہ ازل سے ساتھ ہیں ابد تک۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *