شعر و شاعری

سرِ محفل چھپانا درد اک مدت میں سیکھا ہے

Spread the love

حمیرا ناصر


بنا کے سچ بیاں جھوٹی کہانی اب بھی ہوتی ہے

سر منبر یہی شعلہ بیانی اب بھی ہوتی ہے

بُلاکے درد من آنگن میں وحشت رقص کرتی ہے

پرانے زخم سے یوں چھیڑخانی اب بھی ہوتی ہے

سرِ محفل چھپانا درد اک مدت میں سیکھا ہے

اکیلے میں ان اشکوں میں روانی اب بھی ہوتی ہے

نہیں ہے وہ تو ہر منظر اداسی کا نظارہ ہے

مگر کہنے کو ظالم رت سہانی اب بھی ہوتی ہے

ہوئی مدت کہ ہر اک آرزو کو دفن کر ڈالا

سرِ مرقد مسلسل نوحہ خوانی اب بھی ہوتی ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *