سائبر کرائم کی شکایت کیسے کی جائے؟
تحریر عروج سلمان
ٹیکنالوجی میں ترقی کے معاشرے پر جہاں دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں وہاں اس سے در پیش مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے مختلف اقسام کی ہراسگی کا بزارا گرم ہے، سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے 2002 میں قانون متعارف کرایا گیا تھا، جسے ماہرین و ناقدین نے مبہم قرار دیا۔ بعد ازاں 2016 میں پارلیمنٹ میں ایک نیا بل لایا گیا جسے منظور کرتے ہوئے پاکستان الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2016 (پیکا) کا نام دیا گیا۔
لمحہ فکریہ، ہم کس نہج پر پہنچ چکے ہیں، بانفس نفیس یا جدید آلات جیسے کمپیوٹر، موبائل فون کے منفی استعمال کے باعث مسائل سے دو چار ہیں، مادر پدر آزادی میں کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب اس کی عزت کو مجروح کر دیا جائے گا تاہم اب پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے ان جرائم پر قابو پانے کیلئے اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ملک میں رائج سائبر کرائم قوانین کے مطابق کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اس کی تشہیر کرنا یا اس میں کسی قسم کی دخل اندازی جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔
سائبر ونگ ذرائع کے مطابق سائبر کرائم کے زیادہ تر واقعات شہری علاقوں میں پیش آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر شکایات بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے کی ہوتی ہیں۔ حکام کا بتانا ہے کہ کیسز میں صنفی بنیاد پر اضافہ تعجب کی بات ہے جس میں خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق زیادہ کیسز رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اب پاکستان میں ادارے اس بات کو لیکر کافی متحرک ہیں۔
اس کی مثال کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر فرحان کامرانی کی ہے جس نے فیس بک پر جعلی آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاتون استاد کی تصاویر پوسٹ کیں جس کی پاداش میں معزز عدالت نے 10 سال قید بمعہ 50 ہزار روپے جرمانے کے سزا سنائی جو اس برائی کو روکنے کیلئے حوصلہ افزا قدام تھا۔
ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ڈی آر ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 2020 میں کل 3298 شکایات موصول ہوئیں جو 2019 کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ‘ایف آئی اے’ حکام کا کہنا ہے کہ، ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں سالانہ 50 فی صد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صوبہ سندھ کی طرح خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی سائبر کرائم کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔سائبر کرائم ونگ حکام کے مطابق شکایات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے، ان جرائم کو روکنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔
ہراسگی کی شکایت کیسے کی جائے؟
اگر کسی شہری کو انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے، دھوکہ دہی یا اس طرح کی کوئی اور شکایت ہو تو وہ ‘ایف آئی اے’ کی ویب سائٹ helpdesk@nr3c.gov.pk پر موجود سائبر کرائم شکایات سیل کا ایک فارم پر کر کے اسے آن لائن جمع کرا سکتا ہے، علاوہ ازیں شہری اپنی شکایات تحریری طور پر ‘ایف آئی اے’ کے دفاتر میں بھی جمع کرا سکتے ہیں، یا سائبر کرائم سیل کی ہیلپ لائن 9911 پر کال کر کے اپنا مسئلہ درج کرا سکتے ہیں۔
نجی میڈیا ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جون 2014 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ سائبر کرائم کے نتیجے میں دنیا کو ہونے والا سالانہ نقصان 375 سے 575 ارب ڈالرز کے درمیان ہے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے پیش نظر انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار کے 15 سے 20 فیصد حصے کے برابر ہیں۔ دریں اثنا انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم میکافی نے بھی جون 2014 میں آن لائن ہونے والے سالانہ نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق سائبر کرائم کے نتیجے میں عالمی معیشت کو تقریبا چار سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔


