متفرقمعاشرہ

رشتہ میاں بیوی کا محبت عزت کا

Spread the love

گزشتہ دنوں میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے گھر گیا ۔میں بہت خوش تھا کیونکہ کافی عرصہ بعد ہماری ملاقات ہورہی تھی۔ میں نے گھنٹی بجائی، دروازہ کھلا توسامنے میرا دوست کھڑا تھا۔ہم مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے بغل گیرہوگئے۔وہ مجھے ڈرائنگ روم میں لے آیا۔ہم نے گپ شپ شروع کی لیکن اس کی باتوں میں مجھے گر م جوشی نظر نہیں آئی ۔اتنے میں اس کا آٹھ سالہ بیٹابھی آگیاتو میرادوست اُٹھ کر اندرچلا گیا ۔  

میں نے بچے سے بات چیت شروع کی لیکن وہ بھی بات کرتے کرتے کہیں کھوجاتا، مجھے لگاجیسے وہ ذہنی طوریہاں موجو دنہیں ہے۔میں نے اسے اپنے ساتھ مانوس کرنے او ر ہنسانے کی کوشش کی لیکن اس کی یہ کیفیت اسی طرح برقرار رہی۔مجھے یادآیا کہ جب میں یہاں داخل ہوا تھاتومیں نے کچھ ناخوش گواریت محسوس کی تھی۔

کچھ دیر میں میرا دوست ایک پلیٹ میں پھل اور شربت لیے کمرے میں داخل ہوا۔میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھاتواب بھی مجھے ویسی تازگی نظر نہیں آئی جیسی پہلے تھی۔اس نے مجھے جوس کا گلاس تھمایا ، میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اورپھراسے کریدناشروع کیا ۔دراصل میرے آنے سے کچھ دیر پہلے اس کی اپنی بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی جس کے اثرات ابھی تک ان کے مزاج میں باقی تھے۔اس لڑائی کی وجہ سے ان کے بچے بھی ذہنی طورپرمتاثر ہوئے تھے اور گھر کے پورے ماحول میں بدمزگی پھیل گئی تھی۔

ہر گھر میں میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک چلتی رہتی ہے لیکن یہ اگرلڑائی کی صورت اختیار کرجائے اور مسلسل لڑائیاں ہوتی رہیں تو پھراس کا انجام خطرناک ہوتاہے۔کسی بھی معاشرے میں شادی کوزندگی کاایک اہم ترین موڑ سمجھاجاتاہے۔لڑکا اور لڑکی دونوں شادی کے بعد والی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس بارے میں بہت اُمیدیں اور توقعات رکھتے ہیں۔

ہمارے ہاں شادیاں یاتو ارینج ہوتی ہیں یا پھرمحبت کی۔ لو میرج میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، یہ پسند محبت میں بدلتی ہے اورپھر وہ دونوں ساتھ جینے کا فیصلہ کرکے اسے شادی کی شکل دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اکثراوقات ا س فیصلے کے سامنے سماجی اقدار اورخاندانی رسوم و رواج کی صورت میں بے شمار رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔کبھی والدین بھی راضی نہیں ہوتے لیکن لڑکا اورلڑکی ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹتے اور شادی کرکے ہی دم لیتے ہیں۔ بظاہر دیکھا جائے تولو میرج ایک مثالی شادی ہے کیونکہ دونوں نے ایک دوسرے کوپسند کیا ہے۔وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اورایک دوسرے کو خوشی اور راحت دیناچاہتے ہیں لیکن معلو م نہیں کیوں ازدواجی زندگی کے چند سال گزرنے کے بعد ان کے درمیا ن لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتاہے جوبڑھتے بڑھتے طلاق کی صورت اختیارکرلیتاہے۔

میرے نزدیک اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی جب محبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تووہ ایک دوسرے کے سامنے اپنی ذات کی اعلیٰ ترچیزوں کوظاہر کرنا شروع کرتے ہیں اور اس سلسلے میں بھرپور مبالغہ آ رائی سے کام لیتے ہیں۔وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ میری پسند بے مثال ہے اورمیرے محبوب جیسانفیس،خوب صورت ، خوش گفتار، خوش مزاج اور بڑے دل والاکوئی ہے ہی نہیں۔لیکن جب شادی ہوجاتی ہے اور وہ دونوں حقیقی زندگی میں آتے ہیں تواس کے بعد ان کے لیے ہروقت اعلیٰ لباس پہننا، مہنگی خوشبولگانا اور مسکرا کربات کرنے والی عادت کو برقرار رکھناناممکن ہوجاتاہے۔نتیجتاً وہ ایک دوسرے سے بیزار ہوناشروع ہوجاتے ہیں ،معمولی باتوں پر اختلافات شروع ہوجاتے ہیں اور پھرایک وقت آتاہے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔

بچپن میں میں نے ایک حکایت پڑھی تھی۔شادی کے بعد شوہر نے اپنی بیوی کو گھر کے صحن میں کھڑاکیا، اسے ایک رسی تھمائی جو دیوار کے اوپر سے آرہی تھی۔شوہرنے دیوار کے پار جاکر بیوی کورسی کھینچنے کے لیے کہا۔بیوی نے پورا زورلگایا لیکن رسی اس کی طر ف نہیں آئی۔کچھ دیر بعد شوہر دیوار کی اوٹ سے نکلااور پھر دونوں نے مل کر رسی کھینچی تو ایک لمحے میں ہی رسی کا دوسرا سِرااُن کے قدموں میں آگرا۔ دراصل شوہر نے اپنی بیوی کو سبق دیا کہ ہماری نئی زندگی شروع ہوچکی ہے۔اس میں اگر ہم ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے تو پھر نہ تم جیت سکوگی اور نہ میں ، لیکن اگر ہم ایک صف میں کھڑے ہوجائیں اوراتفاق و اتحاد کے ساتھ زندگی گزاریں تو پھر بڑی بڑی مشکلات کاسامنا بھی آسانی سے کرسکیں گے۔شادی چاہے پسند کی ہو یا پھر والدین کی مرضی کی، دونوں میں یہ بات بہت ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کوسمجھیں اور ایک دوسرے کو عزت دیں۔

’’جان گوٹ مین‘‘ ایک معروف ماہرنفسیات ہے۔اُس کا کمال یہ ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کے متعلق پیشین گوئیاں کرتا ہے۔وہ میاں بیوی کے ساتھ کچھ وقت گزارکراوران کے تعلق کا مشاہدہ کرکے ان کے مستقبل کے بارے میں بتادیتا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ شادی کامیاب رہے گی یاپھر ناکام۔حیرت انگیزطورپر اس کی 90فی صد پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔اس نے شادی شدہ افراد کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ان سے ہزاروں سوالات پوچھے اور اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں اس نے ایک تھیوری پیش کی جس کے مطابق تنقید،حقارت، جارحانہ انداز اور بے پروائی ، چار ایسے بنیادی عوامل ہیں جو ازدواجی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔وہ بتاتاہے کہ ان چاروں میں سب سے خطرناک چیزحقارت ہے۔وہ سمجھتاہے کہ شادی شدہ زندگی میں محبت سے زیادہ اہم چیز عزت ہے۔اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو عزت دیں اور ایک دوسرے کا احترام کریں تو ان میں محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر عزت نہ ہو توپھرازدواجی زندگی کی عمارت کھوکھلی ہوناشروع ہوجاتی ہے۔

ہمیں یہ بات رکھنی چاہیے کہ مرد اور عورت خواہ ایک دوسرے سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرلیں ،پھر بھی وہ ہوبہو ایک دوسرے کی طرح نہیں بن سکتے کیونکہ مرد اور عورت کو اللہ نے جس طرح جسمانی طورپر مختلف بنایا ہے اسی طرح ان کے درمیان ایک نفسیاتی تفریق بھی ہے اور یہ تفریق ان کی فطرت، مزاج عادت اور سوچ کی تشکیل کرتی ہے۔

جان گرے نے اپنی کتاب Men are From Mars, Women Are From Venusمیں اسی چیز پربات کی ہے کہ میاں بیوی کی نفسیات ایک دوسرے سے مختلف ہے اور اگر اس چیز کو سمجھ لیا جائے توازدواجی زندگی بہترین انداز میں گزاری جاسکتی ہے۔وہ لکھتاہے کہ عام طورپر خواتین کو اپنے شوہروں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ ان کی بات نہیں سنتے۔اگر سنیں بھی تو بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا حل پیش کردیتے ہیں۔جان گرے بتاتاہے کہ دراصل خواتین کو اپنے مسئلے کا حل نہیں چاہیے ہوتا ، انھیں بس دو کان چاہیے ہوتے ہیں جو ان کی بات پوری طرح سنیں ،سننے والا فرد ان کی تصدیق کرے اور ان سے ہمدردی بھی جتلائے۔

روزی روٹی کا بندوبست کرنا مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کاروباریا نوکری کرتے ہوئے اُسے مختلف طرح کی پریشانیوں کا سامناکرناپڑتاہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں جب وہ گھر آتاہے تو اُسے ایک خاموش ماحول چاہیے ہوتاہے جہاں بیٹھ کروہ خود کو پُرسکون کرلے۔وہ ارتکاز چاہتاہے تاکہ اس مسئلے پر سوچ بچار کرکے اسے بہترین انداز میں حل کرسکے۔مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تنہائی میں کوئی خلل نہ ڈالے جبکہ خواتین کا مسئلہ اس کے برعکس ہوتاہے۔

انھیں جب کسی مسئلے کاسامناہوتووہ تنہائی کے بجائے کسی سے اپنے دل کی بات کرناچاہتی ہیں۔وہ دوسروں سے جذباتی لگائو چاہتی ہیں اوراس چیز سے انھیں سکون ملتاہے۔اب جب کہ میاں بیوی کی نفسیات الگ الگ ہے تو ایسے میں بیوی،شوہر کی تنہائی والی عادت کو اس کی بے رُخی سمجھتی ہے۔بیوی چاہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے ،اس کے ساتھ بات کرے جبکہ شوہرتنہائی کا خواہش مند ہوتاہے۔جب شوہر کی تنہائی والی ضرورت پوری نہیں ہوتی توپھر وہ موبائل یا لیپ ٹاپ میں خود کو مصروف کرلیتاہے اوراس کے ذریعے جائے پناہ تلاش کرتاہے جو کہ بیوی کو مزید ناگوار گزرتاہے۔

اب میں دوست والے واقعہ کی طرف واپس آتاہوں ۔میں نے اپنے دوست سے کہا، میں آپ سے اور آپ کی بیگم سے بات کرنا چاہتاہوں۔کچھ دیر میں دوست کی بیگم صاحبہ بھی آگئیں۔میں نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے ان کی شادی کی بات چھیڑدی۔مجھے یاد ہے کہ میرے دوست نے لو میرج کی تھی، میں نے ان سے کہا کہ آپ دونوں ایک لمباعرصہ ایک دوسرے سے محبت کرتے رہے۔ شادی کرنا چاہتے تھے ،گھر والے نہیں مان رہے تھے ۔سب کی مخالفت کے باوجود بھی آپ لوگوں نے ایک دوسرے کو اپنایا۔اس کے بعد آپ کی ایک خو صورت زندگی شروع ہوگئی۔اللہ نے آپ پر کرم کیا، آپ کو اولاد کی دولت نصیب ہوئی ۔اِس وقت آپ کے بچے بڑے ہورہے ہیں اور انھیں آپ دونوں کی محبت ، شفقت اوررہنمائی کی شدیدضرورت ہے۔آپ اگر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے اورروز لڑائی جھگڑا کرتے رہیں گے تو آپ کایہ رشتہ کمزور ہوتاجائے گااور خدانخواستہ ایک دِن بالکل ہی ختم ہوجائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوگاکہ آپ دونوں نے ساتھ نبھانے کا جوعہد کیا تھا وہ خود ہی توڑدیا۔

میری اس بات پر وہ دونوں چونک گئے۔میں نے پھر کہا۔’’اب یہ مسئلہ صرف آپ دونوں کا نہیں، اس میں آپ کے بچے بھی شامل ہوچکے ہیں۔میراآپ دونوں سے سوال ہے ،فرض کریں کہ آپ دونوں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہیں ۔گاڑی تیزرفتاری سے جارہی ہے ۔اچانک آپ کے سامنے آپ کے دونوں بچے آجاتے ہیں توکیاآپ پھر بھی ڈرائیونگ جاری رکھیں گے ؟‘‘۔’’نہیں ، ہرگز نہیں ۔میں بریک پر پائوں رکھوں گا۔گاڑی سڑک سے اتارلوں گا،کسی درخت سے ٹکراجائوں گا لیکن اپنے بچوں کوبچائوں گا۔‘‘ میرے دوست نے جذباتی انداز میں جواب دیا۔’’لیکن اس وقت آپ یہی کررہے ہیں‘‘۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’آپ کے لڑائی جھگڑوں سے بچوں کی ذہنی صحت شدید متاثر ہورہی ہے۔اگر آپ کا رشتہ ختم ہوگیاتو یہ ان کے لیے گاڑی کی ٹکر سے زیادہ خطرناک ہوگا۔آپ کا یہ عمل آ پ کے بچوں کی پوری زندگی تباہ کرکے رکھ دے گا ، جس کا ازالہ کبھی نہیں کیاجاسکے گا۔ خداکے لیے، اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچئے، اپنے اندرتحمل پیداکیجیے۔ایک دوسرے کو سمجھیے،ایک دوسرے کی عزت کیجیے اور معاف بھی کرتے رہاکیجیے تاکہ آپ اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بن جائیں۔‘‘

میں نے دیکھا، دونوں میاں بیوی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔مجھے اس بات پر بے حد خوشی ہوئی کہ وہ میری بات سمجھ گئے تھے۔میں ان دونوں کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔

ماہرِ نفسیات جان گرے ایک کتاب میں لکھتا ہے

میاں بیوی کی نفسیات ایک دوسرے سے مختلف ہے، اِس چیز کو سمجھ لیا جائے توازدواجی زندگی بہترین انداز میں گزاری جاسکتی ہے۔ عام طورپر خواتین کو شکایت رہتی ہے کہ شوہراُن کی بات نہیں سنتے۔اگر سنیں بھی تو بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا حل پیش کردیتے ہیں۔دراصل خواتین کو اپنے مسئلے کا حل نہیں چاہیے ہوتا ، اُنہیں بس دوعدد کان درکار ہوتے ہیں جو اُن کی بات پوری طرح سنیں، سننے والا ان کی تصدیق کرے اور ہمدردی بھی جتائے۔

بشکریہ: دنیا نیوز

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *