میاں بیوی میں ناراضگی میں خاموشی نقصان دہ
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ ایک قسم کا غصہ ہوتا ہے جس کے تحت جسمانی تشدد کے بغیر اپنی ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے۔ اکثر ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کا استعمال اپنی بات منوانے، کسی پر حاوی ہونے اور ناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم رہے تو رشتوں میں دوری پیدا ہوسکتی ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان خاموش رہ کر کئی مسائل سے نجات حاصل کرسکتا ہے مگر کبھی کبھی یہ خاموشی رشتے کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان خاموشی بگڑتے رشتے کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ خاموشی سکون سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ اسے ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں آپ دوسرے فریق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
خاموش رہنا دوسرے فریق کی توہین ہے
اکثر ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کا استعمال اپنی بات منوانے، کسی پر حاوی ہونے اور ناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم رہے تو رشتوں میں دوری پیدا ہوسکتی ہے۔
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کرنے والے کے ذہن میں کیا چلتا ہے؟
ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس کی سائیکلوجسٹ ڈاکٹر سومیا نیگم کہتی ہیں، ’’ایسے لوگ رشتے میں کبھی جھکتے نہیں ہیں۔ وہ خود کو صحیح اور سامنے والے کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان کی بات کاٹ دی جائے تو ان کی اَنا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لئے وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ رشتے سے زیادہ اپنی اَنا کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس سے ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ دینے والے کو اپنی جیت نظر آتی ہے اور دوسرے فریق کو تکلیف ہوتی ہے۔
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کی علامات
سب سے بات کرے لیکن ساتھی سے نہیں۔
ساتھی کی خاموشی سے تکلیف ہو۔
ساتھی کی ہر بات بری لگے۔
گھر کے اہم معاملات پر بھی بات کرنا ضروری نہ سمجھے۔
بات چیت کیلئے کوئی راہ نہ نکلے۔
ساتھی کی جانب سے پہل ہونے کے باوجود بات نہ کرے۔
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ جنسی تشدد سے کم نہیں
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ برداشت کرتے وقت ساتھی کے ذہن کا وہ حصہ فعال ہوتا ہے جو جسمانی تشدد کے وقت بھی درد اور جذبات سے گزرتا ہے۔ اس سے سامنے والے فریق کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ وہ ذہنی طور پر بھی پریشان ہوتا ہے۔ خاموشی برداشت کرنے والے کچھ لوگ اکثر اس حالات کے لئے خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے۔
جذباتی زیادتی کا سامنا
سائیکلوجسٹ ڈاکٹر سومیا نیگم کہتی ہیں، ’’کسی بھی رشتے میں جذباتی زیادتی عام بات ہے۔ تشدد کا ایک ’سائیکل‘ ہوتا ہے، جس میں اچانک کسی بات پر ناراض ہو کر ایک ساتھی خاموش ہو جاتا ہے۔ دوسرے کی غلطی قبول کرنے اور معافی مانگنے پر صورتحال ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کچھ دن حالات معمول پر رہتے ہیں اور پھر کسی بات پر وہی شخص خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ ایک پیٹرن بن جاتا ہے۔ ایسے میں ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ برداشت کر رہا ساتھی اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔ وہ خود کو ہمیشہ قصور وار ٹھہراتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ کمزور اور دوسرا ساتھی مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہئے؟
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ ایک قسم کا غصہ ہوتا ہے جس کے تحت جسمانی تشدد کے بغیر اپنی ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے۔ اس کے لئے ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کو برداشت کرنیوالے شخص کو اس کا پیٹرن توڑنا ہوگا۔
اگر آپ اپنے ساتھی کی ہر بات مانتے ہیں تو اس عادت کو ترک کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہوگا۔ ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ برداشت کر رہے ساتھی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس کی خاموشی سے آپ کیسے محسوس کر رہے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ شاید سامنے والا اپنی غلطی سمجھے اور اپنی حرکتوں سے باز آجائے۔ ڈاکٹر سومیا کہتی ہیں کہ ’’رشتوں میں بات چیت کا سلسلہ بند نہیں ہونا چاہئے کیونکہ خاموشی رشتے کو ختم کر دیتی ہے۔‘‘
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ جب کسی کی عادت بن جائے تو سائیکلوجسٹ اور کاؤنسلر ایسے شخص کے بچپن اور جوان ہونے تک کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ گزرے وقت کی تفصیل حاصل کرکے معلوم کیا جاتا ہے کہ ایسی کون سی باتیں ہیں جو اس شخص کی ’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ دینے پر آمادہ کرتی ہیں۔
ان باتو ں پر عمل کریں
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ کی اصل وجہ کو جاننے کی کوشش کریں۔
’’سائیلنٹ ٹریٹمنٹ‘‘ پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کریں۔
رشتے میں اپنی حدود طے کریں۔
پُرسکون حالت میں ساتھی سے بات کریں۔
اس دوران اپنا خیال رکھیں۔
ماہرین سے رابطہ قائم کریں۔
بشکریہ: انقلاب
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


