اداریہاردو سیکھیںمتفرقمعاشرہ

میں گولڈن گروٹا اور نئی زمین

تحریر: قدسیہ عالم

انٹر نیٹ پر سرچ کریں تو اس نام سے کوئی جھاڑی یا پودا نہیں ملتا لیکن میں اس دو رنگی جھاڑی کو پچھلے تئیس سال سے اسی نام سے جانتی ہوں ۔اس کےچمکدار ہرے پتوں پر پیلا رنگ بہت خوبصورت لگتا ہے۔

ہرے اور پیلے کا امتزاج انتہائی حسین ہوتا ہے اگر آپ نے کبھی سرسوں کے پودے دیکھے ہیں توآپ اندازہ کر سکتے ہیں ۔

فرانس آتے ہوئے اپنی زمین چھوڑتے ہوئے میں دکھی تھی ۔ ہجرت ایک بڑا دکھ ہے لیکن بعض اوقات اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کے سواکوئی چارہ نہیں رہتا ۔لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے اورمیں وہ قیمت ادا کرنے کو تیار تھی ۔میں نئی زمین میں قدم جمانے کو تیار تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ پھلنے پھولنے کو اب لازمی نئی زمین ہی درکار ہے ۔

جہاں اپنے بہت پیاروں کو پیچھے چھوڑا وہاں اپنا لہکتا مہکتا گارڈن بھی چھوڑا۔مجھے اپنے سب پودوں اور خاص طور پراس خوب صورت گولڈن گروٹا کوچھوڑ کر آنے کا  دکھ تھا لیکن پریشانی نہیں تھی ۔کیونکہ میں جانتی تھی میرے بعد بھی کوئی ہوگا جواس کی دیکھ بھال کرے گا۔اور یہ میرے بغیر بھی خوش رہے گا۔۔

لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ بہت عرصہ بعد ایک دن سات سمندر پار ایسے ہی کسی گولڈن گروٹا کی جھاڑی کا دکھ مجھے بے چین کرے گا اور میں اس کے پاس پریشان حال کھڑی ہوں گی۔۔۔۔؟؟؟

گولڈن گروٹا،گجرات والے گھر میں ہمارا ایک مالی ہوا کرتا تھا اس نے یہ نام بتایا تھا اور اسی سے منگوا کر میں نے گارڈن میں اس کی پنیری لگائی تھی جو ہمارے آنے تک ننھے پودوں سے گھنی جھاڑیوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔

یہ مالی پھول پودے لگاتے ہوئے بڑی کام کی باتیں کر جایا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک ہنرمند آدمی سے بڑھ کر کوئی خوشقسمت نہ تھا۔اور وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ پودا یا درخت کاٹناقتل ہی کے برابر ہے ۔

فرانس آنے کے بہت سال بعد میں نے گولڈن گروٹا کی جھاڑیاں گارڈن میں لگوائیں ۔ تین چار سال میں یہ کچھ ہی بڑھی تھیں ۔

ان کا رنگ ویسا ہی چمکدار ہرا تھااور کہیں کہیں پیلے دھبے تھے ۔۔زیادہ پودے اکٹھے تھے لیکن تین چار پودے الگ سے ایک دیوار کے ساتھ زمین میں لگائے تھے۔ سب اپنی اپنی رفتار سے بڑھ رہےتھے جب ایک دن ہم نے گارڈن میں کچھ کام کروانے کا ارادہ کیا۔

زندگی میں بہتری لانے کے لئے ترقی کی ضرورت ہوتی ہے اور ہجرت کی طرح ترقی کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے ۔ترقی کے لئے بھی بعض اوقات پرانی جگہ کو چھوڑ کرنئی جگہ کو اپنانا پڑتا ہے۔۔

اس مرتبہ مجھے نہیں بلکہ میرے پیارے گولڈن گروٹا کے پودوں کو یہ قیمت ادا کرنی تھی اپنی جگہ چھوڑ کرنئی زمین میں جگہ بنانی تھی ۔۔ہجرت کرنی تھی ۔

دراصل پہلےجس جگہ یہ پودے لگے ہوئے تھے خیال تھا یہ وہیں پھل پھول کر جھاڑی کی شکل اختیار کر لیں گے لیکن گارڈن میں کام کرواتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ان کے لئے یہ جگہ مناسب نہیں ۔

کچھ عرصہ پہلے سنا تھا بلکہ پڑھا تھا کہ پودے اور درخت بھی روتے ہیں ہمارے چیری کے درخت کو جب ہلکی پھلکی چھانٹی کے بجائے کسی نے ایسا چھانٹا کہ بیچارہ بالکل ہی شاخوں سے محروم ہو گیا تب چیری کا دراخت یقینا رویا ہوگا چلایا ہو گا ۔اس کی فریادیں تو ہم نہ سن سکے لیکن اس کی بچی کھچی ڈھلکی ہوئی شاخوں کو دیکھ کر ہم سب بہت خفا ہوتے تھے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی گولڈن گروٹا کے ان دو تین پودوں کی جو گارڈن کی آرائش کی زد میں آرہے تھے اور جن کی قسمت کا فیصلہ یہ ہواکہ ان کی جگہ بدل دی جائے ۔

آج سے ٹھیک ایک مہینہ اور نو دن پہلےگولڈن گروٹا کے وہ پودے دیوار کے ساتھ سے نکالے کیونکہ وہاں نئی فینس لگنی تھی اورمناسب جگہ دیکھ کر دوسرے پودوں کے ساتھ زمین میں لگا دیئے گئے۔تاکہ یہ کھلی جگہ پھولے پھلے۔۔

اور تب گولڈن گروٹا کی اور میری آزمائش شروع ہوئی تھی۔۔ گولڈن گروٹا اور میرا ساتھ پرانا ہے ۔۔۔یہ دیکھنے میں خوشنماہے اور مضبوط پودا ہے ۔ آپ اسے لگا دیں اور بھول جائیں یہ اپنی جگہ بنانا جانتا ہے ۔ سردی گرمی ہر موسم کو جھیلتا ہے اور وقت آنے پر اپنی بہار دکھاتا ہے۔ ہم سب کو امید تھی کہ یہ نئی جگہ کو قبول کر لے گا اور اپنی جڑیں نئی زمین میں گاڑتے ہوئے اپنے ہرے پتوں کے پیلے رنگ کو قائم رکھے گا۔سو ان دوتین پودوں کو نئی جگہ لگا دیا گیا۔

میں نے جب پہلی بارگولڈن گروٹا کے پرانے پودوں کو نئی زمین میں دیکھا تو میرا دل جیسے ڈوب ساگیا۔ یہ مجھے مرجھایا ہوا محسوس ہوا، ایک پودا تو سیدھا کھڑا تھا جبکہ دوسرے کی ٹہنیاں اور پتے زمین کی طرف جھکے ہوئے تھے ۔دونوں کا ہرا رنگ پھیکا تھا اور پیلے دھبے جو اس کی خوبصورتی کا باعث تھے وہ تو بالکل ہی غائب تھے۔ پودے اپنی جگہ اپنی زمین بدل جانےکی وجہ سے خوش نہیں تھے وہ اپنی ناراضگی کا اظہار اپنے مرجھائے ہوئےپتوں اور جھکی ہوئی ٹہنیوں سے کر رہے تھے ۔مجھے لگایہ ٹھیک نہیں ہوا ان کی جگہ نہیں بدلنی چاہئے تھی ۔ یہ یہاں خوش نہیں ۔۔مرجھا ہی نہ جائیں ؟؟؟ یہ جی پائیں گے ؟؟ اگر نہ ہرے ہوئے تو ؟؟؟اس تو اے آگے کی سوچ میرے لئے شدیددکھ کا باعث تھی ۔۔

مجھے گولڈن گروٹاکا دکھ بھی محسوس ہو رہا تھا۔میں سمجھ سکتی تھی کہ ہوا ،روشنی ،پانی ، ہماری محبت سب وہی ہے لیکن زمین نئی ہے وقت چاہئے ہو گا زمین میں جگہ بنانے کو۔میں روز ان پودوں کودیکھتی تھی اور سوچتی تھی کہیں ان کے ساتھ برا تو نہیں کر دیا ؟

کیا تھا وہیں لگے رہتے ؟

جگہ بہت اچھی نہیں تھی لیکن ایک جگہ توتھی

کیا یہ نئی جگہ پر جڑیں پیوست کر پائیں گے ؟؟؟؟

اسی طرح کے سوالوں کی تکرار میرے ذہن میں چلتی رہتی۔۔

لیکن  کچھ دن بعد جو ٹہنیاں جھکی ہوئی تھیں وہ سیدھی ہو گئیں ۔ایک پوداجو بہت مرجھایا ہوا تھا تھوڑا سا اس نےسر اٹھایا۔۔۔میرا ڈر آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔

میں روز اپنے گولڈن گروٹا کے سبھی پودوں خاص طور پر ان دو پودوں کو ضرور قریب سے دیکھتی ہوں ۔محسوس کرنا چاہتی ہوں کہ کیاانہوں نے نئی زمین کو قبول کر لیا ہے کیا ان کی سب ضروریات پوری ہو رہی ہیں ؟؟

پتوں کے ہرے رنگ میں ابھی چمک نہیں ،وہ پیلے دھبے جو انہیں عام جھاڑیوں سے ممتاز کرتے ہیں وہ بھی نمودار نہیں ہوئے ۔ ابھی وہ نئی زمین میں اپنی جڑیں پیوست کررہے ہیں ۔ وہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں ۔۔۔ ان کی جدوجہد بے شک آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن دل ودماغ سے پوشیدہ نہیں ۔

میں جانتی ہوں میرا پیارا گولڈن گروٹا ابھی مشکل میں ہے موسم ناموافق نہیں لیکن غیر یقینی ہے، گرمی میں سردی اور بےوقت کی بارشیں گروٹا کی ثابت قدمی پراثر انداز ہو سکتی ہیں لیکن بس ایک مرتبہ قدم جمانے کی دیر ہے اس کے بعد گولڈن گروٹا کا زندگی سے بھرپورہرا چمکدار رنگ

بھی واپس لوٹ آئے گا اور اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگانے کو وہ پیلے دھبے بھی نمودار ہو جائیں گے ۔

تب تک میں اور اس کے ساتھی پودے صبر سے انتظار کریں گے۔اسے نئی زمین میں قدم جمانے کا وقت دیں گے ۔اور جلدہی وہ وقت آئے گا جب گولڈن گروٹا کے ہرے چمکدار خوبصورت پیلے دھبوں والے پتے گارڈن میں پھر سے پوری شان سے کھڑے ہوں گے اور میرا دل بھی گارڈن گارڈن ہوجائے گا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *