متفرق

خلش

Spread the love

تحریر حمیرا نگہت

يہ جلن بھي نا اندر ہي اندر انسان کو جلا کر راکھ کرديتي ہے اور جس شخص سے جلن محسوس ہو اسکا وجود نا قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

ميں پل پل ايک اذيت سے گزر رہي تھي۔ ميں کل کي بياہ کر آئي جل جل کر کوئلہ ہورہي تھي چہرے سے رنگ و روپ اڑا جارہا تھا اور ميں اسکي قصور وار اسي کو سمجھتي تھي۔ ميں خاصي سانولي تھي اور ميري سانولي رنگت نے ہميشہ مجھے ايک عجيب قسم کےاحساس ميں مبتلا کئے رکھا۔

وہ شکل و صورت ميں مجھ سے کہيں بہتر تھي – گورا چٹا رنگ لمبا قد اوراتني عمر ہونے کے باوجود چست , زندہ دل اور تروتازہ چہرہ … اوڑھا پہنا اس پر خوب جچتا تھا۔

وہ ميرے سامنے عجب بے نيازي سے خود کو بناتي سنوارتي، صبح نماز کے بعد صحن ميں لگے موتيے کےتازہ پھول توڑ کر کانوں ميں سجاتي، کس اہتمام سے رنگے ہوئے لمبے بالوں ميں خوشبو دار تيل لگا کر کنگھي کرکے چٹيا بناتي، خالص عطر لگاتي۔ جب وہ چند دنوں کے بعد ہي ہتھيليوں پر مہندي سے گول ٹکياں بنا تي تو ميں اس عمر ميں اسکے بناؤ سنگھار ديکھ کر دل ہي دل ميں بوڑھي گھوڑي لال لگام کہہ کر خوب ہنستي۔ وہ بلا ناغہ سفيد رنگ کا استري شدہ غرارہ پہن کر ميرے کمرے کے سامنے دالان ميں رکھے اپنے لئے مخصوص پلنگ براجمان ہوکر پان کي گلوري بنا کر منہ ميں رکھا کرتي۔ پلنگ کے پائے دان کے پاس ہي ايک اگال دان پڑا رہتا۔ محلے دار سہيلياں گاہے گاہے ملنے آيا کرتيں اور سب مل کر خوب خوش گپياں کرتيں، ساتھ ساتھ وہ اپنے دوپٹوں پر کروشيے سے کنگري بنانے ميں مشغول رہتي… واہ ! کيا ہي شاہانہ انداز تھے …۔

ميرے خيال سے اس ميں انا بہت تھي۔ شاذ ہي ايسا ہوتا کہ وہ اپني کسي ضرورت کے پورا کرنے کے لئےبيٹے کو پيسوں کا کہے۔ پينشن اور دو دکانوں کے کرايہ کي رقم سے اسکي تمام ضروريات بہت اچھے سے پوري ہورہي تھيں اور بچ جانے والي رقم سے اپني بيٹيوں پر نوازشات ہوتي تھيں۔

يہ جلن دو چار دن سے نہيں بلکہ شايد ميري فطرت ميں تھي۔ ميں نے ساس بہو کے متعلق ادھر ادھر سے جو باتيں سن رکھي تھيں اسکا نتيجہ تھا کہ ميرے ذہن ميں اس رشتے کا تاثر بہت منفي بن چکا تھا۔ شادي بعد ميري يہي کوشش تھي کہ ساس کوخود پر حاوي نہ ہونے دوں سو اسي کوشش ميں اپنے مياں کو بھي اس سے دور کرنے کے لئے ہزار جتن کرتي رہي۔ وہ کوئي پھل يا کوئي چيز لاتے تو جب سيدھا ميرے کمرے ميں لے آتےتو ميں دل ہي دل ميں ايک فتح مند جرنيل کي طرح خوش ہوتي کہ ميں نے اسکے بيٹے پر مکمل قبضہ کر ليا ہے اور اب وہ ميري مرضي کےمطابق چلنے لگا ہے۔

ڈيڑھ سال کا وقت گزر گيا۔ ميري انا اور سخت کلامي نے کبھي ايک گھر ميں رہنے کے باوجود ہميں آپس ميں گھلنے نہ ديا۔ بس رسمي سي حسبِ ضرورت گفتگو ہوجاتي اور شايد اس نے بھي خاموشي کو ہي عافيت جانا اور اور سرد مہري کي دبيز چادر اپنے اوپر اوڑھ لي۔ جب وہ ميري کسي سخت بات کا جواب دينے کي بجائے بے اعتنائي برتتے ہوئے مجھے نظر انداز کرتي تو اس پر بھي ميں اندر ہي اندر کڑھتي رہتي۔

درد کي شدت بہت تھي اور ميرا ہلنا جلنا بلکل محال تھا …

ميں اچھي خاصي گھر کے سب کام نمٹا چکي تھي سارے کپڑے دھو کر چھت پر پھيلا آئي تھي کہ سيڑھياں اترتے ہوئے پاؤں ايسا پھسلا کہ پھر تين مہينے اٹھ ہي نہ سکي۔ ميں جو سمجھ رہي تھي کہ ميرے بنا گھر کا کوئي کام نہيں ہوسکتا نہ ہي گھر کا نظام چل سکتاہے۔ درحقيقت ايسا کچھ بھي نہ ہؤا۔ سب کچھ تو معمول کے مطابق چل رہا تھا مياں اور سسر کو وقت پر کھانا ملتا اور گھر کے سب کام معمول کے مطابق چل رہے تھے۔ مياں نے بھلا ميرا خيال کيا رکھنا تھا انکي نوکري ہي ايسي تھي کہ صبح کے گئے شام کو گھر لوٹتے اور واپسي پربھي چند فائليں بغل ميں دبائے گھر آتے اور رات گئے تک ان ميں ہي کھوئے رہتے۔

’’ميرا سہارا لے کر چلنے کي کوشش کرو ہمت کرو‘‘ ! وہ بھر پور انداز ميں ميري ہمت بڑھاتي اور ميں کچھ ہچکچاہٹ کے بعد شرمندہ شرمندہ سي اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بمشکل قدم قدم چلنے کي کوشش کرتي۔

کچھ دير سہارا دے کر چلانے کے بعد وہ مجھے بستر پر لٹا کر کچن ميں مصروف ہوجاتي۔

يہ احساس ندامت بھي کب پيچھا چھوڑتا ہے جوں جوں دن گزر رہے تھے ميرے دل ميں نفرت اور جلن کي جگہ شرمندگي غالب آرہي تھي- ’’وہ بري نہيں ہےپگلي ,سوچ اگر وہ جوان جہان اور صحت مند نہ ہوتي تو کيسے گھر کو اور تجھے سنبھال پاتي‘‘ کوئي ميرے اندر سے مجھے جنجھوڑکر بار بار يہ احساس دلا رہا تھا۔ وہ ہر روز ميرے لئے دليہ، سوپ يا کھچڑي بنا کر لے آتي۔ اور جب ميں خود کو سويا ہوا ظاہر کرتي تو وہ چپ چاپ کھڑي ہوکر مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکتي اور بنا کسي آہٹ کے سائيڈ ٹيبل پر کھانا رکھ کر کمرے سے چلي جاتي۔

اب ميں بغير سہارے کے چلنے لگي تھي اس تکليف کے دوران مجھے اس وجود نے ہر طرح آرام پہنچايا تھا۔ ميرا دل مکمل طور پر نرم پڑ چکا تھا۔

وہ رات تو بہت کٹھن تھي۔ اماں کے پيٹ ميں شديد درد اٹھا تھا اور اسے ہسپتال لے گئے تھے۔ بار بارہلکي سي آہٹ پر ميں دروازے کي طرف لپک رہي تھي کہ شايد اماں چلتي ہوئي گھر ميں داخل ہوجائے۔ کبھي بے چين ہوکر مصلے پر بيٹھ کر دعائيں کرنے لگتي۔ ” اے اللہ اس بار اماں کو ٹھيک کردے ميں اس سے اپنے گزشتہ تمام رويوں کي معافي مانگ لوں گي اور اس فرشتہ نما وجود کو کبھي برا نہ کہوں گي۔‘‘

زرد ہتھيليوں پر مہندي رچي ہوئي تھي وہ عطر ميں نہائي ہوئي موتيے اور گلاب کے پھولوں سے سجي ہوئي اب بھي سفيد کپڑوں ميں نماياں اور خوبصورت لگ رہي تھي۔ميں نے اسکے چہرے پر آخري بار ايک گہري نظر ڈالي … اماں کاش تو نے مجھے چند لفظ کہنے کا موقع ديا ہوتا اچانک يوں نہ جاتي۔ بہت آوازيں بھي ديں مگر ميں اسکي گہري خاموشي کو نہ توڑ سکي…

خاموشي جيت چکي تھي اور ميں مکمل ہار چکي تھي۔ …

بہت دنوں کے بعد ميں نےجب اپني الماري کا دراز کھولا تو ديکھا کہ وہ تو اپنے سب گہنے اور ساري جمع پونجي مجھے دان کر گئي تھي …

کچھ بھي تو نہيں بدلا ہے اسکے چلے جانے کے بعد بھي زندگي ويسي کي ويسي ہے۔ دالان ميں رکھا پلنگ وہيں ويران پڑا ہے موتيے کے پھول اب بھي کھلتے ہيں مگر کوئي انکو اپنے کانوں ميں نہيں سجاتا، وہي ايک الاؤ ہے جس ميں پل پل جل رہي ہوں بس اس جلن کي نوعيت بدل گئي ہے اب يہ جلن شرمندگي اور پچھتاوے کي صورت ميں ہے ايک خلش ہے کبھي نہ ختم ہونے والي خلش …

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *