شعر و شاعری

جلا وطنی

Spread the love

کشور ناہید

آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہ

پپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہے

ہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تک

اکیلا ہی چلتا ہے سورج

اداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطر

بلاتا ہے لیکن

نگاہیں ملانے کا ہر حوصلہ

ہر بدن میں

فقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہے

اب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے رکا ہے

بس اب بلبلوں کے ترنم میں بھی

نوحۂ زندگی کے ستم خیز طوفان ہیں

اب فقط میرے اپنے چہیتوں کی لاشوں کے انبار ہیں

اب تو خر بھی یہاں ہنہناتے نہیں

جنگ بندی نہیں سرحدیں بھی نہیں

اے مری مجھ سے روٹھی ہوئی

میرے پدما کی اے زندہ تر سر زمیں

میری آنکھوں ترے آسمانوں

تری اور مری سرحدوں کے وہ سب فاصلے

جو مگر قربتوں کے سوا کچھ نہ تھے

آج کیوں آنکھ میں اشک بن کے رکے ہیں

بھلا کیوں مجھے

تیری قربت کے سایوں کو دھندلاھٹوں میں بدلتے ہوئے

دیکھنے کے لئے زندہ رہنا پڑا ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *