نظم
امتہ الجمیل سیال
آسماں ایسے ستاروں سے سجا ہوتا ہے
جیسے پھولوں سے کوئی تھال بھرا ہوتا ہے
سلسلہ اس کا وسیع تر ہے خیالوں سے پرے
کب بھلا پیار کی وسعت کا سرا ہوتا ہے
چل دیا کوئی بہت بات پتے کی کہہ کر
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
ورد سے اس کے جوملتی ہے دلوں کو راحت
ذکر سے خوف کا اندیشہ ہوا ہوتا ہے
جس میں اخلاص و محبت کی فراوانی ہو
سجدۂ شکر ہے جو دل سے ادا ہوتا ہے
کس کو سمجھائیں سحر صدق و صفا کے معنی
جس کو بتلائیں وہی ہم سے خفا ہوتا ہے

