تو جلوہ گر ہے اور تبسم ہے چار سو
فرحت ضىاء راٹھور، ہمبرگ جرمنى
چاہا ہے جب سے تجھ کو کوئى آرزو نہىں
دىکھا ہے جب سے تجھ کو کوئى جستجو نہىں
حسن و جمال اىسا فرشتے بھى ہىں فدا
تجھ سے ذىادہ اور کوئى خوب رو نہىں
عفت،حىا،صفا اور تقا تجھ مىں موجزن
تجھ سے ذىادہ اور کوئى با وضو نہىں
بىٹھے ہىں تىرے سائے مىں تو ہم کلام ہے
بھاتى کسى کى اور کوئى گفتگو نہىں
حافظ خدا تمہارا ہو ہر آن ہر گھڑى
اس سے سوا دل مىں کوئى آرزو نہىں
تو جلوہ گر ہے اور تبسم ہے چار سو
اک پل نہىں گزرتا کہ تو روبرو نہىں
الفت کا تىرى جام جو پىتے ہىں اىک بار
لىتے کسى سے پھر کوئى جام و صبو نہىں
مرد خدا وہ تنہا بہادر جرى اللہ
داعى الى اللہ اىسا کوئى کو بکو نہىں

