تقسیم کی تربیت
تحریر فائزہ حبیب کراچی پاکستان
کچھ عرصہ قبل ایک مختصر چند سطروں کا اقتباس میری نظر سے گزرا۔ اس اقتباس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ کچھ کہنے سے قبل وہ اقتباس پیش کروں گی۔
’’ایک ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی ان کے پاس دو سیب تھے ماں نے کہا مجھے تو سیب پسند ہی نہیں تو بچوں نے ایک ایک سیب کھا لیا ‘‘
اس اقتباس میں ماں کی ممتا دکھائی گئی ہے کہ ماں چاہتی ہے کہ وہ بیشک بھوکی رہ لے لیکن اس کے بچے پیٹ بھر کر کھا لیں۔ اور لازم بات ہے جب بچے سیب کھا رہے ہوں گے تو ماں کی آنکھوں اور دل کو سکون مل رہا ہو گا۔
لیکن اگر اس واقعے کو الگ نظر سے دیکھا جائے تو اس کے بہت سے پہلو اجاگر کیے جا سکتے ہیں۔
1۔ اگر وہ ماں اس سیب کو کاٹ کر 3 حصّوں میں تقسیم کرتی اور بچوں کے ساتھ مل کر کھاتی تو اس کے بچے اپنی چیز کوصبر کے ساتھ تقسیم کرنے اور مل بانٹ کر کھانا سیکھتے۔
2۔وہ ماں اس وقت بچوں کو یہ سکھا سکتی تھی کہ گھر اور رزق میں برکت کے لئے ضروری ہے کہ پہلا نوالہ ماں باپ کے منہ میں ڈالا جائے تا بڑھاپے میں اس کے بچے ان عظیم برکتوں سے مستفیض ہوتے۔
3۔ممکن ہے اس تقسیم سے اس کے بچوں کے دل سے ساری چیز اپنے پاس رکھنے کا لالچ ختم ہوتا اور ان میں فراخ دلی پیدا ہوتی۔
4۔مستقبل میں جب حقوق اللّه اور حقوق العباد ادا کرنے کا وقت آتا تو بچوں کے دلوں میں مال کی محبت کے بجائےاعلی ظرفی کے ساتھ اسکو تقسیم کرنے کا ہنر ہوتا۔
5۔آج اس ماں نے کہا مجھے سیب پسند نہیں ہے اور کچھ دن بعد وہ انجانے میں کہتی کہ مجھے تو سیب بہت پسند ہیں تو کہیں نہ کہیں بچوں کے ننھے ذہن میں جھوٹ جگہ بناتا اور سچ کی عزت میں لازمی کمی آتی۔
ماں باپ کی محبت انمول ہوتی ہے لیکن انکی عطاء کی ہوئی اعلی تربیت جنّتوں کا وارث بنا دیتی ہے۔
’’کچھ عرصہ ہوا میں اپنی ایک عزیز کے گھر رسمی ملاقات کی غرض سے گئی۔ دوران گفتگو ان صاحبہ کی بیٹی ان کے پیروں کے قریب آ کر بیٹھی اور پاؤں دبانے لگی۔ ماں نے پاؤں کھینچ لئے اور کہا مجھے اچھا نہیں لگتا بچوں سے پاؤں دبوانا۔ اس پر بیٹی نے افسردگی سے کہا ’’اپ چاہتی ہی نہیں ہیں کہ میں جنّت میں جاؤں ’’
بچی کا یہ جواب ماں نے سنا اور ہنس کر ٹال دیا لیکن میں کئی دن تک اس کی بات کو سوچتی رہی۔
جس طرح ماں باپ بچپن میں بچوں کو کھانا پینا بولنا چلنا غرض ہر چیز انگلی پکڑ کر سکھاتے ہیں اسی طرح ماں باپ کی عزت اور خدمات کرنا اور انکا خیال رکھنا سکھانا بھی ماں باپ کی ہی ذمہ داری ہے۔ تا کہ بڑھاپے میں انھیں خدمت گزار اولاد نصیب ہو۔
ایک شخص بہت بڑی کمپنی کا مالک تھا رات کو اپنے والد کے پاؤں دبا کر سوتا تھا کسی نے کہا اتنے امیر آدمی ہو کوئی خادم رکھ لو والد کے لئے تو اس شخص نے انمول جواب دیا اس نے کہا ’’بچپن میں اماں نے عادت ڈالی تھی کہ میں ابا کے پاؤں دبا کر سؤوں۔ وہ کہتی تھیں جو باپ کے پاؤں دبا کر سوتا ہے ساری رات جنّت کی ہوائیں اسے اپنے حصار میں لئے رکھتی ہیں۔ اب خادم تو ابا کے پاؤں دبا کر سلا دے گا لیکن مجھے جنت کی ہواؤں کے بنا نیند کیسے آئے گی ‘‘
کتنی عظیم ماں تھی وہ جس نےاپنے بیٹے کو دنیا میں ہی جنّت کا راستہ دکھا دیا تھا۔
یہاں میں ایسی ماؤں کا بھی ذکر کروں گی جو گھروں میں بچوں کی خوراک کا بہت خیال رکھتی ہیں حتی کہ اپنے حصّے کا کھانا بھی بچوں کو کھلا دیتی ہیں پھر لگ بھگ 40 کی عمر میں 70 کی لگتی ہیں اور قوت مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے درجنوں بیماریاں انھیں گھیر لیتی ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ سوال جو میں لگ بھگ ہر اس خاتون سے پوچھتی ہوں جن کا مجھے اندازہ ہو کہ یہ زندگی کی 40 کے قریب بہاریں دیکھ چکی ہیں وہ سوال یہ ہے کہ آپ نے آخری بار دودھ کا گلاس کب پیا تھا۔ اس کے جواب میں 80 فیصد خواتین کا ایک ہی جواب تھا ’’یاد نہیں ‘‘
پھر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سب انہوں نے اپنی والدہ کو کرتے دیکھا تھا کہ جتنا دودھ گھر میں موجود ہے وہ ماں سمیت سب میں تقسیم ہونے کے بجائے صرف بچوں میں تقسیم ہوا اور بات وہیں آکر ختم ہوئی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔


