خوابوں کا بھرم
تحریرسعدیہ تسنیم سحر
“موبائل بھي ايک عجيب نشہ ہے ايک الگ دنيا۔ اپني ذات ميں مکمل جو کہيں ديکھنے نہيں ديتي کسي جوگا نہيں چھوڑتي۔ ”اس نے آرام دہ صوفے پر بيٹھتے ہوئے سوچا اور مسکرائي۔ موبائل کے ٹھنڈے لمس نے جسم ميں ايک انوکھي سي سرشاري بھر دي تھي۔ آنکھيں ہيروں کي کنيوں کي طرح جگمگانے لگي تھيں۔ موبائل اوپن ہوا سکرين پر لگي بچوں کي تصوير ديکھ کر يوں محسوس ہوا گويا دو ہفتوں کے بعد بچے ديکھے۔ بچوں کا روز کا ساتھ تھا ليکن سکرين پر بچوں کي يہ تصوير ايک نئے تعلق کا دروازہ محسوس ہوتي تھي۔ سچ ہي کہتے ہيں سيانے کہ محبت جان ليوا نہيں ہوتي عادتيں جان ليوا ہوتي ہيں۔ واٹس ايپ،ٹيلي گرام، پر موجود کئي گروپس ميں ڈھيروں ڈھير ميسيج ہيں۔ شاعري گروپ ميں 2000 ميسيج نثر ميں 1500 ميسيج اور ٹيلي گرام پر تو حد تھي 5600 ميسيج۔
’’سب نے مجھے کتنا مس کيا ہو گا “ اس نے فخر سے سوچا…روبينہ نے ہر دوسرے شعر ميں ميري رائے پوچھي ہو گي… عبيرہ کو تو پھولوں سے عشق ہے پتہ نہيں کتنے گلدستے ميري صحت سے معنون کئے ہوں گے… سب اتنے پريشان ہوں گےکہ ميں کہاں ہوں ؟؟… سيبرينہ باجي نے اتني دعائيں کيں ہوں گي ميرے ليے… بھئي يہ فيس بک کي نقلي دنيا تھوڑي ہے يہ تو محبت کي دنيا ہے…
دعا کي دنيا ہے… ہم سب ايسي لڑي ميں پروئے ہوئے ہيں کہ ہر موتي دوسرے موتي کو سہارا دئيے ہوئے ہے…
ايسا نہيں تھا کہ وہ اس دور کي ان بےوقوف لڑکيوں ميں سے تھي جن کا قبلہ و کعبہ ہي موبائل اور سوشل ميڈيا ہوتا ہے بلکہ وہ اس دور کي ماں تھي، جو گھر، بچے اور سوشل لائف کو ساتھ لے کر چلتي ہيں خود بھي فٹ فاٹ ہوتي ہيں اور گھر بھي نظر انداز نہيں کرتيں۔ بچوں کو پڑھانا، ان کے ساتھ ٹي وي ديکھنا، ان کے ساتھ کھيلنا، يہ سب ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ ليکن ايک جو چھپا ہوا اپني ذات کا حصہ ہوتا ہے ناں وہ اپنے آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ شايد اسے ايسي ہي دوستي چاہيئے ہوتي ہے کہ جس ميں کوئي دنياوي سٹيٹس نہيں ہوتا۔
کوئي کسي شکي بيوي کا شوہر نہيں ہوتا۔کسي بيوي کو اپنے سخت گير شوہر کے حوالے سے بات نہيں کرني پڑتي۔کہيں بچوں کي نالائقي سے شرمندہ نہيں ہونا پڑتا بلکہ ہر شخص صرف اپني ذات ہي دکھاتا ہے۔
اب اس کے ساتھ بھي يہي ہوا تھا کہ سب کچھ ترتيب سے رکھتے رکھتے اپنا آپ کہيں گم ہو گيا تھا کئي ہم مزاج لوگوں کے ساتھ گروپ بنا تو لگا سانس ميں سانس آ گئي۔
بچوں کو چھٹياں تھيں تو شوہر نے بھي سرپرائزديا اور سير کا پروگرام بنا ليا سو تين چار دن سے وہ اسي پروگرام ميں مصروف تھي بچے بھي خوب لطف اندوز ہو رہے تھے بس ايسا تھا کہ موبائل کے ليے وقت ہي نہيں نکل رہا تھا اور کچھ وہ بھي بالکل فارغ ہو کر ميسيجز ديکھنا چاہ رہي تھي اس ليے اتنے دن سے موبائل کي طرف ديکھتي بھي کنکھيوں سے تھي۔
اور بالآخرآج وقت مل گيا تھا کاموں سے فارغ ہوچکي تھي
آتي سرديوں کي ہوا ہلکي سي خنکي ليے ہوئے تھي ليکن ايسي سبک کہ سرشار کر دے خود بخود دل جھومنے گنگنانے لگے۔ “پہلے ٹيلي گرام کہ پہلے واٹس ايپ “
اس نے خود سے ہي ٹاس کيا اور پھر مسکراتے ہوئے ٹيلي گرام اوپن کيا۔ کچھ ميسيج ہلکے سے مسکراتے ہوئے پڑھے بھئي با وفا لوگ ہيں اب اگر اتنے دن کي غير حاضري کي ہے تو ميسيج تو بغير پڑھے ڈيليٹ نہيں کرنے ناں۔
جيسے جيسے ميسيج آگے بڑھتے جا رہے تھے مسکراہٹ سمٹتي جا رہي تھي۔
پہلے بے چيني…پھر حيرت…اور پھر دکھ…
چٹھي نہ کوئي سنديس…
پريم پتر تو دور کسي نے اس کا کوئي ذکر ہي نہيں کيا… کسي نے کوئي کمي محسوس ہي نہ کي…
اتنے رنگا رنگ پھولوں، قہقہوں اور گيتوں کے باوجود موت کا سا سکوت چھا گيا…
بول مٹي ديا باويا…ہوا ميں رچي نرم سي خنکي موسلا دھار بارش کا روپ دھار گئي جو گرتي ہے اور بہت کچھ بہا کر ساتھ لے جاتي ہے۔
دئيے کي لو جھلملانے لگي … يوں لگا کہ دل کا کاسئہ خالي ہو گيا۔
باد مرگ چلنے لگي…
پڑچھتي پر پڑا مٹي کا باوا نيچے گرا اور ٹھيکرياں دور دور تک پھيل گئيں۔


