متفرق

اونچا شملہ

Spread the love

تحریراچھی آپا

مہمانوں کي گہما گہمي ميں تقريبا” ہر چہرے پہ خوشي تھي سب اپنے اپنے رنگ برنگ نفيس پہناووں اور ميچنگ شوز، ميچنگ جيولري ايک دوسرے کو اپني اپني پسند سے متاثر کرنے کي فکر ميں لگے تھے شادي بھي آج کے دور ميں خانداني مسائل يا آپسي رنجش کو ختم کرکے مل بيٹھنے کاايک ذريعہ اور موقع ہي تو ہے پر بعض لوگوں کے لئے سب ٹھيک ہوتے ہوئے بھي يہ موقعے بھي بس تکيلف يا ذہني اذيت کا باعث ہوتے ہيں ذہني اذيت بے جوڑ رشتوں کي، اذيت بے وجہ رشتوں کو نبھاہنے کي خاطر اور بعض اوقات کسي خاندان يا قبيلے ميں جاہليت کي بناء پہ چلتي دشمني ختم کرنے کےلئے بيٹيوں کو قرباني کي چاہے بچي کي ساري زندگي دردناک اور خوفناک ظلم سہتے بيماريوں ميں مبتلا ہونے يا ذہني مريض ہوکر مينٹل ہاسپٹل پہنچنے تک ہو جائےليکن دور چاہے پيدل سفر کا ہو يا ہوائي سفر کا، عورت کي حيثيت چاہے گھرميں محض ايک گھر کے ملازم کي تھي يا اب شانہ بشانہ ہر فيلڈ ميں مردوں سے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کا دور ,, اس کو قربان ہونا تھا ہوناہے اور شايد تا قيامت ہوتي رہے گي۔

عافيہ کي بھي کچھ ايسي ہي کہاني تھي وہ پہلے خود خانداني دشمني ختم کرنے کے لئے بياہي گئي اور اب، ،، اسکي محض انيس سال کي بيٹي تابندہ، ،،، وہ بھي باپ کے قرضے اور خاندان بھر کي ضد کي وجہ سے ايک پہلے سے شادي شدہ تين بچوں کے باپ سے بياہنے جارہي تھي عافيہ کے گھر والے بہت بڑے زميندار تھے اور وہ دو بہنيں اور ايک بھائي تھا بھائي باوجود ابا کے بہت کرخت اور اصول پسند ہونے کے ماں اور بيٹيوں کے ڈھکے چھپے بے وجہ لاڈ پيار سے کافي حد تک بگڑ چکا تھا – کافي حد تک اس ليئے کہ وہ باپ سے تو ڈرتا تھا ليکن ماں اور بہنوں سے ضد کرکے ہر بات منوا ليتا – دونوں بہنيں شہر کے کالج تک گئي تو تھيں , ليکن انہيں ادھر ادھر اکيلے جانے يا کسي غير نصابي سرگرمي ميں حصہ لينے کي اجازت نہيں تھي وہ باپ سے ڈرتي تھيں ليکن ان کے اصولوں کا احترام بھي کرتيں تھيں کہ والدين کے اصول بيٹيوں اور بيٹوں کے بھلے کے ليے ہے ۔ سو بي-اے تک تعليم آرام سے حاصل کرگئيں اب انکے اکلوتے بھائي صاحب نہ تو پڑھائي ميں دلچسپي نہ کام ميں۔ابا نے زمينداري کے لئے زيادہ کام يا نوکروں پہ رکھا تھا اور خود نگراني کرتے سو صاحبزادہ ميٹرک کے بعد ہي ہواؤں ميں اڑنے لگے- کالج آتے جاتے مستي کرتے ايسے ہي دوسرے گاؤں کي ايک خوشحال گھرانے کي لڑکي کے چکر ميں ايسے پڑے کہ بات خط و کتابت تک آ پہنچي ۔ بھلا يہ باتيں کب تک چھپتي ہيں اور پھر لاڈلے مياں تو ويسے بھي فخريہ دوستوں کے ساتھ شئير بھي کرتے – انجام کار بچي کے کالج بيگ سے ايک دن خط اسکي بڑي بہن کے ہاتھ لگا، بہن سے ماں اور پھر باپ تک پہنچتے دير ہي نہ لگي – وہ ٹيلفون ڈيپارٹمينٹ ميں اچھے عہدے پر تھے آفيسر لوگوں سے دعا سلا م انہوں نے پيچھا کيا کالج روڈ پہ اسے بچي پہ آوازيں کستے اور شعر گنگناتے پکڑ ليا اور خوب دھلائي کي –

صاحبزادے چوٹيں لئے گھر پہنچے دوستوں کاجم غفير، ، جو دوست کم تماش بين زيادہ تھے، ساتھ آئے گھر تک چھوڑنے اور ساتھ مصالحے دار کہاني بھي –

ڈيرے پہ چوہدري صاحب کي ملازمين کے سامنے ہي سارا پول کھول ديا  اورسارے گاؤں ميں بات پھيل گئي ۔ ہر کوئي آتے جاتےاشاروں کنائيوں سے بات کرنے کہنے کي کوشش کرتا چوہدري صاحب نے ہمت اور حوصلے سے کام ليا۔ ساري باتيں ديکھ اور سن رہے تھے بيٹا بھي اس دن سے کالج جانا بند کرکے بيٹھا تھا ايک تو شرمندگي دوسرا آتے جاتے دوست اسے انکي طرف سے قانوني کاروائي کا کہہ کر ڈرا گئے تھے چوہدري صاحب ڈيرے پہ بيٹھے بيج کھيتوں ميں ڈلوانے کي تياري کر رہے تھے فصلوں کي بجوائي سر پہ تھي کہ گاؤں سے ملحقہ تھانے کا تھانيدار جو چوہدري صاحب کا اپنا ہي آدمي تھا وہ آگيا اس نے بتايا کہ بچي والے بجائے شرمندگي چھپانے اور بچي کي شادي کردينے کا سوچ رہے ہيں – بلکہ ميرے پاس بھي آئے تھے گو کہ کھل کر بات نہيں کي بس اس دن کے واقعے کا کہہ کر دھيان رکھنے کا ہي کہا ہے. – ليکن جناب اس طرح دشمني کي جڑ پکڑ جائے گي۔ بچہ ہے باہر تو نکلنا ہي ہے کہيں آتا جاتا ديکھ کے کوئي خوامخواہ رُعب ڈالنے کي کوشش ميں نيچ حرکت کردے اور دونوں جانب بغير کسي وجہ کے ايک نئي دشمني نبھاہني پڑ جائے – چوہدري صاحب امن پسند تھے ويسے بھي باپ دادا کے بعد بڑے بھيا نے زميندارہ ميں دلچسپي لي نہ کوئي کاروبار کيا۔ بس،اپنا ٹھيکہ لينا اور اپنا خرچہ ليتے بس۔ سو بات بڑھانا نہيں چاہتے تھے – گھر آگئے اور اپنے بڑے بھائي اور دوست سے مشورہ کيا – انہوں نے مشورہ ديا کہ بجائے اسکے کہ بات بڑھے وہ پہلے مارنے آئے تھے، پھر پوليس اسٹيشن، يہ تو عزت پہ حرف آنے والي بات ہے کل کو پوليس تھانے کے چکر ميں صرف بچي والوں کي ہي نہيں بلکہ ہم سب کي بھي بےعزتي ہے کہ کسطرح کےمعاملے ميں چوہدري صاحب تھانوں کے چکر کاٹ رہے ہيں – سو فيصلہ ہوا کہ بجائے لڑنےاور مرنے مارنے کے مصلحت پسندي سے کام ليا جائے – صاحبزادے کو گھر چھوڑ کر گاڑي ميں چار بڑے لوگوں کو لے کر بچي کے والدين کےپاس چلے گئے اور بڑي عاجزي سے معذرت خواہانہ اندازميں بات کي نزاکت سمجھائي پہلے تو وہ لوگ بہت بھڑکے ليکن پھر انکے بھي ايک دو بزرگوں کے سمجھانے پہ بات چھوڑنے پہ راضي ہوگئے – اُٹھنے سے پہلے بڑے بھائي نے عجيب بات کردي عجيب اس لئے کہ چلنے سے پہلے طے شدہ نہيں تھي –

انہوں نے کہہ ديا کہ اگر اعتراض نہ ہو تو اتني جائيداد کے اکلوتے وارث سے بڑھ کر آپ کو بچي کے لئے چاہئے بھي کيا؟ کيا حرج ہے اگر بچي بچے کو شادي کے بندھن ميں باندھ ليا جائے جس پہ ايک بار پھر بات تو توميں ميں پہ آگئي ليکن واپسي کے لئے اُٹھتےہوئے ان کے قدم ان لوگوں کو بھي کسي فيصلے پہ لا چکے تھے-

اگلے ہفتے ہي ايک نمائيندہ آيا اور رشتے کي بات کرنے کے لئے آنے کا کہہ گيا

چوہدري صاحب کچھ سوچ ميں پڑ گئے کہ انسان کيا سوچتا ہے اور کيا ہوجاتا ہے۔ چلو بھائي نے اچھا ہي کيا شادي تو کرني ہے، يہيں سہي۔ ہاں وہ بھي اچھي ريپوٹيشن والے تھے مگر زمينداري ميں ان سے بہت چھوٹے تھے – انکي صرف چند ايکڑ زمين تھي اور وہ بھي وہ خود نہيں سنبھالتے تھے پھر بھي سوچا کہ اچھا ہے بچي بھي دب کر رہے گي اور بچے کي عزت بھي بحال رہے گي اور ويسے بھي بچے کي پسند ہے ۔ گو کہ چوہدري لوگوں کے لئے اس طرح کے واقعات کوئي بڑي بات نہيں ہوتے ليکن عزت اور وقار پہ حرف تو آتا ہے – پھر اور ان لوگوں کي باتيں بريکنگ نيوز کي طرح فوراً سارے گاؤں بلکہ اِدھر اُدھر بھي پھيل جاتي ہيں چوہدري صاحب چند رشتے داروں کو لے کر چلے گئے

وہاں جاکر انکے استقبال اور اؤ بھگت سے بہت متاثر ہوئے شايد پہلي بار موقع ہي ايسا تھا کہ وہ بھي پريشان اور غصے ميں تھے اور ان لوگوں پہ بھي غيرت کا مسئلہ ذہن و دل پہ سوار  خيررشتہ کي ہاں ہوگئي – مگر انہوں نے شرط رکھ دي کہ چونکہ رشتہ خواہش سے نہيں بلکہ مجبوري سے ہورہا  اس لئے آپ بھي اپني بڑي بيٹي کارشتہ ہمارے بڑے بيٹے کو ديں ۔ بڑے بچے نے پڑھائي ميٹرک تک ہي بمشکل حاصل کي تھي نہ وہ پڑھنے کو مانا تو پھر باپ نے اسے بھي اپنے ہي محکمے ميں کچھ لے دے کر کے کچھ سفارش سے چھوٹي سي پوسٹ پہ بھرتي کرواليا تھا – اب تو چوہدري صاحب کو سانپ سونگھ گيا – وہ تو اپنے بيٹے کي شادي ہي اپنے جيسے زمينداروں ميں کرانا چاہتے تھے بس بيٹے کي وجہ سے مجبور ہو گئے تھے اب بيٹي ان سے کہيں کم حيثيت والے گھر ميں بياہي جائے گي اس بات پہ وہ خاموش ہوگئے – يہ ٹھيک ہے ہمارے بچے نے غلطي کي ہم نے معذرت کر لي اور تو اور بات ختم کرنے کے لئے رشتہ بھي مانگ ليا ليکن اپني بيٹي، ، ، کچھ سوچنے کاکہہ کر وہ گھر آگئے –

ہم کسي سے ڈرتے تھوڑي ہيں وہ تو مصلحت کي وجہ سے ہاتھ بڑھايا اب وہ پورا ہاتھ ہي، ،، چوہدري صاحب ڈيرے پہ بيٹھے بول رہے تھے – تو ٹھيک ہے رہنے دو پر ديکھ لو سرکاري ملازم ہے ان کا بيٹا، تسلي دي گئي تھي۔ بھائي کي طرف سے، ، ہوں، ،،،، چوہدري صاحب نے بھي غورکيا  پھر عافيہ کي قسمت کا فيصلہ کرديا گيا اور يہ شادي جسے گاؤں ميں شادي کم وٹہ سٹہ، ، زيادہ سمجھا جاتا ہے کي بھينٹ چڑھ گئي۔ چوہدري صاحب کے وقار ميں اضافہ ہوا جو باتيں بنا رہے تھے وہي تعريف کر رہے تھے کہ چوہدري صاحب نے بيٹے کي بات بگڑنے سے بچائي اور کسي کي عزت کو رلنے اور برباد ہونے سے بچاليا تھا، ،، چوہدري صاحب کے ساتھ ساتھ انکے بھائي بھي چلتے پھرتے اکڑ رہے تھے کہ ہم نے اپني حيثيت سے کم لوگوں کي بچي کو تہمت لگ کر بيٹھے رہنے سے بچا کر اپنے گھر کي بہو بناليا چوہدري صاحب تو معتبر ہوگئے دودو فرض بھي ادا ہوگئے – يہ عليحدہ بات ہے کہ گھر ميں آنے والي چوہدراني ہوگئي پر جو گھر سے نکلي نوکروں ميں پلي بڑھي۔ دوسرے گھر خاموش نوکراني بن گئي  اور پھر کم پڑھائي لکھائي کے پيچھے بھي آوارگي زيادہ اور مجبوري کم تھي گو اپنا بھائي بھي ايسا ہي تھا پر وہ پھربھي باپ سے ڈرتا تھا ادھر تو باپ کاڈر کيا احترام اور عزت بھي کم تھي اور بيوي تو جوتي کے برابر درجہ رکھتي تھي، ،، سوچيں بار بار اپني ازدواجي زندگي کے اتار چڑھاؤ ميں الجھ رہيں تھيں – اور اب اتنے سالوں بعد بيٹي کي باري آئي تو وہ بلکل ہي بے بس تھي اور تو اور اس وقت تو اسکے ميکے ميں بھي صرف اس کا چھوٹا بھائي تھا جسے اپني ذاتي زندگي کے علاوہ کچھ نظر نہيں آتا تھا

بھابھي کے زير اثر تھا جو اسکي ہي نند تھي اسے سمجھ نہيں آرہا تھا اپني پھول جيسي بچي کو اس قرباني بھينٹ چڑھنے سے کيسے بچائے۔ اور پھر وہ کربھي کيا سکتي تھي خاوند جو بيٹيوں کو بوجھ سمجھتا تھا ابھي تو اسکي بھي صرف دو ہي بيٹياں اور دو ہي بيٹے تھے پر اپني بہن کے واقعے کے بعد وہ احتياطاً بچيوں کو گاؤں سے باہر پڑھانے نہ بھيجنا چاہتا تھا سو بيٹياں بھي ميٹرک تک ہي ريگولر پڑھ سکيں تھيں اور بمشکل بڑي نے ايف اے ہي کيا تھا کہ اسکي نند تين بچے چھوڑ کر جن کي عمريں دس سے چھ سال کے بيچ تھيں چند دن بيمار ہو کر چل بسي اسکا خاوند دوسري شادي کرنا چاہتا تھا -وہ تھا تو بڑا مالدار اور کاروباري ليکن گھر سنبھالنا اور بچوں کي نگہداشت کسي پکي عمر کي عورت کاکام ہے ناں کہ انيس برس کي نادان عمر کي بچي اتني ذمہ داري نبھا سکے پر اسکے خاوند کي نظر اپنے بہنوئي کي دولت پہ دھيان تھا. نہ کہ بچي کي خوشيوں اور اسکي سہولتوں کي طرف، کيونکہ اپني لاپرواہي کي وجہ سے وہ کافي قرضوں کے بوجھ تلے دبا  ہوا تھا – اور ايک دولت مند بہنوئي کو جوان بچي کا رشتہ دوبارہ دے کر اسے خوش کرنے کے پيچھے وہ اسکا مقصد جان چکي تھي – اس نے ہر چند اس محاذ پہ لڑنے کي کوشش کي رشتے والي کے لائے رشتوں کو بھي سامنے رکھا ليکن سوائے لڑائي اور دھمکيوں کے کچھ نہ ملا – اور يہ رشتہ طے کرديا – عافيہ کادل بجھ گيا اسکا  ساتھ کون ديتا بھابھي تو خود اس سازش ميں برابر کي شريک تھي کہ ہمارے بھانجے بھانجيوں کو اپنے گھر کي بچي ماں کے روپ ميں مل جائے گي ويسے بھي يہ تو بچوں سے مانوس ہے اور انکي طبعيتوں کو سمجھتي ہے۔

 ہر ايک اس رشتے کے حق ميں تھا اور وہ تجاويز دے دے کرچپ ہوگئي تھي يوں جيسے يہ اسکي بيٹي کي نہيں بلکہ کسي غير کي شادي ہے

اسے لگا آج سے بائيس برس پہلے جسے وہ اپنے لئے زيادتي سمجھ رہي تھي وہ اس زيادتي سے بہت کم تھي جو اسکي بيٹي کے ساتھ ہونے جا رہي تھي گوکہ اکثر اس طرح کي شادياں ہو جاتي ہيں کبھي بہن کے بچوں کي ذمہ داري نبھاہنے پہ کبھي پھو پھو کے تو کبھي خالہ کے بچوں کي ليکن يہ شادياں طے کرنے والے اس طرح رشتے نبھاہنے والے کيا ايک بچي کےاحساسات اور اسکي خواہش کے مطابق فيصلہ کرتے ہيں – کيا ان ذمہ داريوں کو کوئي اور ضرورت مند عورت پورا نہيں کرسکتي ؟ جو خود ان حالات کا بے چارگي کا شکار ہو يا ضروري ہے کہ قرباني کے بکرے کي طرح بولي لگاکر کسي بھي کھونٹے کے مالک کے ہاتھ ميں رسي پکڑا کر باندھ ديا جائے مرداپني کہي نبھاہنے يا اپني مجبوريوں پہ صرف عورت کو ہي کيوں ذبح خانے لے جاتے ہيں اپنے کہے کا پاس رکھنے کو اپنے وقار کو بلند کرنے کے ليےصرف معصوم بچياں ہي کيوں بھينٹ چڑھائي جاتي ہيں ؟ وہ رخصتي کے وقت ڈھاريں مار مار کر روئي بايئس سال پہلے اسکے باپ کي عزت پہ اسکي مرضي پوچھے بنا شادي کردي گئي اور آج اسکي بچي کے لئے تو عزت اور وقار نہيں بلکہ باپ کي دولت کہ ہوس اور لالچ جسے وہ بچي کو پيش کرکے حاصل کرسکتا تھا،  ايک اور مرد نے جسکو اس نے ساري جواني دے دي اسکا گھر اور بچے سنبھالے اسکي زيادتي، ظلم سب سہ کر بھي اف نہ کيا اسکي ہي بيٹي کي شادي ميں اسکي مرضي پوچھنا کجا اسکي منتيں بھي نہ ديکھيں اسکے احتجاج کي بھي پرواہ تک نہ کي ہاں آج اسکي بيٹي اپنے باپ کے اچے شملے پہ قربان ہونے جارہي تھي – عورت کي قسمت ميں لکھاہے قسم نبھاہے اور وہ بھي چپ چاپ – يہ سب سہنے پہ معاشرہ اور اسکے نام نہاد ٹھيکدار مردوں نے مجبور کيا – جوصرف دنيا داري اور رشتہ داري کے لئے ہر حکم پامال کرکے اپنا شملہ اونچا رکھنے کي فکر ميں رہتے ہيں بنت حوا قربان ہوتي آئي ہے، ہورہي ہے، اور شايد ہوتي رہے گي۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *