آنحضورﷺ کے طبقہء نسواں پر احسانات
تحریر حمیرا ناصر
جب دنيا ميں تاريکي چھائي ہوئي تھي۔ چاروں طرف شرک کا جال بچھا ہوا تھا۔ دنيا اپنے خالق کو بھولي ہوئي ہي نہيں بلکہ اس کے نام تک سے واقف نہيں تھي۔ خصوصاً عرب کا خطہ تو بالکل خدا کي طرف سے غافل تھا، توحيد قريباً مفقود ہي تھي۔ اس وقت خدا کا ايک بندہ اپنے پيارے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے کھڑا ہوتا ہے اور صرف خدا ہي کي تعليم سے فيضيا ب ہو کر دنيا ميں توحيد کو پھيلانا شروع کرتاہے۔ اس وقت جبکہ عورتوں کي حالت عملاً جانور وںسے بھي بدتر سمجھي جاتي تھي۔ وہ اٹھتا ہے۔ان کے حقوق ان کو دلواتا ہے، ان کو حيوان سے انسان بناتا ہے۔ ہاں اس وقت جب اس غريب ہستي پر ظلم پر ظلم کئے جا رہے تھے۔ اس کے کوئي حقوق تسليم نہيںکئے جاتے تھے۔ بيٹي کي پيدائش پر شرمندگي سے چہرے سياہ ہو جاتے تھے۔قرآنِ کريم ميں اللہ تعاليٰ ان حالات کا ذکر اس طرح فرماتا ہے کہ:
ترجمہ : ’’ اور جب ان ميں سے کسي کو لڑکي کي بشارت دي جاتي ہے تو اس کا چہرہ غم سے سياہ پڑ جاتا ہے اور وہ (اسے) ضبط کرنے کي کوشش کر رہا ہوتا ہے۔وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس (خبر) کي تکليف کي وجہ سے جس کي بشارت اسے دي گئي۔‘‘ (النحل ۵۹:۶۰)
آنحضورﷺ کي بعثت سے قبل يہ حال تھا کہ اگر کسي کے ہاں لڑکي پيدا ہوتي تو اس کے گھر والوں کي حالت نا گفتہ بہ ہو جاتي۔ خصوصاً باپ کے لئے تو دنيا اندھير ہو جاتي، وہ حيران ہوتا کہ کيسے اس ذلت کو برداشت کرے اور اس ہستي کوجس نے اس کے زعم ميں دنيا ميں آ کر اس کي ناک کاٹ ڈالي زندہ رہنے دے يا اسے زندہ ہي زمين ميں گاڑ دے۔عورت کے لئے ترکہ سے بھي کوئي حصہ نہ تھابلکہ خود اس کو ايک ورثہ سمجھتے تھے مگر آنحضورﷺ نے ان سب ظلموں کو دور کر ديا اور ايک غريب ہستي کے لئے رحمت کا فرشتہ بن گئے۔
رحمت ِ عالمﷺ کي بعثت يقينا عورتوں کي حقيقي آزادي، انکے مقام اور انکي استعدادوں کے روحاني، معنوي اور مادي طور پر ظاہر ہونے کا دور ہے۔ آپؐ نے عورت کو تحت الثريٰ سے اٹھا کر تخت پر بٹھا ديا، اسے گھر کي نگران اور ملکہ بنا ديا۔آپؐ کا لايا ہوا دين ِحق وہ پہلا مذہب ہے کہ جس ميں عورت اور مرد کو حقوق کي برابري دي گئي ہے۔ فرماتاہے کہ : ’’ جيسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہيں ويسے ہي عورتوں کے مردوں پر ہيں۔‘‘ (البقرہ ۲۲۹)
گويا دين ِحق نے نسواني دنيا کي کايا ہي پلٹ دي۔ وہي بيٹي جسے زندہ درگور کر ديا جاتا تھا اسے سکھ کا سانس ہي ميسر نہيں آيا بلکہ اس کي پيدائش رحمت کا باعث سمجھي جانے لگي اور اس کي اچھي تربيت جنت کي ضامن ہو گئي۔ رسول اللہﷺ نے فرمايا کہ جو دو يا تين بيٹيوں کي اچھي تربيت کر کے ان کے فرائض ادا کر دے وہ ميرے ساتھ جنت ميں ان دو انگليوں کي مانند ہو گا اور آپؐ نے دو انگلياں ملا کر دکھائيں۔
(الادب المفرد بحوالہ مقامات النساء في احاديث سيدالانبياء صفحہ ۴۴،۴۵)
آپؐ کا عملي نمونہ يہ تھا کہ آپؐ نے خود اپني بيٹيوں کي اچھي تربيت فرمائي اور ان سے پيار اور محبت کا سلوک روا رکھا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ فاطمہؓ ميرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے يہ بات دکھ ديتي ہے کہ کوئي اسے رنج پہنچائے۔ آپؐ نے عورتوں کے لئے تعليم اسي طرح ضروري قراردي جس طرح مردوں کے لئے۔ فرمايا ’’ علم کا حصول ہر مسلمان مردوزن پر فرض ہے۔‘‘
عورت کو پاکدامن بننے کي تلقين فرما کر زوجيت جيسے مقدس رشتہ ميں باندھ ديا۔نکاح کے موقع پر اس کے لئے حق مہر مقرر فرما کر اس کي توقير ميں اضافہ فرمايا۔نيز فرمايا کہ کسي عورت سے شادي چار اغراض کے لئے کي جاتي ہے۔ حسن،مال ودولت، حسب نسب يا نيکي وتقويٰ۔ اور نصيحت فرمائي کہ تم نيکي و تقويٰ کے پہلو کو ترجيح دينااور پھر خَیْرُکمُْ خَیْرُکمُْ لِاَھْلِہٖ فرما کر مرد کي نيکي اور تقويٰ کا معيار اہل و عيال سے حسنِ سلوک پر رکھ ديا اور مرد کو حسن ِ سلوک کے لئے پابند فرما دياکہ ’’ ان (يعني اپني بيويوں) سے حسنِ سلوک سے پيش آئو۔‘‘ اپنا عملي نمونہ ايسا پيش فرمايا کہ آپؐ کي ازواج نے آپؐ کي سيرت کي گواہي دي۔حضرت عائشہؓ کي شہادت گھريلو زندگي کے بارے ميں يہ ہے کہ نبي کريمﷺ تمام لوگوں سے زيادہ نرم خُو تھے اور سب سے زيادہ کريم،عام آدميوں کي طرح بلا تکلف گھر ميں رہنے والے۔ آپؐ نے کبھي تيوري نہيں چڑھائي، ہميشہ مسکراتے رہتے تھے۔ نيز فرماتي ہيں کہ آپؐ نے کبھي اپني کسي بيوي پر ہاتھ نہيں اٹھايا نہ کبھي کسي خادم کو مارا۔
آپؐ نے عورت کو بحيثيت ماں ايسا درجہ عطا فرمايا کہ ہر عورت اپنے عورت ہونے پر فخر کرنے لگي۔ فرمايا ’’ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ ‘‘ جب سوال کيا گيا کہ حسنِ سلوک کا کون سب سے زيادہ مستحق ہے تو تين دفعہ فرمايا ’’تمہاري ماں۔‘‘
طبقہء نسواں کے لئے مجسم رحمتﷺ نے عورتوں کي عزت و احترام، عفّت و پاکدامني کے قيام کے لئے بہترين تعليم عطا فرمائي اور انہيں گندي نظروں اور سوچوں کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے پردے کے احکام بيان فرمائے اور ان کے حسن کے قصے بيان کرنے سے منع فرمايا۔ آپؐ نے ايسے خاوند کو جو اپني بيوي کے رازلوگوں ميں بيان کرے بدترين مقام کا حقدار ٹھہرايا۔ عورت کے لئے خلع کا حق رکھا اور اسے نہ چاہتے ہوئے غير مطمئن غلامي کي زندگي سے آزادي پانے کي راہ عنايت فرمائي اور طلاق کي صورت ميں اس کے حقوق قائم فرمائے۔ يہاں تک کہ خاوند کو نصيحت فرمائي کہ طلاق سے حتّي الامکان اجتناب کرے اور نباہ کي پوري کوشش کرے اور طلاق کي صورت ميں بھي بيوي کو اچھے انداز سے رخصت کرنے کي تلقين فرمائي۔عورت کي گواہي کو رائج فرمايا۔قرآنِ مجيد پہلي اور واحد کتاب ہے جو عورت کو اس کا حقِ وراثت ديتي ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہيں :’’ صرف اسلام ہي ايک ايسا مذہب ہے جس نے عورتوں کي انسانيت کو نماياں کر کے دکھا يا اور رسول کريمﷺ ہي وہ پہلے انسان ہيں جنہوں نے عورت کے بلحاظ انسانيت برابرکے حقوق قائم کئے۔‘‘
(تفسيرکبير جلد دوم صفحہ ۵۱۲)
عورتوں کے بارے ميں مندرجہ بالا تعليم ايک ابرِ رحمت کي حيثيت رکھتي ہے۔ظلم تو يہ ہے کہ آج کي ترقي اور جدّت کے نام پر اسلام کي حسين تعليم کو ٹھکرا کر دنيا عورتوں کے بارے ميں افراط و تفريط کا شکار نظر آتي ہے۔ کہيں ظلم وستم اور سفاکي کي جاہلانہ رسموں کو زندہ کيا جا رہا ہے تو کہيں آزادئ نسواں کے نام پر عورت کو عفت وپاکدامني کے حسين دائرے سے کوسوں دور کيا ِجا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کي ہے کہ آج اس تعليم کو عام کيا جائے۔
حضرت اقدسؑ فرماتے ہيں : ’’ عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اورمعاشرت ميں لوگوں نے غلطياں کھائي ہيں اور جادئہ مستقيم سے بہک گئے ہيں۔ قرآن شريف ميں لکھا ہے اور ان سے نيک سلوک کے ساتھ زندگي بسر کرو۔مگر اب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق پائے جاتے ہيں۔ايک گروہ تو ايسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خليع الرسن (آزاد)کر ديا ہے۔ دين کا کوئي اثر ہي ان پر نہيں ہوتا وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتي ہيں اور کوئي ان سے نہيں پوچھتا۔ بعض ايسے ہيں کہ انہوں نے خليع الرسن تو نہيں کيا مگر اس کے بالمقابل ايسي سختي اور پابندي کي ہے کہ ان ميں اور حيوانوں ميں کوئي فرق نہيں کيا جا سکتا اور کنيزوں اور بہائم سے بھي بدتر ان سے سلوک ہوتا ہے۔ مارتے ہيں تو ايسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہي نہيں کہ آگے کوئي جاندار ہستي ہے يا نہيں۔ غرض بہت ہي بري طرح سلوک کرتے ہيں۔يہاں تک کہ پنجاب ميں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پائوں کي جوتي کے ساتھ تشبيہ ديتے ہيں کہ ايک اتار دي اوردوسري پہن لي۔يہ بڑي خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہﷺ ساري باتوں کے کامل نمونہ ہيں۔ آپؐ کي زندگي ميں ديکھو کہ آپؐ عورتوں کے ساتھ کيسي معاشرت کرتے تھے۔ ميرے نزديک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ ميں کھڑا ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ کي پاک زندگي کا مطالعہ کرو تمہيں معلوم ہو کہ آپؐ ايسے خليق تھے۔ باوجود يکہ آپؐ بڑے بارعب تھے ليکن اگر کوئي ضعيفہ عورت بھي آپؐ کو کھڑا کرتي تو آپؐ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۸۷)
اللہ تعاليٰ ہميں اس حسين تعليم کے مغز کو سمجھنے کي توفيق دے اور دعا ہے کہ اللہ تعاليٰ ہمارے دلوں کو ہمارے پيارے نبيﷺ کي محبت سے لبريز کر دے اور آپﷺ کے بتائے ہوئے طريق پر چلنے کي توفيق عطا فرمائے۔ آمين
بھيج درود اُس محسن پر تُو دن ميں سو سو بار پاک محمدؐ مصطفي نبيوں کا سردار


