//تم لڑکی ہو تم ہی خیال کر لیتیں

تم لڑکی ہو تم ہی خیال کر لیتیں

تحریر راضیہ سید

معاشرہ خواہ کتنی ہی ترقی کا دعوی کر لے اور کتنا ہی صاف ستھرا کیوں نہ ہو، کہیں نہ کہیں کچرے کی بدبو ضرور آتی رہتی ہے۔ ہاں البتہ یہ کچرا دکھائی نہیں دیتا بلکہ کئی افراد کے ذہنوں میں موجود رہتا ہے اور وہ باقی افراد کو بھی اپنے جیسا ہی سمجھتے ہیں۔

بحث اس سے نہیں کہ آج خواتین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے یا انھیں ان کے حقوق نہیں مل رہے، خواتین تو صدیوں سے اپنی شناخت اور وقار کی تلاش کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ لینن نے ایک مرتبہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تو بہت آسانی سے اس پر دستخط کر رہا ہوں لیکن درحقیقت خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ بہت عرصہ لڑنا پڑے گی۔

دیکھا جائے تو خواتین کو معاشرتی زندگی میں جتنا پریشر باہر کے ماحول میں برداشت کرنا پڑتا ہے اس سے کہیں زیادہ گھروں کے اندر دبائو ان کے لئے باعث آزار بنا رہتا ہے۔ خاوند خرچہ پورا نہ کر سکے تو بیوی کے ہاتھ بٹانے کی بات پر وہ غصے میں آجاتا ہے اور اسکی نام نہاد مردانگی پر کاری ضرب لگتی ہے۔

اگر بیوی نوکری پیشہ ہو تو گھر بھی چلائے، شوہر بھی دیکھے اور اف تک بھی نہ کرے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں اگر شادی شدہ عورت رہے تو کبھی جیٹھ، تو کبھی دیوروں سے چھپتی پھرے۔ اگر کنواری ہے تو بہنوئیوں اور بھائیوں کے در پر پڑی رہے کیونکہ بہنوئی حضرات اپنی بیویاں تو بیویاں، سالیوں کی بھی روزمرہ سرگرمیوں پر نظر رکھنا اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔

نئے رشتے قائم ہونے کے بعد نصحیتوں کی ایک طویل پٹاری کھل جاتی ہے۔ دوپٹہ ٹھیک سے نہیں لیا۔ یوں بیٹھنا چاہیے تھا، یوں چلنا چاہیے تھا، اونچی آواز سے بات مت کرو، سلام کیوں نہ کیا؟ ادب کیوں نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب نصحتیں خواتین کے لئے ہوتی ہیں اور اگر بالفرض یہ رشتہ بھائی کا ہو تو نندوں کی شکایتیں لگانے میں بھابھیاں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ مرد حضرات کا کسی بھی قسم کا کوئی فرض ادا کرنا اہم نہیں سمجھا جاتا اور ان کے لئے ان سخت اصولوں پر کاربند رہنا بھی ضروری نہیں ہوتا ۔

ایک اندازے کے مطابق زیادتی کے۹۰ فیصد کیس ہمارے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں کیونکہ ایک ہی چھت تلے رہنے والے مرد حضرات پر لوگ بھروسہ بہت کرتے ہیں اور ان کے لئے ہمیشہ سے ہی سیف سائیڈ ہوتی ہے لہذا کسی کو ان کی نیت پر شک نہیں ہو سکتا۔

اس طرح درپردہ ان کے مقاصد بھی پورے ہوتے رہتے ہیں اوران کی بیویوں کی نظر میں بھی ان کی عزت بنی رہتی ہے۔ ہاں اگر کوئی لڑکی ہمت کر کے ان کے سامنے زبان کھول بھی لے تو اسے زبان درازی کے طعنے ملتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو ہمارا شوہر تو بہت شریف ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا کچھ ہوا بھی ہے تو اب رونا دھونا بند کرو، تم خود لڑکی ہو، جوان ہو تمھیں مردوں کی فطرت کا علم ہونا چاہیے۔ تم نے ہی جیٹھ سے یا بہنوئی سے کوئی بدتمیزی کی ہو گی جس کے جواب میں انھوں نے یہ کہا یا کوئی انتہائی قدم اٹھایا کیونکہ وہ تو بہت باکردار ہیں، ایسا نہیں کر سکتے۔

یہاں پر کوئی یہ سوال کرے کہ کیا ان مردوں کی تربیت معاشرے کی عورتوں کے ذمہ نہیں؟ پہلے اس شخص کو اسکی ماں نے سر پر چڑھایا اور اب اسکی بیوی اسکی غلط باتوں پر دفاع کر رہی ہے۔

آج صرف یہی کہنا ہے کہ جس طرح آپ اپنا درد محسوس کرتے ہیں ایسے ہی ان خواتین اور ان لڑکیوں کا درد بھی محسوس کریں جو ایک چھت تلے رہتے ہوئے بھی اپنے دکھ بتانے سے قاصر ہیں۔ خدارا مرد حضرات کی بھی تربیت کریں، انھیں بھی ایک اچھا انسان بنائیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہاں پر بھی عورت کی بطور ماں ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو بتائے کہ دنیا میں جتنی عورتیں ہیں وہ میری طرح یا تمھاری مائیں ہیں یا تمھاری سگی بہنوں کی طرح تمھاری بہن ہیں۔ جس نظر سے اپنی بہن اور ماں کو دیکھتے ہو، ان کو بھی ایسے ہی دیکھنا اور سمجھنا، ورنہ سارا الزام تمھاری ماں اور خاندان کی تربیت پر آئے گا۔ اگر ہمارے معاشرے کا مرد صحیح راہ پر چل پڑے تو عورت کی زندگی بھی آسان ہو جائے گی۔