تیرے بدلے میں جیون بھر
تحریر ۔۔۔ نصرت مجید
تیرے بدلے میں جیون بھر تیرا ہر اک دکھ جھیلوں
میں اپنی سب خوشیاں دے کر تیرے سارے غم لے لوں 🌹
دکھ بانٹنے کی چیز تو واقعی نہیں ہیں اور اللہ نہ کرے کہ انسان دکھ بانٹنے کا سبب بنے
لیکن یہ ضرور ہے کہ کسی سے دکھ کہہ لینے سے دل کا بوجھ ضرور ہلکا ہو جاتا ہے
میرے جیسے کمزور دل لوگ تو یہ بوجھ ہلکا کر کے ہی زندہ رہ سکتے ہیں
ورنہ تو مر ہی جائیں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر قسم کے دکھ شئیر کر کے بوجھ ہلکا کر سکتے
یا کچھ نہیں بتانے والے ہوتے ۔
تو میرا خیال ہے کہ جس طرح دکھوں کی اقسام ہوتی ہیں
مثلا
روز مرہ کے دکھ یعنی روٹین کی الجھنیں اور پریشانیاں۔
کچھ گہرے دکھ۔
اور بعض اوقات شرمندگی لئے ہوئے دکھ۔۔۔
اسی طرح دکھ سننے والوں کی بھی اقسام ہوتی ہیں
مثلا
کچھ لوگ صرف چھوٹے موٹے مسائل سن کر ہضم کر سکتے ہیں یعنی روٹین کے دکھ۔
کچھ لوگ الجھنیں پریشانیاں اور بظاہر بڑے مسائل کا حل بھی نکال دیتے ہیں مطلب گہرے دکھ۔
اور کچھ ایسے بھی چارہ ساز ہوتے ہیں جو ان دکھوں کا مداوہ بھی بن جاتے ہیں جو ہم اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں
بھلے وہ لفظوں کا مرہم ہی ہو یعنی شرمندگی والے دکھ ۔۔۔
بس ہمیں دکھوں کی مناسبت سے متعلقہ انسان چننا ہو گا
اگر انسان کو یہ تقسیم سمجھ میں آ جائے تو انسانی دکھوں میں خاطرخواہ کمی واقع ہو سکتی ہے
لیکن یہ طے ہے کہ دکھ سارے ہی بتانے سے کم ہوتے ہیں
بعض اوقات بات ایسی ہوتی ہے کہ لگتا ہے اب تو اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے انسان ایک بند گلی میں کھڑا ہوتا ہے اور نکلنا ناممکن لگتا ہے
اور اگر بائی چانس کسی کو بتانے کا موقع مل جائے اور وہ انسان کوئی اچھا غمگسار بھی نکل آئے تو ایسا کوئی دروازہ یا روشن دان کھلتا ہے کہ سانس بحال ہو جاتا ہے دل پر پڑا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے
اور افسوس ہوتا ہے کہ خوامخواہ تکلیف میں رہے اسکا تو حل ہی بڑا آسان تھا جسکے بوجھ سے دم نکل رہا تھا
باقی رہا دکھ تکلیف مسئلہ پریشانی یا الجھن کس قسم کی ہے
آیا وہ لوگوں کی ہنسی کا باعث بنے گا یا شرمندگی کا
تو میرا مشورہ ہے کہ اس پر زیادہ نہ سوچیں اور دل کا بوجھ ہلکا کر لیا کریں
کیونکہ ہر انسان کے ساتھ تقریبا ایک سے مسائل لگے ہوتے ہیں ۔۔۔
اس کے علاوہ ایک چوتھی پانچویں قسم بھی ہوتی ہے دکھ درد کے ساتھیوں کی ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو آپکے ہر دکھ تکلیف غم میں آپکے حقیقی غمگسار ہیں اور وقت پڑنے پر آپکے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے
مسائل کا حل دل و جان سے نکالیں گے چاہیے پیسہ اور وقت لگے کوئی پرواہ نہیں
لیکن جونہی آپ اپنی کسی کامیابی یا خوشی کی خبر دینگے سامنے والے پر سناٹا چھا جائے گا
چہرہ متغیر ہو جائے گا گویا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی ہو۔
میں ان لوگوں کو صرف غموں کا ساتھی کہتی ہوں جو چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ غموں میں ڈوبے رہیں اور وہ آپکی مدد کر کے مدر ٹریسہ کی روح کو سکون پنچائیں ۔۔
خبردار انہیں خوشیاں فراہم کرنے کا سبب نہ بنیں



I am greatly impressed by this subject.