تعلیمسائنس و ٹیکنالوجیسیاستقومیمعاشرہ

سیلاب اور ہم

Spread the love

تحریر: شہناز احد

میرے خیال میں ایسا ہم سب ہی کے ساتھ ہوتا ہے کہ کبھی، کبھی کوئی لفظ، جملہ، واقعہ، تصویر، کہانی، گیت، نام، جگہ لمحوں میں ہم پر یادوں کی برات کے در وا کر دیتا ہے۔ پھر ہم لاکھ جتن کریں، یادوں کی بارات بنا دولہا دلہن کے چھم چھم ناچتی ہی رہتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پچھلے دنوں اپنے دوست ڈاکٹر شیرشاہ کا ریڈیو پروگرام سنتے ہوئے ہمارے ساتھ ہوا۔ ہمارے یہ دوست اور بہت کچھ کرنے کے علاوہ ہر ہفتے ریڈیو پرایک ایف ایم چینل سے حالات حاضرہ کا پروگرام بھی کرتے ہیں۔

ان کے حالات حاضرہ کا دائرہ کار سماج اور اس سے جڑے دیگر مسائل کے تذکرے سے ہوتا ہوا طب کی دنیا تک پھیلا ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے پروگرام میں پاکستان کے حالیہ سیلابوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے بتایا کہ ”سیلاب اور زمین کی رشتہ داری بہت پرانی ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے سیلاب آتے جاتے رہے ہیں۔ اس کا سبب زمینی، ماحولیاتی تبدیلیاں، گلیشیر کا پگھلنا، برف کا بہنا، زیر سمندر زمین کا تھرتھرانا، بارشوں کی زیادتی اور پانی کی گزر گاہوں کا بند ہونا وغیرہ وغیرہ شمار ہوتا ہے“ ۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا میں آرکیالوجی کی تحقیقات کے مطابق سیلاب اور زمین کا ساتھ 103 ملین سال پرانا ہے۔ محکمہ آرکیالوجی نے اس بات کا تعین زمین کی تہوں سے کیا ہے کہ سیلابی پانی زمین کی تہوں میں تبدیلی لاتا ہے۔ ان کے کہنے مطابق دنیا کی تاریخ میں سب سے تباہ کن سیلاب 1931 میں چین میں آیا تھا اور اپنے ساتھ چھ ملین یعنی ساٹھ لاکھ لوگ لے گیا تھا۔ دوران گفتگو یہ بھی بتایا کہ چین میں ہولناک سیلابوں کی داستاں بہت پرانی ہے لیکن 1948 میں آنے والے انقلاب نے جہاں اور بہت کچھ بدلا دریاؤں کے مزاج بھی درست کر دیے۔

yellow river جو سب سے زیادہ تباہی لاتا تھا۔ اس کے مقام آغاز سے اختتام تک ڈیم، جھیلیں، نہریں اور پانی جمع کرنے کے دیگر ذرائع بنا کے پیلے دریا کو نکیل ڈال دی۔ اس کے نتیجے میں اب پیلا دریا ”پالتو دریا“ کہلاتا ہے یعنی اسے جہاں چاہیں لے جائیں۔ پروگرام جاری تھا اور میری آنکھوں کے پردے پے پنجاب کے کسی علاقے کی وہ تصاویر جانو پھر سے زندہ ہو گئیں ”جس میں ایک پانچ، چھ سالہ بچہ مری ماں کا ہاتھ پکڑے پانی میں کھڑا اس کے آنکھیں کھلنے کا انتظار کر رہا تھا ایک اور تصویر میں پانی سے لڑتی جوان لڑکی کو کشتی والوں نے کھینچا تانی کر کے بچا تو لیا تھا لیکن اس کی بے تاب نظریں پیچھے رہ جانے والوں کو ڈھونڈ رہی تھیں“ ۔

پالتو دریا کے بارے میں سوچتے سوچتے یاد آیا کہ موہن جو ڈرو میں مدفون عیسوی سال سے پانچ ہزار سال زیادہ پرانی آریائی تہذیب کی تباہی بھی تو دریائے سندھو ہی کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ دریا کے ساتھ ساتھ آباد ہونے والی قوموں نے بھی شاید اس بات کو فراموش کر دیا تھا کہ پانی بھٹکتے بھٹکتے اپنی راہ پر کبھی نہ کبھی ضرور آتا ہے اور اپنے بھولے ہوئے راستوں کی تلاش میں حائل ہر شے کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔ سوچوں کا بند ٹوٹا تو جانے کیا کچھ بہتا ہوا سامنے آنے لگا۔

بچپن، بچپن کے گھر، بچپن کے موسم ان موسموں سے جڑے سینکڑوں قصے کہانیاں بہنے لگے۔ میں شاید تیسری یا چوتھی جماعت میں تھی جب برسات کی ایک رات کو نیند کی گہرائی میں ہمارے تایا کی آواز گونجی ”عبد الاحد اُٹھ تیری پشت پے پانی“۔ (ہمارے تایا اپنے بھائی یعنی ہمارے والد کو آخری دم تک ان کے مکمل نام سے بلاتے تھے) رات کے اس پہر ان کی آواز نے صور کا سا کام کیا اور چھوٹا بڑا دونوں گھروں کا ہر فرد اگلے لمحے بستر چھوڑ کے سیدھا فرش پے کھڑا پیروں تلے پانی کی نمی اور سرسراہٹ کو محسوس کر رہا تھا۔

مجھے یاد ہے تائی اور امی سب سے پہلے اس اسٹور میں داخل ہوئی تھیں جہاں گھر بھر کے صندوق اور راشن رکھا تھا۔ وہ رات کا کون سا پہر تھا یاد نہیں لیکن دن کی روشنی نمودار ہونے تک ہم سب جاگتے رہے اور پاپا تایا پیروں سے فرش چھو کے یہ کہتے رہے کہ پانی چڑھ رہا ہے۔ بچپن کے ان دنوں میں پشت پے پانی یا پانی چڑھ رہا ہے جیسی مثالوں کا ہمیں کچھ پتا نہ تھا۔ دن کی نمودار ہوتی روشنی میں کھڑکیوں کے پار نظر آتا ساں ساں کرتا پانی ہمارے لئے زیادہ جذباتیت رکھتا تھا۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس کمرے میں موجود وہ میز جس کے ایک کونے پے امی کا میک اپ، پاپا کے شیو کے لوازمات، مختلف قسم کی ادویات، گھر میں آنے والے رسائل اور دوسری بہت سی ضروری چیزیں رکھی ہوتی تھیں۔ اس صبح میز کے ایک کونے کا سامان سمیٹ کے، اسٹوو رکھ کے امی نے صبح کا ناشتہ بنایا تھا۔ ناشتہ کرتے ہوئے فرش پے موجود پانی میں امی پاپا کی نظروں سے بچ کے پاؤں مارنے کا مزا، آج بھی تلوؤں میں گدگدی کا احساس دیتا ہے۔

دن چڑھنا شروع ہوا تو پانی میں پھرتے کسی فرد نے خبر دی کہ ملیر ندی کا بند ٹوٹ گیا ہے۔ بارش تھم چکی تھی سو پانی میں پھرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ ہمارے پاپا اور تایا مختلف چیزوں کے مطالعے سے بار بار اسی بات کا اندازہ لگانے میں مصروف تھے کہ پانی اتر رہا ہے یا چڑھ رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو اس وقت وہ اترتا یا چڑھتا پانی ہم سب کو بہت مزا دے رہا تھا اور دل بے اختیار پانی میں شڑپ شڑپ چلنے کو بے تاب تھا۔

دوپہر ڈھلے ان ہی لوگوں کے اندازے کے مطابق پانی اترنا شروع ہو گیا اور صحن، کمرے، پانی کی چھوڑی مٹی سے لپا لپ منہ چڑانے لگے۔ جب ہی اس لفظ سے بھی آشنائی ہوئی کہ ملیر ندی کابند ٹوٹ گیا، وہ ملیر ندی کہاں تھی، اس کا بند کیوں ٹوٹا، بند کیوں تھا؟ اس وقت ان ساری باتوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ البتہ یہ یاد ہے کہ دنوں، ہفتوں اس سیلاب کا تذکرہ گھر، اسکول اور آ نے جانے والوں کے درمیان چلتا رہا تھا۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو مون سون کے دنوں میں اخبار مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں کے سیلاب کی خبروں اور امدادی سامان کی اپیلوں سے بھرا ہوتا، یہ بھی یاد ہے کہ ان سیلاب زدگان کی مدد کے لئے اسکول میں مینا بازار اور ایسی ہی دیگر کارروائیاں بھی ہوتیں تب سیلابوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات سمجھ نہ آتی کہ لوگ سیلاب میں مر کیسے جاتے ہیں یا انھیں امداد کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔

سیلابوں کی بات چلی ہے تو اس وقت بچپن کے رخصت ہونے سے کالج یونیورسٹی جانے تک کی درجنوں بارشیں اور ان سے وابستہ قصے بن بلائے مہماں کی طرح یادوں کی بیٹھک میں گھسے چلے آرہے ہیں۔ یادوں کی بیٹھک سے مشرقی پاکستان میں آئے 1970 کے اس سیلاب کی تصویر کبھی نہ نکل سکی۔ جس میں دریا کا ساحل برہنہ، نیم برہنہ ہر عمر اور جنس کے افراد سے پٹا پڑا تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس ناگہانی آفت کا شکار ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔

مشرقی پاکستان جب سے بنگلہ دیش بنا ہے۔ سیلابوں اور اموات دونوں کو بند لگ گئے ہیں۔ بات زمانہ کالج یونیورسٹی کی بارشوں اور ان کے قصوں کی ہو رہی تھی کہ کتنے مسحور کن ہوتے تھے وہ لمحات جب کالج یا یونیورسٹی میں مون سون برسنے لگتا تھا اور ہم سب بارش سے بچنے کے چکر میں خود کو بھگوتے تھے۔ خواہ مخواہ ادھر سے ادُھر جاتے کہ بارش ہم سے اور ہم بارش سے مل سکیں۔ ایسی ہی ایک دھواں دھار بارش میں یونیورسٹی سے واپسی کے وقت جب بس ناتھے خان گوٹھ پر تازہ تازہ بنے پل کے درمیان پہنچی تو پہلے سے کھڑے ٹریفک وارڈن نے اطلاع دی پل کا آگے کا حصہ بیٹھ گیا ہے۔

ٹریفک کے ازدحام میں ہماری بس بھی کھڑی ہو گئی تو ہم سب کمر، کمر پانی میں کتابوں کو کلیجے سے لگائے گھروں کے رخ پے چل پڑے۔ جب پانی میں چلنا مشکل ہوجاتا تو سڑک پار ریلوے لائن کے پتھروں پے چلنا شروع کر دیتے۔ جب کسی کا گھر قریب آنے لگتا تو واپس پانی میں آ جاتے۔ عمر کے اسُ دور میں پتھروں اور پانی میں چلنے کا اپنا ہی ایک مزا تھا۔ اس مزے کی گہرائی کو صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو کبھی ہماری طرح پتھروں اور کمر کمر پانی میں چلے ہوں گے۔

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن، جوانی میں بہت ہی خونخوار بارشیں ہوتی تھیں۔ جل تھل ہو جاتا تھا۔ سیلاب تو خیر ہر سال ہی آتے تھے اور اپنی بارشوں کے عوض ہی آتے تھے۔ ان کے آنے کا الزام دوسروں کے سر نہیں تھوپا جاتا تھا۔ مجھے یاد آ رہا ہے ہم 1973 میں یونیورسٹی کے اسٹڈی ٹور پر سوات گئے تھے تو واپسی میں دریائے جہلم کے پل پے ہماری ٹرین چیونٹی کی رفتار سے گزری تھی اور پانی لگتا تھا کہ پل کو ہڑپ کر کے ہی چھوڑے گا۔

کراچی پہنچ کے پتہ چلا جہلم پل سے گزرنے والی ہماری ٹرین آخری تھی۔ تب ایسا ہی ہوتا تھا براستہ جہلم پل پر آمد و رفت دنوں بند رہتی تھی اور ٹرینیں لمبا چکر لگا کے فیصل آباد سے گھومتی ہوئی لاہور، کراچی آتی تھیں۔ پانی اس وقت بھی تمام پلوں کو چومتا، سندھ کے سارے بیراجوں کے گلے لگتا آگے بڑھتا تھا لیکن کوئی واویلا نہیں ہوتا تھا۔ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی ملک کے دروازے نہیں پیٹے جاتے تھے۔ ابر باراں کو ابر باراں ہی کی طرح برتا جاتا تھا۔ بھیک کا کشکول نہیں بنایا جاتا تھا۔ ہمارے قومی جینز میں پتہ نہیں کب، کیسے، کہاں سے بھیک کا جینز شامل ہو گیا اور تب ہی سے آفات نے بھی گھر، در دیکھ لیا ہے۔ بارش سے بھیگی مٹی کی سوندھی خوشبو اور ہلکی پھلکی بارشوں سے کھیلتے کھیلتے ہم باروزگار ہو گئے۔ ملازمت اور اس کے جھمیلوں سے نبردآزما ہو رہے تھے کہ 1977 میں بارشوں کے موسم میں بادل آئے، برسے اور برستے ہی چلے گئے۔ قائد آباد کے پل کا ایک حصہ بیٹھ گیا، کورنگی جانے والا راستہ بند ہو گیا، ملیر ندی بپھری اور خوب بپھری، پانی کناروں سے نکلا اور برابری گوٹھ، کھلیانوں میں کئی دن تک اُودھم مچاتا رہا۔

محمود آباد اور کراچی ڈیفنس کے phase 4 کا علاقہ دنوں تالاب کا منظر پیش کرتا رہا۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو پانی کی دسترس سے محفوظ رہا ہو۔ میری یادوں کی اوطاق میں وہ دن آج بھی زندہ ہے جب بارش کے اگلے دن میں اپنے ایڈیٹر محمود شام صاحب کے ساتھ محمود آباد کی گلیوں میں گھنٹوں علاقہ مکینوں، مرغی خانوں کی مری مرغیوں، بھینسوں کے ساتھ کمر برابر پانی میں گھومی تھی اور نقصانات کا جائزہ بقلم خود لیا تھا۔ بھٹو کی حکومت کو ختم ہوئے کچھ دن ہی گزرے تھے اور مارشل لا حکومت بارشی سانحہ پر خاصی سراسیمہ تھی۔

بارش کے ٹھہرے پانی میں دنیا بھر کی غلاظتوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد جب ہماری واپسی ہوئی تو شام صاحب نے اس جملے کے ساتھ ہماری چھٹی کردی کہ ”گھر جائیے، ڈیٹول کے پانی سے غسل کریں، باقی کام کل ہو گا“ ۔ اگلا دن پہلے سے بھی بھاری تھا کہ مجھے زندگی کے اس تجربے سے گزرنا پڑا جسے میں آج تک نہ بھول سکی۔ یہ بارش کے بعد کا تیسرا دن تھا۔ سڑکوں گلیوں سمیت ملیر اور لیاری ندیوں کا پانی زندوں کو مردہ بنا کے خاصی حد تک اتر چکا تھا۔

سول ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر میں نے انسانی لاشوں کے منہ سے گٹروں کی طرح پانی ابلتے، ان پر کیڑے مکوڑوں کو گھومتے، کتے بلیوں کو لاشوں کو سونگھتے ان کی بے حرمتی کو قریب سے دیکھا۔ ہسپتال کا مردہ خانہ بھر چکا تھا اور آنے والے انسانی اجسام مردہ خانے کے باہری فٹ پاتھ پر تھے۔ اُن لمحوں میں زندگی کی حقیقت لمحوں ہی میں سمجھ میں آ گئی تھی۔ زندگی کے آنے والے سالوں میں، زندگی ہوا کے جھونکوں کی طرح کبھی تیز، کبھی تیز تر تو کبھی دھیمی چال سے رک رک کے چلتی رہی۔

زندگی میں بہت سے بدلاؤ بھی آئے، جیسے میں ماں بن گئی، کبھی کبھی یقین ہی نہ آتا کہ میرے ساتھ یہ واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ ماں تو بنی سو بنی وقت نے بھی خوب آنکھیں دکھائیں۔ وقت کی اس آنکھ مچولی میں ایک دن بیٹی کو اسکول سے لے کے گھر آ رہی تھی۔ بارشوں ہی کے دن تھے کہ اچانک دھواں دھار بارش شروع ہو گئی۔ وہ بارش جو گھنٹوں کا کام منٹوں میں کرتے ہوئے جل تھل کر دیتی ہے۔ ہماری چھوٹی سی گاڑی بارش اور ہوا کے تھپیڑوں سے باقاعدہ ہل رہی تھی۔

عجیب سی کیفیت تھی، لگتا تھا گھر بہت دور چلا گیا ہے اور ہم پہنچ نہ پائیں گے۔ ایک موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور نے جیسے ہی گاڑی کو آہستہ کیا بارش کا پانی بھل، بھل کرتا اندر در آیا۔ لمحوں میں مجھ پے کیا کچھ گزر گیا میں آج بھی بتانے سے قاصر ہوں۔ بس یہ یاد ہے کہ پاس سے گزرتے رکشہ کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور بیٹی کو گود میں بھر کے گرنے کے انداز میں رکشہ میں منتقل ہو گئی۔ زندگی میں پہلی بار بارش میں بھیگنا بہت ناگوار گزرا۔

بعد کے سالوں میں جب، جب بارش آندھی طوفان کے انداز میں آئی تو سب سے پہلا خیال ان ہی کا آتا ہے جو شہر خموشاں میں رہتے ہیں۔ ایک عجیب سا اضطراب اور بے چینی گھیرے رہتی جب تک جا کے دیکھ نہ لوں کہ سب کچھ اپنی جگہ پے ہے۔ یہ زندگی بھی عجیب شے ہے۔ کھیلنے کو چاند مانگے اور ہے بلبلے کی طرح۔ پھر بارشوں کو کچھ ہوا اور کئی سال بادل بنا برسے ہی گزرتے رہے۔ ناک گیلی مٹی کی خوشبو کو اور کان بوندوں کی ٹپ، ٹپ کو ترستے ہی رہے۔

تھر میں سوکھا پڑا، ڈھور ڈنگر پیاسے ہی دنیا چھوڑ گئے۔ حتی کہ نہ جہلم کے بھرنے کی خبر آئی نہ ستلج چناب کے کنارے ابلنے کی۔ ان ہی دنوں میں ایک بار سندھ دریا پر سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو اس کی سوکھی کوکھ اور بچوں کو بیچ دریا کھیلتے دیکھ کے آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں، اس کے کلیجے سے نکلنے والی نہریں گندے نالوں کا منظر دکھا رہی تھیں۔ بھل، بھل بہتے سندھو دریا کو ریت کا دریا دیکھ کے دنوں ایک عجیب سے قلق نے گھیرے رکھا۔

کچھ اور دن رات گزرے تو شکار پور جانا ہوا تب ان گناہ گار آنکھوں نے سکھر بیراج کی اجڑی کوکھ میں لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے اور ریت کی نمی میں لگی لوکی، توری، ٹماٹر کی فصلوں کو اترتے دیکھا۔ ہم نے سندھو دریا کے وہ دن بھی دیکھے تھے جب اس کا ٹھاٹھیں مارتا پانی کنارے بنی دیوار کو پھلانگ کے سڑک سے ہوتا اکثر گھروں تک خیریت پوچھنے آ جاتا تھا۔ ہماری ددھیال کے بہت لوگ تقسیم کے بعد سکھر میں آباد ہوئے تھے۔ سکھر کے بندر اسٹیشن کے اطراف بسے اپنے رشتے داروں کی زبانی متعدد بار یہ قصہ سنا تھا کہ پانی گھروں میں آ گیا اور عورتوں، بچوں کو پرانے سکھر میں آباد عزیز و اقارب کے گھر منتقل کرنا پڑا۔

وقت کی الٹ پھیر میں ہماری دیکھتی آنکھوں نے بنا بوند کے جولائی، اگست، ستمبر کو جاتے دیکھا اور سنتے کانوں سے سنا کہ بھارت نے دل بھر کے ڈیم بنا لیے ہیں اب دریاؤں میں پانی قدرت کے بجائے اس کی مرضی سے آتا ہے۔ تب دل نے اندر ہی اندر سوال کیا ہم نے اپنے لئے کیا، کیا ہے؟ یہ سوال برسوں سے ہمارے اندر کے نقار خانے میں گونجے جا رہا ہے پر دور نزدیک کوئی نہیں جو طوطی کی آواز سنے۔ بیسویں صدی کے آخری سالوں میں بادل ایک آدھ بار دل کھول کے برسے تو شہر کا شہر پانی میں ڈوبنے ابھرنے لگا، بجلی غائب، پانی کی دُہائی، لوگوں کی بے صبری اور خود غرضی کے قصے، سڑکیں بند، گلیاں نہریں، دکانوں، گھروں میں پانی اور پانی۔

ان بھولی بھٹکی بارشوں نے بتایا کہ نالے گھر بن گئے ہیں، پانی کی گزر گاہوں میں کوٹھیاں اور پلازے کھڑے ہیں، ندیوں کے دامن میں بستیاں بس گئی ہیں، گٹر اور نالیوں کو قبضہ مافیا کھا گیا، چائنا کٹنگ اور ایسی ہی دوسری کٹنگز شہر کا شہر کھا چکی ہیں۔ دنوں تو تو، میں میں کا بازار گرم رہا۔ اس بیچ اہل سندھ، پنجاب کو اور پنجاب خیبر پختون والوں کو مورد الزام ٹھہراتے رہے، مسئلے کو حل نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ وہ لہو جو آستینوں میں چھپا تھا، وہ منہ کو لگ گیا۔

2010 میں ایک بار پھر بادل دل کھول کر برسے تو سندھو دریا نے بھی انگڑائی لی اور پانی کو باہر اچھال دیا۔ پانی باہر کیا نکلا سب ہی کچھ باہر نکل گیا۔ گھروں کے مکین چھتوں پہ نکل گئے، بازار ڈوب گئے، ڈیفنس ہچکولے لینے لگا، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، میرپور سا کرو، مکلی اور ان کے آس پاس کی بستیاں ڈوب گئیں، جھگیاں بہہ گئیں لوگ سڑکوں پہ نکل آئے، رفاہی اداروں کی جانب سے شہر، شہر کیمپ لگ گئے، کھانا پانی ملنے لگا، اناج تقسیم ہونے لگا، لوٹ مار ہوئی نوبت مار دھاڑ تک پہنچی۔

ہم بھی ہسپتال سے دوائیوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ میڈیکل کیمپ کرنے پہنچے، ٹھٹھہ سے تھوڑے فاصلے پر، نیشنل ہائی وے کے بیچوں بیچ، دن دیہاڑے ڈنڈا بردار مغلظات کا استعمال کرتے ہوئے، کراچی شہر کو آنے والا آٹے کا ٹرک لوٹ رہے تھے اور پولیس سڑک کنارے کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ ہماری وین بھی سڑک کنارے رک گئی، پولیس نے واپسی کا اشارہ دیا، ڈرائیور ہوشیار تھا وہ ڈنڈا برداروں کے انتظار میں سڑک کنارے کھڑا رہا، دو ڈنڈا بردار آگے آئے اور مقامی زبان میں اس سے پوچھا کون ہو، کہاں جا رہے ہو، کیا لائے ہو؟

ڈرائیور ان کی زبان میں جواب دیتا رہا، گاڑی کو کھول کے دیکھا، سیلوٹ کیا اور گاڑی کو آگے جانے کا اشارہ دے دیا۔ آگے کے راستے میں آدھی ننگی، آدھی ڈھکی انسانیت سڑک کے کنارے کھڑی بھیک مانگ رہی تھی۔ ان میں سے کسی کو علاج معالجہ یا دوا دارو سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ انھیں پیسہ اور کھانا چاہیے تھا۔ تیسری دنیا میں رہنے والوں کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بھی یہ ہی ہے۔ وہ آدھی ڈھکی، ننگی انسانیت ہمیں بہت کچھ سکھا رہی تھی، بتا رہی تھی، جن کے گھر اُجڑ گئے تھے، ڈھور ڈنگر بہہ گئے تھے، آس پاس یا خاندان کا کوئی فرد پانی نگل گیا تھا۔

ان کے لئے ہماری دوائیں، باتیں بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھیں۔ مجھے وہ بوڑھا آدمی آج بھی یاد ہے، جس نے بلڈ پریشر کی دوا کا پتا یہ کہہ کے پھینک دیا تھا ”میرا بیٹا لاپتہ ہے، بکریاں بہہ گئی ہیں، بڈھی کا رو رو کے برا حال ہے، بیٹی کے شوہر کو ہفتہ بھر سے نشہ نہیں ملا وہ میرے سامنے اس کو مارتا ہے۔ میں اس دوا کا کیا کروں، مجھے موت دے دو“ ۔ اُس بوڑھے کی باتیں چوبیس کیرٹ سونے کی طرح کھری اور سچی تھیں۔ اس کے زندہ دکھوں کے آگے ہمارا عمل بے معنی تھا۔

ہم نے پانی میں ڈوبی اس مسجد کے کنارے جس کے میناروں کی نوکیں نظر آ رہی تھیں، لوگوں کو پینے کا پانی صاف کرنے کا طریقہ سمجھایا، صفائی کی دوا کے پیکٹ تقسیم کیے لیکن ان کا دکھ ہمارے روئی کے پھاہوں جیسے عمل سے بہت بڑا اور گہرا تھا۔ ہم سب واپسی کے سفر میں یہ ہی کہتے آئے کہ ”جلنے کی تکلیف جلنے والا ہی جانتا ہے“ ۔ 2010 کے سیلاب میں سندھو دریا نے پورے سندھ کو ہلا دیا تھا۔ عام خیال تھا کہ اس ہولناک تباہی اور زندگیوں کے جان سے چلے جانے کے بعد سندھ جاگتا رہے گا اگر جاگے گا نہیں تو کم از کم آنکھیں ضرور کھلی رکھے گا۔

اب پتا نہیں یہ روایتی بھنگ کا اثر تھا یا کچھ اور کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔ 2010 کے بعد آنے والے برسوں میں کوئی مون سون سوکھا نہیں گیا۔ دریائے سندھو کو پیٹ بھر پانی ملتا رہا اور آگے بہتا رہا پانی اتنا ہوتا ہے کہ سکھر، لاڑکانہ، سارے میرپور، خیرپور، شکارپور، حیدرآباد سے ہوتا، راستے کے گاؤں، گوٹھوں، فصلوں کو ساتھ لیتا کراچی تک پہنچ جاتا، اس بیچ لوگ روتے، دعائیں بد دعائیں دیتے ہیں پر وہ کسی سے آنکھ نہیں ملاتا۔

عجب کہانی یہ ہے کہ سندھو کی زد میں گاؤں گوٹھ، ڈھور ڈنگر تو بہت آتے ہیں لیکن آج تک کوئی سرکاری اہل کار، وڈیرہ جاگیردار نہیں آیا، یہ نہ خود مرتے ہیں نہ ہی ان کا کوئی عزیز رشتہ دار لپیٹ میں آتا ہے۔ حتیٰ کہ ٹھاٹھیں مارتا سندھو بھی ان سے آنکھ نہیں ملاتا اور دور دور سے گزر جاتا ہے۔ بات تو بہت شرم اور غیرت کی ہے کہ اب جتنی بڑی تباہی آتی ہے سرکار اتنا ہی خوش ہو کے بغلیں بجاتی ہے، بھنگڑے ڈالتی ہے اور نہ جانے کیا کیا کرتی ہے کیوں کہ بڑی تباہی بڑی بھیک کا سندیسہ بھی لاتی ہے۔

سرکار کے بھنگڑوں کے شور میں 2020 کا سال ایک بار پھر بھر پور ساون لایا۔ چند گھنٹوں میں سال بھر سے زیادہ کی بارش نے ندی، نالوں، گٹروں سب کے پیٹ پھاڑ دیے۔ شہر کا شہر تیر گیا، کوئی تباہی سی تباہی آئی۔ میرے اپنے گھر میں پانی یوں چہل قدمی کر رہا تھا جیسے یہ اس کا گھر آنگن ہو۔ میرا ریسکیو گھٹنوں سے اوپر پانی میں ہوا تھا۔ انگنت اموات ہوئیں۔ سینکڑوں گھر، گوٹھ صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے۔ کراچی ڈیفنس کے گھروں میں دنوں پانی اندر اور مکیں باہر رہے۔

گھروں دکانوں کے بیسمنٹ میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے۔ حسب معمول حکومتی حلقوں نے یہ ہو گا، وہ ہو گا کے قلابے ملائے اور ہاتھ جھاڑ کے بیٹھ گئے۔ ان کی ہو گا نہ ہو گا میں دو سال بیت گئے اور شہر ایک بار پھر 2023 میں ڈوب گیا۔ ڈوبے تو خیر گاؤں گوٹھ بھی، ہمیشہ کی طرح امدادی کیمپ لگے، خیرات بٹی، کاغذ کے گھوڑے اُدھر سے ادھر دوڑے، ہیلی کاپٹر اترے، زمیں کے سوکھے حصے پے کھڑے سرکاری افسران کو ہاتھ ہلاتے سب نے دیکھا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

2024 کا ساون بھادوں تھوڑا ہلکا گزرا۔ دنیا کے چار اُور واویلا مچا ہے کہ اس گول گول گھومتی دنیا کو شدید موسمی تغیرات کا سامنا ہے۔ آنے والے سالوں میں گرمی، سردی بہت شدید ہوگی۔ یہ تغیرات سیلاب، سونامی، زلزلے، بارش، اور خشک سالی کی شکل میں نمودار ہوں گے۔ اس کا ایک اظہار 2025 کا قبل از وقت شروع ہونے والا مون سون ہے۔ بارشوں کا سیلاب گزشتہ کئی ماہ سے ملک کے مختلف حصوں میں گھر داماد بنا ہوا ہے۔ سینکڑوں گھر، بستیاں، کھیت کھلیان، جانوروں کے گہوارے، مچھلیوں کے تالاب کوئی نشاں چھوڑے بغیر غائب ہو چکے ہیں۔ اتنے ہی جیتے جاگتے، ہنستے بولتے انسان موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلتیں۔ پتہ نہیں ہمیں کس سیلاب کا انتظار ہے! پتہ نہیں ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لئے بننے والا ادارہ کس لئے بنا تھا؟ کوئی ہے جو بتلائے گا!

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *