تعلیمثقافتقومیمتفرقمعاشرہ

رشتوں کی مارکیٹ: شادی یا بزنس ڈیل؟

تحریر: مبشرہ سلطان

یہ رشتوں کا سین بڑا ہی دلچسپ ہے، بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم شادی نہیں کر رہے بلکہ کوئی سپر مارکیٹ کا راؤنڈ لگا رہے ہوں۔ دائیں طرف لڑکیوں کے لیے ”پیکج آفرز“ ، بائیں طرف لڑکوں کی ”ڈیمانڈ لسٹ“ ، اور درمیان میں والدین ایسے گھوم رہے ہیں جیسے شاپنگ کارٹ کے ساتھ کنفیوز کھڑے ہوں کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ بس فرق یہ ہے کہ سپر مارکیٹ میں آفرز کی مدت ہوتی ہے، یہاں بس لڑکی اور لڑکے کی عمر کا کاؤنٹر چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے، واقعی یہ شادی ہے یا بزنس ڈیل؟

ہمارے ہاں شادی ایک عبادت، ایک ذمہ داری یا دو انسانوں کا ملن نہیں رہی۔ یہ ایک بزنس ڈیل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جہاں ہر چیز کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔ ”کیا پیکیج ہے؟“ ”ڈاؤن پیمنٹ کتنی ہے؟“ ”انسٹالمنٹ میں کیا کیا ملے گا؟“ اور سب سے مزے کی بات یہ کہ دونوں طرف کی ڈیمانڈز بھی کچھ کم نہیں۔ لڑکے کہتے ہیں کہ لڑکی خوبصورت ہو، گوری ہو، قد کاٹھ پورا ہو، تعلیم یافتہ بھی ہو، جاب بھی کرے، گھر بھی سنبھالے، اور جہیز بھی ساتھ لائے۔ لڑکیاں بھی پیچھے نہیں رہتیں، وہ فرماتی ہیں کہ لڑکا لمبا تڑنگا ہو، اسمارٹ ہو، اچھی جاب کرے، تنخواہ چھے ہندسوں میں ہو، فیملی چھوٹی ہو، اور کسی قسم کی انٹرفیرنس نہ ہو۔ مطلب دونوں طرف کی توقعات سن کر لگتا ہے جیسے رشتہ نہیں بلکہ کسی ڈرامے کے ہیرو اور ہیروئن کا انتخاب ہو رہا ہے۔ آپ بتائیے، زیادہ ڈیمانڈز کس طرف سے ہوتی ہیں، لڑکوں سے یا لڑکیوں سے؟

لڑکوں کی ڈیمانڈز پر آ جائیں تو وہاں ایک الگ ہی فلم چل رہی ہوتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ لڑکی ڈاکٹر ہونی چاہیے لیکن جاب نہ کرے، گھر پر بچوں کی دیکھ بھال کرے۔ کچھ کو انجینئر چاہیے لیکن ساتھ ساتھ کھانا پکانے میں بھی ایکسپرٹ ہو۔ اور ہاں، جہیز کی لسٹ تو ویسے ہی لازمی ہے۔ آج بھی پاکستان میں تقریباً 80 فیصد فیملیز جہیز کی ڈیمانڈ کرتی ہیں، چاہے زبان سے مانیں یا نہ مانیں، اشاروں کنایوں میں یہ توقع ضرور رکھتے ہیں۔ سادہ سا جملہ ہوتا ہے : ”جی ہمیں تو کچھ نہیں چاہیے، بس جو اپنے دل سے دیں گے“ ۔ اور دل سے دی جانے والی لسٹ تین صفحات پر مشتمل ہوتی ہے جس میں فریج، ٹی وی، واشنگ مشین اور کار بھی شامل ہوتی ہے۔ کیا آپ کے اردگرد بھی ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں؟

اب ذرا لڑکیوں کے مطالبات پر بھی نظر ڈالیں۔ وہاں بھی کوئی کم کہانی نہیں۔ لڑکی کو چاہیے کہ لڑکا کم از کم پانچ فٹ گیارہ انچ کا ہو، رنگ صاف ہو، شخصیت جاذب نظر ہو، جاب ملٹی نیشنل میں ہو یا بزنس مین ہو، تنخواہ یا آمدنی اتنی ہو کہ سال میں ایک دفعہ دبئی یا ترکی کا ٹرپ ہو جائے۔ اور ہاں، گھر علیحدہ ہو، ساس سسر بالکل مدھم کردار میں ہوں، اور فیملی چھوٹی ہو تاکہ ”زندگی صرف رومانوی دنیا میں گزرے“ ۔ ذمہ داری؟ وہ تو لڑکے کی ہے نا، لڑکی تو صرف خوش رہنے اور خوش رکھنے کے لیے آئی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب مطالبات حقیقت پسندانہ ہیں یا بس فلمی خواب؟

اب اس مارکیٹ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ رشتوں کے انتخاب میں انسان کی اصل شخصیت اور کردار کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جیسے ہم سی وی شارٹ لسٹ کر رہے ہوں۔ انٹرویو میں لڑکے سے پوچھا جاتا ہے : ”گھر اپنا ہے یا کرایے پر؟“ ”تنخواہ کتنی ہے؟“ ”بہن بھائی کتنے ہیں؟“ ”ماں باپ ساتھ رہیں گے یا الگ؟“ لڑکی سے سوال ہوتا ہے : ”کھانا پکانا آتا ہے؟“ ”جاب کرتی ہیں یا نہیں؟“ ”میریڈ لائف کے بعد جاب جاری رکھیں گی یا چھوڑ دیں گی؟“ یوں لگتا ہے جیسے یہ زندگی کا سب سے بڑا بزنس انٹرویو ہے۔

اسی سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی کی عمر پاکستان میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مختلف سوشل سرویز کے مطابق آج کل لڑکوں کی اوسط شادی کی عمر 28 سے 30 سال اور لڑکیوں کی 25 سے 27 سال کے بیچ ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ڈیمانڈز اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ میچ ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فیملی کورٹس کے ریکارڈ کے مطابق بڑے شہروں میں طلاق کے کیسز پچھلے دس سال میں تقریباً 30 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس بڑھتی ہوئی شرح کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ ڈیمانڈز یا برداشت کی کمی؟

ایک طرف لڑکے والدین پر بوجھ بنے بیٹھے ہیں کہ اچھا رشتہ نہیں ملا تو کیا کریں، دوسری طرف لڑکیوں کے گھر والے پریشان ہیں کہ جہیز، رسومات اور ڈیمانڈز کے بغیر رشتہ نہیں ہو رہا۔ یوں لگتا ہے جیسے سوسائٹی نے انسان کو انسان کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ پراڈکٹ کے طور پر پرکھنا شروع کر دیا ہے۔ مارکیٹ کے اصول لاگو ہو گئے ہیں : زیادہ خوبصورت ہو تو زیادہ ڈیمانڈ، زیادہ کمانے والا ہو تو زیادہ ویلیو۔ باقی انسانیت، کردار اور کمٹمنٹ؟ وہ سب ”بونس فیچرز“ کی کیٹیگری میں آ گئے ہیں۔

آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک ہم یہ مارکیٹ کا دماغ نہیں بدلیں گے، تب تک شادی ایک سودا ہی رہے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ زندگی کی خوشی جہیز یا تنخواہ کے ہندسوں میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے جذبے میں ہے۔ رشتے کچن کے سائز اور بیڈ روم کی لکیر سے نہیں بلکہ دو انسانوں کی سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے کے جذبے سے چلتے ہیں۔ ورنہ یہ مارکیٹ یونہی چلتی رہے گی، اور ہم سب انسانوں کو پیکجز کی طرح تولتے رہیں گے۔ تو ذرا سوچئے، آپ خود اگر آج کل رشتہ ڈھونڈنے نکلیں تو کیا سب تقاضے پورے کر پائیں گے یا پھر یہ مارکیٹ آپ کو بھی مسترد کر دے گی؟

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *