رشتے جو ختم ہوتے جا رہے ہیں
رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں رشتے جسم کے نہیں روح کے ہوتے ہیں رشتے مفاد کے نہیں ایثار کے ہوتے ہیں رشتے خوف کے نہیں احترام کے ہوتے ہیں رشتے موقع کے نہیں اعتماد کے ہوتے ہیں رشتے دماغ کے نہیں دل کے ہوتے ہیں اور ہم کبھی ثانی الذکر کو خاطر میں ہی نہیں لاتے، کتنے ہاتھ ہاتھوں سے صرف اس لیے چھوٹ جاتے ہیں کہ زبانیں اپنی اپنی انا کے حصار میں قید چند ہمدردی کے لفظ نہیں بول پاتیں وہ نہیں کہہ پاتیں جو دل میں ہو آنکھیں وہ نہیں دیکھ پاتیں جو پلکوں کے پیچھے نمی میں ہو کان وہ نہیں سن پاتے جو خاموشی نے کہا ہو اور پھر کتنے ہی ہاتھ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رشتوں کی لکیروں سے باہر ہو جاتے ہیں
دریا کے دو کنارے ایک ساتھ تو چلتے ہیں لیکن مل نہیں پاتے اسی طرح کتنے ہی رشتے عمر بھر ساتھ رہ کر بھی جدا رہتے ہیں اور اس سب کا ذمہ دار وہ ہچکچاہٹ اور جھجک ہے جو اس اظہار کو روکتی ہے کہ ہم کہہ دیں کہ چھوڑ کر جانے والو رک جاؤ ہم تمہارے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن یہ کہنے سے انا پہ آنچ آتی ہے ہمارے جھوٹے معیارات پہ حرف آتا ہے ہماری جھوٹی ساکھ کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ہم اکثر اپنے اپنے بنائے ہوئے زندان میں یونہی تنہائی کی زندگی گزار دیتے ہیں اور ایک اک کر کے ہمارے اپنے ہم سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں
دنیا کچرا ہے یا سونا بس اسی میں ہی اب زندگی گزارنی ہے اور اس زندگی میں ہم کمی کوتاہیوں کو دیکھیں یا پھر اس سے جڑے مثبت پہلوؤں کو، اس زندگی کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ اس کو گزارا نہیں بسر کیا جائے تو بہت سارے خوبصورت لمحے مشکل اوقات کو بھی آسانی میں بدل دیتے ہیں، ہاتھ چھوڑنے کی بجائے ہاتھ تھامیں ٹانگ کھینچنے کی بجائے قدم سے قدم ملائیں، حوصلہ شکنی کی بجائے ہمت بڑھائیں، محبتیں بانٹیں رشتوں کا احترام کریں ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور احساس کو زندہ رکھیں کہ یہی زندگی کی پہچان ہے
بہنیں بھائیوں سے جدا ہو رہی ہیں باپ بیٹوں سے خفا ہو رہے ہیں بچے ماں باپ کی تربیت سے دور ہو رہے ہیں بھائی بھائی کو مشکل میں دھکیل رہے ہیں راستوں میں کانٹے بچھائے جا رہے ہیں نفرتوں کو ہوا دی جا رہی ہے زخموں پہ نمک چھڑکا جا رہا ہے گھروں میں دیواریں اٹھائی جا رہی ہیں دریاؤں پہ بند باندھے جا رہے ہیں زمینیں بانٹی جا رہی ہیں رشتے کمزور کیے جا رہے ہیں خدا پر سے یقین اٹھ رہا ہے اور دنیا کی دلدل میں سب لوگ دھنستے جا رہے ہیں، شاید آپ کو ان سب مختلف سطروں میں تعلق نظر نہ آئے لیکن یہ سب ایک ہی کہانی کے روپ ہیں جو ان پہ واضح ہو سکتے ہیں جو اس کہانی کا حصہ رہے ہوں
میں صرف رشتوں اور تعلقات کو انسانی سوچ کے مطابق اس طرح سے دیکھتی ہوں کہ بغیر رسی کے بندھے یہ لوگ آپس میں اس طرح سے جڑے ہوتے ہیں کہ ان میں سے ہوا تک نہ گزر سکے، اس دریا کی لہروں کی طرح ہیں جن پہ تلوار کا وار بھی کریں تو لہریں الگ نہیں ہوتیں، اس جھونکے کی طرح ہیں جو ٹھنڈک کا احساس دلاتا ہے اس ستارے کی طرح ہیں جو مایوسی کے اندھیرے میں روشنی کا باعث بنتا ہے اس بارش کی طرح ہے جو صحرا اور تھل کی پیاس بجھاتی ہے اس درخت کی طرح ہے جو چھاؤں دیتے ہوئے ذات پات نہیں پوچھتا، اس ندی کی طرح ہے جو پیاس بجھاتی ہے، اس خواب کی طرح ہے جو نیند کے بغیر بھی آتا ہے، یہ سب کچھ ہمارے رشتے ہیں ہمارا خلوص ہیں ہمارا بھرم ہیں ہماری محبت ہیں ہمارا دین ہیں ہماری دنیا ہیں


