//رمضان کھانوں کی بہار کا مہینہ
dishes

رمضان کھانوں کی بہار کا مہینہ

ماہ صیام کی رعنائیوں میں روزہ افطار و سحری کا ایک مخصوص کردار ہے۔ کھانوں کی لذت ہمارے حواس پر چھا جاتی ہے اور گھر کی خواتین نت نئے پکوان کی تیاریوں میں لگ جاتی ہیں۔

افطار کا دسترخوان فن ذائقہ کا بہترین نمونہ ہے گو اس میں موسم کے لحاظ سے غذائیں تیار کی جاتی ہیں۔

اس مہینے کی بہار کا کیا کہنا۔ زہد و تقوی اپنی جگہ لیکن یہ مہینہ اجتماعی طور پر ایک دوسرے کو قریب لاتا ہے۔

افطار کے سامان سے سجے تھال ہمسایوں، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر بھیجے جاتے ہیں جبکہ بازاروں میں ظہر کی نماز کے بعد ہی افطار کے سامان بنانے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور دکانیں انواع و اقسام کے پکوانوں سے سج جاتے ہیں۔

٭ سورت میں کھاؤ پیو، کاشی میں مرو

٭ ’سجی کی لذت اس کے سادہ پن میں ہی ہے‘

افطار کے کچھ اصول ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو رمضان واقعی صحت مند زندگی کا عملبردار ہے۔

دن بھر خالی پیٹ رہنے کے سبب شوگر کی سطح کو بحال کرنا ضروری ہے اس لیے کھجور سے روزہ کھولنا بدن میں قدرتی شکر پیدا کرتا ہے۔

نمک سے افطار کرنا بھی اتنا ہی مفید ہے۔ موسم گرما میں نمک کی کمی کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ جسم کو چکناہٹ کی ضرورت ہوتی ہے پروٹین کی کمی کو پورا کرنا ہے، پیاس بجھانی ہے۔ لیکن افطار کے ساتھ ہی مشروبات سے پیٹ بھر لینا عقل مندی کا سودا نہیں۔

روزہ کشائی کے مرغن کھانوں کے بعد رات کے کھانے کی گنجائش نہیں رہ جاتی اس لیے ضروری ہے کہ افطار کا دسترخوان ہلکی غذاؤں پر مبنی ہو اور رات کا کھانا ترک نہ ہو۔

رمضان کھانوں کی بہار کا بھی مہینہ ہے۔ جو پکوان ہم سال بھر نہیں بناتے ہیں رمضان کے مہینے میں بنائے جاتے ہیں۔ اب افطار پارٹیاں عام ہیں اور ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت دوسروں کی دعوت سے بہتر ہو۔

شاید دو چار صورتیں اب بھی کہیں نہ کہیں ایسی ہوں گی جنھوں نے دہلی کے مسلمانوں کا نصف صدی پہلے کا تمدن دیکھا ہو جب رمضان المبارک کا اہتمام بڑے چاؤ سے کیا جاتا تھا۔

خواتین نے ظہر کی نماز ادا کی اور دالیں بھگو دیں تاکہ تین چار گھنٹوں میں ان کی سختی دور ہو جائے۔ عصر کے بعد خواتین باورچی خانے میں گھس جاتیں اور غریب سے غریب گھروں میں بھی افطار کی تیاریاں بڑے لگن سے ہوتیں۔

اس کے نتیجے میں روزہ کا مشکل وقت کام میں باآسانی گزر جاتا اور افطار کا دسترخوان دہی بڑے، دالیں، پھلکیوں، قلمی بڑے، پتے پالک، فیرنی، شربت کے کٹورے، تازہ موسمی پھلوں اور چاٹ وغیرہ سے بھر جاتے۔

سب سے پہلے افطار کا حصہ مسجد میں بھیجا جاتا تھا یا کسی غریب کو دیا جاتا تھا۔ مسجد میں ہر گھر سے آنے والے افطار کے سامان کو ملا دیا جاتا اور پھر انھیں تقسیم کیا جاتا۔

چھوٹے چھوٹے بچے افطاری لیتے ہی چلاتے ہوئے یہ کہتے بھاگتے:

‘روزہ والی روزہ کھولو’

اب سحری کا ذکر کرتے ہیں۔ اس وقت نہ الارم تھا نہ موبائل فون کی گھنٹی بجتی تھی۔گھر گھر سحری کے لیے جگانے والے ڈنڈا بجا کر آواز لگاتے: سحری کو اٹھو، غفلت چھوڑو۔‘

ان سحری میں جگانے والوں کی بھی دلچسپ کہانی ہے۔ مشرق وسطی میں یہ گلے میں ڈھول لٹکائے قرآن شریف کی آیتیں پڑھتے لوگوں کو گہری نیند سے جگاتے۔

کہا جاتا ہے کہ خلفائے عباسی کے عہد حکومت میں مصرکے خلیفہ الناصر نے سحری کے لیے جگانے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا۔

مصر کے حاکم عطیہ ابن اسحاق بذات خود یہ نیک کام انجام دیتے اور ثواب کماتے۔ قاہرہ کی گلیوں میں باآواز بلند کہتے تھے۔ نیند کے متوالو اٹھو، نہیں تو عبادت کا وقت نکل جائیگا۔

مجھے بخوبی یاد ہے کہ بمبئی کی گلیوں میں بھی سحری کے لیے اٹھانے والے زور زور سے دروازے پر دستک دیتے اور آواز لگاتے: سحری کو اٹھو، نیند سے جاگو، سحری کو اٹھو۔

دور حاضر میں یہ روایتیں کھو گئیں جن میں ایک رومان ہوتا تھا، گلیوں میں رونق ہو جاتی تھی اور گھروں کے چراغ روشن ہو جاتے تھے۔ رمضان کے اختتام پر سحری کے لیے جگانے والے اپنا انعام لینے کے لیے گھر گھر پہنچ جاتے۔

گلاب یادو اترپردیش کے مبارک پور کے باسی ہیں، وہ سال کے گیارہ مہینے دہلی میں کام کرتے ہیں اور رمضان کے لیے اپنے گاؤں چلے جاتے ہیں جہاں وہ لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کا کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے یہ کام شروع کیا تھا اور ان کے بعد ان کے بڑے بھائی اور وہ اس کام کو پوری لگن سے انجام دیتے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم کرتے ہیں۔

عصرحاضر میں دہلی کی جامع مسجد کے گرد و نواح میں رمضان واک کا آغاز بھی ایک دلچسپ قدم ہے۔ لوگ بڑے شوق سے اس میں شامل ہوتے ہیں اور افطار کے روایتی کھانوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔